Daily Mashriq

تاریخ یہ بھی ہے

تاریخ یہ بھی ہے

ونسٹن چرچل ایک نسل کش جنونی تھا ، جس نے طاقت کے بل بوتے انسانوں سے جینے کا حق چھینا ،انسانی کھوپڑیوں کے مینار کھڑے کئے اورکمزور ملکوں کے وسائل لوٹ کر اپنے ساتھ لے گیا ۔برطانیہ میںاسے قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہے، لیکن تاریخ ونسٹن چرچل کا اصل چہرہ دکھاتی ہے۔ 1897ء میں افغانستان میں وقت گزارنے کے دوران اس کا کہنا تھا کہ جو مزاحمت کریں گے انہیں لمحوں میں ختم کر دیا جائے کیونکہ پشتونوں کو نسل کی برتری سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم منظم طریقے سے آگے بڑھتے گئے ' ایک کے بعد ایک دیہات اور ہم نے گھروں کو تباہ کیا۔ کنویں بھر دیے، عمارتیں گرا دیں ' ہرے بھرے درخت کاٹ دیے، فصلیں جلا دیں اور تادیبی کارروائی میں ذخائر برباد کر دیے۔ اسی طرح 1899ء میں ساؤتھ افریقہ میں ہزاروں افراد کو بوٹر جنگ کے دوران حراستی کیمپوں میں بھیج دیا گیا' بوٹر جنگ کے دوران 27ہزار خواتین اور بچے اور 14ہزار سیاہ فام افریقیوں کو قتل کیا گیا اور اس ملک کی ثروت روٹشیلڈ خاندان کے حوالے کر دی گئی۔چرچل نے ساؤتھ افریقہ میں گزارے وقت کے بارے میں کہا کہ یہ ایک اچھا تیزی سے گزر جانے والا وقت تھا۔ جون 1906ء میں چرچل نے افریکنرز کی حکومت قائم کرنے کی حمایت کی ، جس کا مطلب تھا کہ سیاہ فام افراد ووٹ نہیں دے سکیں گے۔ چرچل نے فلسطین کو ہمیشہ کمتر سمجھا ۔ اس کا کہنا تھا کہ میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ کتا اپنے ڈربہ کا مالک ہوتا ہے' خواہ وہ اس ڈربے میں کافی عرصے سے رہ رہا ہو۔
چرچل کابا الفور اعلان(Balfour Declaration)فسطین کو یہودی اسٹیٹ بنانے کے لیے تھا۔ 1922ء کو چرچل کا ابن سعود کے بارے میں کہنا تھا کہ یہ بے جبر ہتھیاروں سے لیس اور خون کے پیاسے ہیں تو دوسری طرف اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ میری ان سے محبت گہری ہے کیونکہ یہ ہمارے وفادار ہیں۔ 1992ء سے قبل برطانیہ سعودی عرب کو سالانہ ساٹھ ہزار پاؤنڈ کی امداد دیتا تھا جسے اس وقت کے کلونیل سیکرٹری ونسٹن چرچل نے ایک لاکھ پاؤنڈ کر دیا تھا۔ 1920ء میں عراق کے کئی گروہ برطانیہ کے خلاف کھڑے ہو ئے تھے، تب چرچل کے حکم پرائیر فورس حرکت میں آئی اور آبادیوں پر بلاتفریق بم برسائے گئے۔ چرچل نے دم گھٹنے والے بم برسانے کا مشورہ دیا تاکہ چھوٹے قبیلوں سے عراق کا کنٹرول چھینا جا سکے۔ 1944ء میں چرچل کی ہندوستان سے نفرت نے بنگال کے قحط کے دوران 4بلین افراد کی جان لے لی۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے ہندوستان سے نفرت ہے۔ یہ جنگلی لوگ ہیں اور ان کا مذہب بھی جنگلی ہے۔ برطانوی فوج نے کئی ملین ٹن چاول قحط کے دوران بھوکے عوام سے چھین لیے جب کہ چرچل یہ کہتا رہا کہ قحط ان کی اپنی غلطی ہے کیونکہ وہ خرگوشوں کی طرح آبادی بڑھاتے ہیں۔ 944ء میں یونان میں برطانوی فوج نے چرچل کے احکامات پر ایتھنز کی سڑکوں پر قتل عام کیا' جہاں 28مظاہرین جاں بحق جب کہ 128زخمی ہوئے۔ برطانیہ نے یونان میں دائیں ہاتھ کی حکومت کا ساتھ دیا اور اپنے ہی حامیوں کا قتل عام کیا۔ 1952ء میں چرچل کا ماننا تھا کہ کینیا کے اچھی فصل پیدا کرنے والے علاقے یہاں آ کر بسنے وا لے گوروں کی جاگیر ہیں۔چرچل نے علاقائی افراد جنہیں وہ حبشی کہا کرتا تھا ' ان سے زبردستی زمینیں خالی کرانے کو جائز قرار دیا۔ ایک لاکھ 50ہزار افراد ، مرد وعورتیں اور بچے حراستی کیمپوں میں بھرتی کر لیے گئے۔ جنسی زیادتی ' تشدد ' بجلی کے جھٹکے ' جلتی سگریٹ سے داغنا جیسے غیر انسانی فعل کینیا کے عوام پر آزمائے گئے۔ 1953ء سے کئی دہائیوں تک چرچل نے ایرانی معاملات میں دخل اندازی کی اور ان کے قدرتی ذخائر چھین لیے جب کہ شدید غربت کے دور میں لوٹ مار کو فروغ دیا۔ جب ایران کی قوم پرست حکومت نے جس کے سربراہ محمد مصدق تھے نے برطانیہ کی دخل اندازی کی مخالفت کی تو چرچل نے مصدق حکومت کے خلاف 1953ء اگست میں فوجی بغاوت کا سہارا لیا، سامراجی ذہنیت میں پروان چڑھنے والے چرچل کو مصدق حکومت کا تختہ اُلٹنا مشکل نہیں لگا،مصدق حکومت کو گرانے کا مقصد یہ تھا کہ برطانیہ ایران کے معدنیات سے مستفید ہوتا رہے۔ ہم نے چند ایک ممالک کی مثالیں پیش کی ہیں ورنہ بیسیوں مثالیں موجود ہیں کہ جن میں عالمی طاقتوں کی کمزور ممالک کے معاملات میں بے جا دخل اندازی اور لوٹ مار واضح ہے،ان سطور سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زیر اثر پر تسلط قائم کرنے کی کہانی صدیوں پرانی ہے ،آج کی مہذب دنیا میں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ کھیل ختم نہیں ہوا ہے،بلکہ نئے انداز اور نئے کھلاڑیوں کے ساتھ آج بھی کمزور ممالک پر عالمی طاقتیں اپنا تسلط قائم کرنے اور انہیں اپنے زیر اثر رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اگر کوئی ملک قطر یا ایران کی طرح اپنی آزادی و خودمختاری کی بات کرتا ہے تو اس کے خلاف ساری عالمی قوتیں جمع ہو کر اقتصادی پابندیا ں عائد کر دیتی ہیں اور جو ملک عالمی طاقتوں کی غلامی پر تیار ہو جاتا ہے اسے اپنی کالونی بنا لیتے ہیں۔

اداریہ