Daily Mashriq

سہرے کا ایک نایاب مطبوعہ نسخہ

سہرے کا ایک نایاب مطبوعہ نسخہ

ہمارے ایک محقق دوست کو پرانی نایاب کتابوں کی جمع آوری کا خبط کی حد تک شوق ہے' بس ان کا ایک نفسیاتی مسئلہ یہ ہے کہ ہم جیسے ادبی غریب غرباء کو ان تک رسائی کی اجازت نہیں دیتے۔ مردان کے سہ ماہی پشتو مجلے پاسون میں ان کا پشتو ڈرامے کے عنوان سے دو صفحاتی تحریر شائع ہوئی ہے جس میں انہوں نے کچھ ایسی کتابوں کی نشاندہی کی ہے جن کے قلمی یا مطبوعہ نسخے صرف ان کے پاس محفوظ ہیں۔ مضمون میں فاضل محقق نے ایک کتاب سہرے کے ایک مطبوعہ نسخے کی ملکیت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ یہ پشتو کے چھ مختصر ڈراموں کا مجموعہ ہے اور اس کے مصنف ریڈیو کے ابتدائی ایام کی ایک اہم شخصیت عبدالکریم خان مظلوم ہیں۔ یہ ڈرامے آل انڈیا ریڈیو سے 1930ء کی دہائی میں نشر ہوئے اور پھر یہ مجموعہ 1941ء میں دہلی سے شائع ہوا۔ ریڈیو ہمارے لئے ہمیشہ سے ایک رومانوی جزیرے کا درجہ رکھتا ہے۔ اس لئے اس ادارے کی نشریات اور ان سے وابستہ ہر یاد ہمیں بہت عزیز ہیں۔ جب ہمیں معلوم ہوا کہ سہرے کا ایک نایاب نسخہ ہمارے محقق دوست کے قبضے میں ہے تو بڑی خوشی ہوئی اپنے کچھ مشترکہ دوست ادیبوں کے ذریعے ان سے اس کی ایک فوٹو سٹیٹ نقل فراہم کرنے کی درخواست کی' براہ راست یہ جرأت اس لئے نہیں کی کہ ان سے مدتوں بعد سرراہ ہی ملاقات کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ ہمارا در دل ہی نہیں گھر کا دروازہ بھی ہر ادیب دوست کے لئے ہمیشہ کھلا رہتا ہے کہ پشتو ن ولی کا یہ ایک بنیادی تقاضا بھی ہے۔ مگر ہمارے یہ دوست اس معاملے میں بڑے روکھے اور محتاط رہتے ہیں خیر یہ ان کا ایک دوسر ا نفسیاتی مسئلہ ہے ہمیں اس سے کیا غرض؟ بتانا یہ مقصود تھا کہ سہرے کے مصنف عبدالکریم مظلوم کا شمار پشاور ریڈیو کے بنیاد گروں میں ہوتا ہے۔ ریڈیو میں آنے سے پہلے وہ خدائی خدمت گار تحریک کے مرکزی سیکرٹری تھے۔ پشاور ریڈیو کے پہلے انائونسر ہونے کا اعزاز انہیں حاصل ہوا۔ ڈرامے لکھے' صدا کاری کی ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پشتو کے مقبول ڈرامے د وینو جام جس کے مصنف محمد اسلم خان خٹک ہیں اس کی ریڈیائی تشکیل مظلوم نے کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ڈرامہ سٹیج پر بھی پیش ہوا۔ اس ضمن میں کوئی ٹھوس تحریری ثبوت موجود نہیں۔ اس کا موجودہ دستیاب مسودہ سٹیج ڈرامے کی فنی ضروریات پوری نہیں کرتا۔ بہر حال د وینو جام پشتو ڈرامے کے ایک ابتدائی نمونے کے طور پر ضرور تسلیم کیا جاتاہے اور اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اس کی تحریر و تدوین میں مظلوم کی کاوشوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ میری زیر تحریر کتاب د وینو جام یوہ مطالعہ میں ان تمام پہلوئوں پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے جیسے کہ ہم نے پہلے عرض کیا سہرے ڈرامے 1941ء میں دہلی سے شائع ہوئے۔ 1962ء میں ہمیں یہ کتاب پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا جو ہمارے مرحوم دوست شمس الرحمن نے ہمیں دی تھی۔ ہم نے پڑھنے کے بعد واپس کردی۔ چونکہ ہم اس زمانے میں ادب کے مبتدی تھے اس لئے سہرے کی اہمیت کا اندازہ اس وقت نہ لگا سکے۔ فوٹو سٹیٹ کی سہولت بھی موجود نہ تھی ورنہ ہم ضرور اس کی ایک نقل بنوا کر محفوظ کرلیتے یا پھر اس کا قلمی نسخہ تیار کرلیتے۔ زمانہ گزر گیا اب ہم اپنی اس کوتاہی پر صرف افسوس ہی کرسکتے ہیں ۔ ہم نے ایک بار مظلوم کے بیٹے نثار مظلوم سے بھی اس کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کتاب ان کی نظر سے نہیں گزری۔ یاد رہے نثار مظلوم ریڈیو میں پروڈیوسر تھے فوت ہوچکے ہیں۔ مظلوم کے دوسرے بیٹے مختیار احمد زاہد وہ بھی اب ہم میں موجود نہیں اپنے ایک مضمون زما پلار او ڈرامہ میں ( مطبوعہ ماہنامہ قند 1960) قدرے تفصیل سے سہرے کے ڈراموں کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس مجموعے میں پشتون' شاعر' بانڈیسے نائی' بیمہ ایجنٹ' تورہ بلا اور ایک دوسرا ڈرامہ جن کا نام انہیں یاد نہ تھا شامل ہیں۔ اس مضمون میں وہ دوسرے دو ڈراموں کورنے عدالت او د دوہ خزو خاوند کا بھی ذکر کیا ہے جو بقول ان کے انہیں گھر میں پڑے ایک بکس سے مسودات کی شکل میں دستیاب ہوئے۔ عبدالکریم کا ایک ڈرامہ ادبی جلسہ' قند کے ڈرامہ نمبر میں اشاعت پذیر ہوچکا ہے جس کا زاہد کے مضمون میں ذکر نہیں ملتا۔ میرا گمان ہے کہ یہ سہرے میں شامل پشتون شاعر ہوگا جسے قند میں ادبی جلسہ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔ یہ جدید آزاد نظم پر ایک بھرپور طنز ہے جسے کچھ نوجوان شاعروں اور رحمان بابا کی باہم گفتگو کے ذریعے اجاگر کیاگیا ہے۔ یہ ڈرامہ مظلوم نے آل انڈیا ریڈیو دہلی میں ملازمت کے دوران لکھا تھا۔ جدید آزاد کے معروف شاعر ن۔ م۔ راشد بھی ان دنوں وہاں پروڈیوسر تھے۔ رضا ہمدانی نے اپنے طویل مضمون با ادب با ملا حظہ مطبوعہ قند ڈرامہ نمبر 1960ء میں سہرے کے ڈراموں کی تعداد گیارہ بتائی ہے جو غلط ہے۔ پشتو کے چند بڑے محققین کے علاوہ بیشتر لوگوں نے مکھی پر مکھی مار کر اپنے زعم میں بہت بڑے تحقیقی کارنامے انجام دئیے ہیں۔ آج کل کی تحقیق میں بالعموم پرانی باتوں ہی کی جگالی کی جاتی ہے جس سے تحقیق کے بے شمار مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ تحقیق بالعموم تحریری شواہد پر مبنی ہوتی ہے مگر پشتو کی بیشتر تحقیقی کتابوں میں فن تحقیق کے بنیادی اصولوں کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا بالخصوص پی ایچ ڈی کی سطح کے پشتو مقالے بیان د سید آسیم دے' ہر چاتہ ئی ویلے' کا نمونہ ہوتے ہیں۔ اس موضوع کو ہم کسی دوسرے وقت کے لئے اٹھائے رکھتے ' کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سہرے کے بارے میں مختلف اندازوں کا ازالہ اور تصدیق تب ہی ممکن ہے جب موجودہ وقت میں اس کے واحد مطبوعہ نسخے کے مالک اسے انہی تمام تحقیقی صلاحیتوں سے بھرپور تعارفی مقدمے کے ساتھ دنیائے ادب کے سامنے پیش کردیں کہ یہ علمی دنیا کی دیرینہ روایت ہے اور ایک جینوئین محقق سے یہی تو قع رکھی جاسکتی ہے۔

اداریہ