Daily Mashriq


میں اب بھی ماضی کی گلیوں میں جانکلتا ہوں

میں اب بھی ماضی کی گلیوں میں جانکلتا ہوں

چند روز پہلے ایک خبر نظر سے گزری تھی کہ رات کے وقت شہر کے مختلف علاقوں میں فلڈ لائٹ ٹینس بال کرکٹ کے مقابلے شروع ہو گئے ہیں۔ اس قسم کے مقابلے کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ گزشتہ کئی برس سے عموماً نماز تراویح کے بعد شہر کی گلیوں میں نوجوان کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں ، پہلے وقت گزاری کے طور پر مختلف محلوں ، گلیوں اور کوچوں کے لڑکے بالے آپس ہی میں کھیل رچا کر سحری تک شغل میلہ کرتے تھے بعد میں کئی علاقوں میں اسے باقاعدہ ٹورنامنٹ کی شکل دی گئی اور مختلف علاقوں ہی کی کئی ٹیمیں ٹینس بال کرکٹ کے مقابلوں میں مد مقابل آنا شروع ہوگئیں ، یہاں تک کہ تراویح سے فارغ ہونے کے بعد بعض زندہ دل بزرگ بھی اپنے نوجوانوں کو حوصلہ افزائی دینے کیلئے آکر تماشائیوں کی حیثیت سے حاضری دینے لگے ، یوں گزشتہ چار پانچ سال سے باقاعدہ ایک معاشرتی تفریح کے طور پر یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس نے مجھے اپنے لڑکپن کے دور میں پہنچا دیا ہے جب اس قسم کے کرکٹ مقابلے تو نہیں ہوتے تھے البتہ رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی شہر کے مختلف علاقوں میں کیرم بورڈ کے مقابلوں کا اہتمام کرنے کیلئے انفرادی اور ڈبل کھلاڑیوں کے طور پر ان مقابلوں میں شریک ہونے والے باقاعدہ نام درج کرواکر رمضان کا انتظار کرتے ، تب تک کھلاڑیوں کے ناموں کی قرعہ اندازی کے طریقے پر مد مقابل کھلاڑیوں کے پینل ترتیب دیئے جاتے ۔ اوریوں یکم رمضان سے ان مقابلوں کی شروعات ہوتیں تمام متعلقہ کھلاڑیوں کو مقابلے کا شیڈول بروقت جاری کیا جاتا ۔ اس ضمن میں خصوصاًگھنٹہ گھر میں بعض بالا خانوں پر اس قسم کے کیرم بورڈ ٹورنامنٹ کا اہتمام بڑے قرینے اور سلیقے سے کیا جاتا۔ باقاعدہ ریفری مقرر ہوتے یوں ہر روز کئی کئی مقابلے (سنگل اور ڈبل ) ہوتے اور جیتنے والے کھلاڑیوں کے نام اگلے مقابلوں میں شامل ہو جاتے ، بقول عطاء الرحمن قاضی

