Daily Mashriq

خلیجی ممالک کے درمیان خلیج

خلیجی ممالک کے درمیان خلیج

نجانے مسلمان ممالک کی مصیبتوں اور تکالیف کاکب خاتمہ ہو گا۔ ایک کے بعد ایک بُری خبر سننے کو ملتی ہے۔ گزشتہ ہفتے چار عرب ممالک نے قطر سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے جس کے نتیجے میں خلیجی خطہ ایک بار پھر بحران کی زد میںآگیاہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ قطر اور سعودی عرب کے تعلقات میں ہمیشہ کشیدگی دیکھنے میںآئی ہے حالانکہ دونوںممالک کے عوام ایک جیسے مذہبی و مسلکی رجحانات رکھتے ہیں۔ 90کی دہائی میں بھی ان کے مابین کشیدگی رہی جب کہ 2014ء میںنوبت سفارتی تعلقات کے خاتمے تک پہنچ گئی ۔ قطر اور سعودی عرب اخوان المسلمون کے حوالے سے کبھی ایک صفحے پر تھے مگر عراق جنگ کے دوران اخوان کی قیادت اور نظریات سے سعودی عرب کی حکومت کاتصادم شروع ہوا۔ بتدریج یہ خلیج بڑھتی گئی ۔مصر میں صدر مرسی کی حکومت کے خاتمے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے باضابطہ مالی امداد دی اوریہ سعودی عرب اور قطر کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ بنی۔قطر اخوان المسلمون کی حکومت کاحامی تھا چنانچہ قطری حکومت نے سعودی ناراضگی کی پروا کیے بغیر اخوان کی مزاحمتی تحریک کی حمایت جاری رکھی۔ یوسف القرضاوی قطر کے سرکاری چینل الجزیرہ پر اخوان کے نظریات کی تبلیغ کرتے رہے اور قطر کی حکومت پر الزام لگا کہ وہ مستقل اخوان المسلمون کو مالی امداد فراہم کررہی ہے۔سعودی عرب اور قطر کے سفارتی تعلقات دوبارہ بحال اس وقت ہوئے جب قطر نے دس کے قریب اخوان رہنماؤں کو اپنے ملک سے بے دخل کیا۔ دو ڈھائی سال کاعرصہ گزرنے کے بعد آج حالات دوبارہ ویسے ہی ہوگئے جیسے 2014ء میںتھے۔ اس مرتبہ توخلیجی ممالک نے قطر کی زمینی و فضائی ناکہ بندی کااعلان بھی کیا ہے جوپہلے کبھی نہیںہوا۔ یقینا یہ بڑے سخت اقدامات ہیں چونکہ قطر اپنی غذائی ضروریات کے لیے درآمدات کامحتاج ہے۔ تازہ ترین خبر کے مطابق ایران نے خوراک سے لدے پانچ طیارے قطرروانہ کیے ہیں ۔قطر ایران کے بارے میںبھی قدرے مصالحانہ رویہ رکھتا ہے جو اس کے پڑوسی ممالک کو سخت ناگوار ہے۔ قطر اور ایران کے مابین گیس آئل فیلڈ کااشتراک ہی نہیںہے بلکہ بعض دیگر حوالوںسے بھی دونوں ممالک آپس میں نہایت قریب ہیں۔مثال کے طور پر فلسطین میں حماس کو دونوں ملک سپورٹ کرتے ہیں ۔ حماس کے رہنما خالد مشعال ایک عرصہ سے قطر میںمقیم رہے ہیں۔مصر میںصدر مرسی کی حکومت کے بھی دونوںملک حامی تھے۔ایران نے 30سال بعد 2011ء میںاس وقت اپناسفیر مصر میں مقرر کیاجب مصری انقلاب کے بعد صدر مرسی مسند نشین ہوچکے تھے۔ صدر مرسی نے بھی اپنا پہلا دورہ ایران کا کیا۔