Daily Mashriq

شکستہ پل حادثہ' مرتکبین غفلت کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے

شکستہ پل حادثہ' مرتکبین غفلت کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے


شانگلہ میں لکڑی کا شکستہ حال پل ٹوٹنے سے مسافر گاڑی کے دریا میں گر جانے کے باعث آٹھ افراد کے جاں بحق اور پانچ کے شدید زخمی ہونے کا واقعہ نہایت سنگین اوررنجیدہ ہے جس پر متعلقہ حکام کے خلاف سنگین ارتکاب غفلت پر مسافروں کو موت کے منہ میں دھکیلنے اور قتل کا مقدمہ درج کرنے کی ضرورت ہے۔بالائی علاقوں میں حادثات کی ایک بڑی وجہ سڑکوں کی تنگی اور خرابی' پلوں کی شکستگی' خطرناک اور نا مناسب موڑ کے علاوہ سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کا بہت پرانا اور ناقابل استعمال حالت بھی ہے لیکن اس ضمن میں متعلقہ اداروں اور حکام کی توجہ ہی جب مبذول نہیں ہوتی تو اصلاح احوال کی مساعی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بلا شبہ حادثات کی مکمل روک تھام تو ممکن نہیں لیکن ان اسباب اور وجوہات میں کمی لانے کی کوشش تو ممکن ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو درپیش خطرات میں ممکنہ کمی لائی جاسکے۔ حادثات کی وجوہات کا جائزہ لے کر ان کے تدارک کے لئے اقدامات پر توجہ کی ضرورت ہے۔ نجانے کتنے اور شکستہ پل صوبہ بھر میں موجود ہیں اور کتنی مزیدجانوں کے ضیاع کاخطرہ ہے۔ شانگلہ ہی میں حال ہی میں ایک شکستہ پل کی نشاندہی کرتے ہوئے ہم نے ممکنہ خطرے کی طرف توجہ دلائی تھی۔ اگر صوبائی حکومت نوٹس لیتی تو ممکنہ طور پر اس حادثے کی روک تھام ممکن تھی۔ حکومتی اداروں کی غفلت سے جاں بحق ہونے والوں کے ورثاء کو دیت ادا کیا جائے اور صوبہ بھر میں فوری طور پر تمام شکستہ پلوں کی مرمت و بحالی کاکام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے ۔ جن شکستہ پلوں کی فوری تعمیر و مرمت ممکن نہیں اس پر ٹریفک کی آمد و رفت بند کی جائے۔

اداریہ