بہت دنوں وہ رہا ہے اسی کھنڈر میں مقیم

سور کھ دیا ہے یہ دل بھی نوادرات کے ساتھ

میں اب بھی ماضی کی گلیوں میں جا نکلتا ہوں

پڑی ہے ٹاٹ پہ تختی قلم دوات کے ساتھ

بہت کم لوگوں کویہ علم ہوگا کہ کیرم بورڈ اور اس میں استعمال ہونے والی گوٹیں مع سٹرائیکر عام بازار میں دستیاب ہیں ، ان پر متذکرہ قسم کے مقابلے نہیں منعقد کرائے جا سکتے بلکہ یہ تو صرف ابتدائی طور پر کھیل سیکھنے کے لیے ہیں ، جبکہ میں جن مقابلوں کی بات کر رہا ہوں اس کیلئے کیرم بورڈ زیادہ مضبوط اور اس کے کناروں کی لکڑی عام کیرم کے مقابلے میں چوڑی ہوتی ہے ، اسی طرح بازار میں عام طور پر گوٹیں یا تو پلاسٹک کی بنی ہوتی ہیں یا پھر اگر لکڑی کی بھی ہوں تو وہ ہلکی پھلکی ہوتی ہیں اوراگر زیادہ زور سے ان کو ضرب لگا کر کھیلنے کی کوشش کی جائے تو وہ پاکٹ میں جانے کی بجائے اڑکر باہر جاگرتی ہیں ، جبکہ ماہر کھلاڑی اس مقصد کیلئے لکڑی کی خاص وزنی گوٹیں بنواتے ہیں۔ پشاور میں چوک شادی پیر سے کریم پورہ کی جانب سے جاتے ہوئے جہاںکسی زمانے میں نا بغہ روز گار ، ادیب ، شاعر ، محقق مرحوم سید فارغ بخاری کی دکان ہوا کرتی تھی اس سے چند دکانیں آگے ایک تو فٹ بال کے کھلاڑیوں کیلئے فٹ بال کے مخصوص بوٹ جن کے نیچے کیل لگے ہوتے بنانے والے کی دکان تھی جہاں شہر کے فٹ بالیوں کا ہر وقت جمگھٹارہتا ، اس سے آگے ایک ترکھان کی دکان تھی جو کیرم بورڈ کی گوٹیں ایک خاص قسم کی لکڑی سے بنا کر فروخت کرتا بلکہ اسے باقاعدہ آرڈر دیا جاتا تو وہ تین چار روز میں یہ گوٹیں تیار کرکے دے دیتا۔اسی طرح کھیلنے کیلئے جو Strickerہوتے وہ قصہ خوانی میں ایک جنرل سٹور سے دستیاب ہوتے اور لوگ وہیں سے اپنی پسند کے سٹرائیکرز خرید کر (بعض لوگ دو دو کو جڑ کر ) کھیل میں حصہ لیتے ، کیرم ٹورنامٹ روزانہ آگے بڑھتا اور رمضان کے آخری دنوں میں فائنل مقابلے ہوتے ، کیرم بورڈ کے یہ مقابلے تو خیررات کو منعقد ہوتے ، جبکہ دن میں اکثر دوستوں کی محفلوں میں تاش کی بازیاں جمتیں اور یوں روزہ ''مشغول '' کرنے کا اہتمام کیا جاتا ، شہر کے بہت سے علاقوں میں بیٹھکوں اور حجروں میں تاش کے مختلف کھیل کھیلے جاتے ، ان میں ترپ اور سویپ بطور خاص شامل تھے ، ایسی محفلیں بھی ہوتیں جہاں ایک جانب ترپ کی بازی جمی ہے تو دوسری جانب سویپ کھیلا جا رہا ہے ، اورہر ایسی جگہ پر دوسرے کھلاڑی محو انتظار رہتے کہ ایک گروپ ہارے تو ہ ان کی جگہ سنبھالیں ،کہنے والے کہتے ہیں کہ تاش میں سب سے دلچسپ کھیل برج Bridgeہے اور جو لوگ برج کھیلنے کے عادی ہوجائیں انہیں دوسرا کوئی کھیل مزہ نہیں دیتا ، جبکہ برج عموماً بڑے لوگوں کا کھیل کہلا تا ہے اور کلبوں میں خاص طور پر ریٹائرڈ ہونے والے افراد وقت گزاری کیلئے کھیلتے ہیں۔ اس کے بعد سویپ کی دلچسپی کی بات کی جاتی ہے اور عام لوگوں میں اس کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے چونکہ برج کی طرح اس میں بھی دماغ کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اور اگر کھلاڑی ماہر ہو تو وہ کھیلتے ہوئے مخالفوں کی بازی الٹنے میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے ، البتہ ترپ صرف پتو ں کا کھیل ہے اور جن کے پاس رنگ کے پتے زیادہ ہو ں تو وہ آسانی سے مد مقابل کو ہرا سکتے ہیں ، بہر حال یہ اس دور میں عموماً دن اور پھر افطاری اور تراویح کے بعد وقت گزاری کیلئے کھیلے جاتے تھے ، اب صرف (شاید ) ٹینس بال کرکٹ ٹورنامنٹ ہی رہ گئے ہیں ، جو نوجوانوں کیلئے دلچسپی کا باعث ہیں ۔

متعلقہ خبریں