یہ تو ہیںچند تاریخی حقائق، اب آئیے اس جانب کہ سعودی عرب کو اس ساری صورت حال میںکیا مسئلہ ہے کہ وہ دیگر خلیجی وعرب ممالک کے ساتھ مل کر انتہائی اقدام اُٹھانے پر مجبور ہواہے۔ سعودی کا عرب بہار پر شروع دن سے ایک مؤقف رہا ہے اور وہ یہ کہ عرب بہار کے ذریعے مسلمان ممالک بالخصوص خلیجی ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے۔عرب بہار کی ابتدائً بظاہر خوش نماتھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ سعودی عرب کامؤقف درست ثابت ہوا۔اخوان المسلمون کی پذیرا ئی اپنی جگہ مگر جن دنوں صدر مرسی کی حکومت فوجی انقلاب کے ذریعے ختم کی گئی اس وقت مصر کی اپوزیشن اور عوام التحریر اسکوائر پر جمع تھی اور ملک میںخانہ جنگی کاماحول بنا ہواتھا۔ اس تفصیل میںجائے بغیر کہ صدر مرسی کے کن اقدامات کی وجہ سے حالات خراب ہوئے صرف اتنا عرض ہے کہ موجودہ حالات کی نزاکت کوسمجھتے ہوئے ہر اس سوچ اور عمل سے گریز کرناچاہیے جس پر کارفرما ہونے کا مطلب مسلمان ممالک میںعدم استحکام کی فضا پیدا کرنے کے مترادف ہو۔ سعودی قیادت بہار کے ردعمل میںجس کاؤنٹر ریولوشن حکمت عملی پر کاربند ہے اس کا مدعا اور مقصد انتشار کے ماحول سے نکل کر استحکام کی جانب بڑھنا ہے۔ اس حکمت عملی کاسب سے بڑا مظاہرہ مسلمان ممالک کی مشترکہ فوج کا قیام ہے ۔ اگر چہ اس فوج کا ایجنڈا دہشت گردی کے خلاف جنگ میںبروئے کار آنا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ اسلامی فوج کی تشکیل سے مسلمان دشمن قوتوںکے عزائم کی راہ میںرکاوٹ پیدا ہوگی ۔ سعودی عرب کاگھیرا تنگ کرنے کی عالمی سازش چند بنیادی حقائق سے واضح ہوتی ہے۔عراق میںسعودی عرب مخالف حکومت کاقیام اور یمن میں حوثی باغیوںکا اقتدار حاصل کرنے کا مقصد سعودی عرب کی زمینی سرحدوں کوغیر محفوظ بناناہے جب کہ نظریاتی اعتبار سے سعودی عرب کوان قوتوںسے لڑا کرکمزورکرنے کی کوشش کی گئی ہے جو سعودی عرب کی نظریاتی حلیف تھیںاور کسی ناگہانی صورت میں اندرونی دفاع کافریضہ سرانجام دے سکتی تھیں۔ یوں سعودی عرب کی قیادت نے دنیا کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے بہت بڑی قربانی دی ہے۔اس قربانی کی وجہ سے سعودی عرب کے وجود کوسنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں لیکن حرمین شریفین کے صدقے اللہ تعالیٰ سعودی عرب کی حفاظت فرمائے گا۔ دشمن کی خواہش ہوسکتی ہے کہ خدانخواستہ مسلمانوں کی مقدس سرزمین میںجنگ وجدل کی فضا ہو لیکن ہم یہ تصور بھی نہیںکرسکتے کہ سعودی عرب کسی طرح بھی عدم استحکام سے سے دوچار ہو۔ مگریوںلگ رہا ہے کہ پس پردہ بیٹھی ہوئی بعض قوتیں حالات کوسدھارنے کی بجائے ایسی جانب لے جاناچاہتی ہیںجس سے خلیجی خطہ میںمسائل بڑھنے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔

اداریہ