Daily Mashriq

سعیدہ بی بی اور رمضان

سعیدہ بی بی اور رمضان

اس سال وفاق اور چاروں صوبوں کے بجٹ رمضان المبارک ہی میں پیش ہوئے اور منظور بھی ہو گئے۔ ہر بجٹ میں غریبوں کو ریلیف دینے کا وعدہ کیا گیا جو ہمیشہ کیا جاتا ہے۔ غریبوںکے لیے رمضان المبارک دہرا امتحان لے کر آتا ہے ۔ ایک تو حسبِ توفیق روزے کا اہتمام اوپر سے بچوں کا نئے کپڑوں اور جوتوں کے لیے اصرار ۔ حضرو کی سعیدہ بی بی کو بھی بچوں نے تنگ کیا ہوگا ۔ اس نے تین بچوں سمیت کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ چار چھ سال کے دو بچے تو جان سے گئے لیکن سعیدہ بی بی اور اس کی ننھی بچی کو لوگوں نے مرنے نہ دیا۔ سال کے بارہ مہینے ایسی سعید ہ بیبیوں کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں لیکن رمضان المبارک میں ایسی خبروں پردل میں ہوک ذرا زیادہ گہرائی سے اُٹھتی ہے۔
خبر کے مطابق ڈاکٹروں نے کہا کہ سعیدہ بی بی کی حالت ابھی خطرے سے باہر نہیں ہے' وہ بیان دینے کے لائق نہیں ہے۔ پتہ نہیں وہ بیان دینے کے لائق ہو سکے گی یا نہیں۔ لیکن سعیدہ بی بی اکیلی نہیں ہے ' اس جیسی نہ جانے کتنی بیبیاں یا بی بے ملک کے مختلف علاقوں میں زندگی سے شکست تسلیم کر لیتے ہیں۔ اور نہ جانے کتنے ہی خاموشی سے ریزہ ریزہ کم ہوتے جاتے ہیں ۔ رمضان المبارک کے مہینے میں امیروں کے خرچے بھی بڑھ جاتے ہیں ۔ زکوٰة و خیرات اور عطیات کے لیے بہت سے لوگوں کا ہاتھ کھل جاتا ہے۔ اب تو زکوٰة لینے پر بھی خرچ کیا جاتا ہے۔ زکوٰة و خیرات حاصل کرنے کے لیے ٹی وی پر اور اخبارات میں اشتہارات دیے جاتے ہیں اور سڑکوں پر بورڈ لگا دیے جاتے ہیں۔ ان سب پر خرچ ہوتا ہے۔ لیکن ان سب سے زکوٰة و خیرات کی آمدنی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
اشتہارمیں لکھا جاتا ہے کہ آپ کی زکوٰة و خیرات سے سال میںاتنے لاکھ مریضوں کا علاج کیا گیا۔ زکوٰة دیتے رہیے تاکہ مزید مریضوں کا علاج کیا جا سکے۔ لیکن یہ لوگ مرضوں میں کیوں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ زکوٰة و خیرات سعیدہ بی بی ایسے لوگوں کو پہنچنے کی بجائے عالی شان ہسپتال قائم کرنے میں اور ان کے ڈاکٹروں اور عملے کے اخراجات میںخرچ ہو جاتی ہے۔ اچھے لوگ۔ ان میں سے ممکن ہے کچھ ارب پتی بھی ہوں جو زکوٰة مانگتے ہیں اور غریبوںکے علاج پرخرچ کرتے ہیں۔ کیا پتہ ان ہسپتالوں کے منتظم ' ڈاکٹر اور عملہ کے ارکان سب اپنے فاضل وقت میں رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہوں ۔ اور ان ہسپتالوں کو اپنی آمدنی میں سے زکوٰة بھی دیتے ہوں لیکن ہمارے ڈاکٹر لوگ تو خود تنخواہ میں اضافے کے لیے ہڑتال کر رہے ہیں ۔ البتہ ان کی نظر سعیدہ بی بی تک نہیں جاتی کہ اس کے بچے عید کے کپڑے مانگتے ہیں۔ رمضان المبارک میں بھیک منگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہر سڑک پر ہر بستی میں نئے نئے بھکاری نظر آنے لگتے ہیں۔ سب کو اپنی قسمت کا کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے ۔ پاکستان کے لوگ دنیا میں سب سے زیادہ خیرات و عطیات دینے والے لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔
لیکن زمانہ اشتہار کا ہے جو لوگ جتنی زیادہ معصوم غریب شکل بنا سکتے ہیں یا جس قدر نیکی کا دعویٰ کر سکتے ہیں خیرات و عطیات میں سے اتنا ہی زیادہ حصہ وصول کر لیتے ہیں لیکن سعیدہ بی بی کے گھرانے کی طرف کسی کی نظر نہیں جاتی کیونکہ اس کا شوہر مزدوری کرتا ہے اور اسی میں گزر بسر کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان نہ صرف سب سے زیادہ خیرات و عطیات دینے والے ملکوں میں شامل ہے بلکہ سب سے زیادہ خوراک ضائع کرنے والا ملک بھی ہے۔ پاکستان میں40فیصد خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔ کچھ خوراک بچ جاتی ہے اور استعمال میںنہیں لائی جاتی۔ کچھ کچی خوراک بھی ضائع ہو جاتی ہے ۔ سارے ہی مسلمان ملکوںمیں رمضان المبارک کے مہینے میں طرح طرح کے اضافی کھانے بنائے جاتے ہیں اور ایک دوسرے گھرانوں کو بھیجے جاتے ہیں۔ جہاں پہلے سے ہی ایسا اہتمام ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 40فیصد کھانے پینے کی اشیاء ضائع ہو جاتی ہیں۔ پھر آج کل مختلف ٹیلی ویژن چینلز مختلف کھانے کے پروگرام نشر کرتے ہیںجن میں ایسے ایسے اجزاء ڈالے جاتے ہیں جو دوسرے ملکوں سے درآمد ہوتے ہیں۔ شاید ہی کوئی ٹی وی چینل ایسا ہو جو سادہ کھانے کی وکالت کرتا ہو۔ اس طرح ایک تو کھانا ضائع ہوتا ہے دوسرے کھانے کی تیاری پر زیادہ خرچ کو فروغ دیا جاتا ہے ۔ اگر آپ متمول آدمی ہیں تو بھی آپ کو خوراک ضائع کرنے کا کوئی حق نہیںہے۔ وہ کھانا جو آپ چند روپے دے کر خرید لیتے ہیں یا کچھ خرچ کرکے گھر میں تیار کر لیتے ہیں ، اس کی قیمت کیا صرف وہ چند روپے ہیں؟ وہ چند روپے لے کر آپ کہیں جنگل میں کھڑے ہو جائیے وہاںان کے بدلے آپ کو ایک نوالہ دینے والا بھی نہیں ملے گا۔ تب معلوم ہوگا کہ یہ خوراک جو ہم نے باسی کرکے گلا کے پھینک دی اسے زمین نے کتنے مہینوں میں اُگایا تھا۔ کس نے اسے پکایا تھا۔ اس میں جو مرچ مصالحے ڈالے گئے تھے وہ بھی فطرت نے ہمیں دیے تھے۔ یہ سب کچھ آپ چند روپوں سے نہیںخرید سکتے ۔ یہ اللہ کی نعمت ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اپنے گھروں میں خوراک کو ضائع ہونے سے بچا لیں تو بھوک سے کوئی نہیں مرے گا۔ آخر کون کہے گا کہ کھانا تیار کرنے کے سادہ اور صحت مند طریقے کیا ہیں اور کھانے کو ضائع ہونے سے کس طرح بچایا جا سکتا ہے۔ ہمارے ملک میں پچاس سے زیادہ یونیورسٹیاں ہیں کیا ان سے امید لگائی جا سکتی ہے کہ وہ ہمارے لیے خوراک کو ضائع ہونے سے بچانے کے طریقے ایجاد کر دیں اور زکوٰةو عطیات کو فصلی بھک منگوں اور اشتہار باز کاروباریوں کی بجائے باعزت طریقے سے واقعی مستحق لوگوں تک پہنچانے میں مدد کر سکیں۔ اور مزید سعیدہ بیبیوں کی جانوں کو غربت اور تنگدستی سے بچا سکیں۔

اداریہ