Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات


حضرت ابو الغالیہ شامی کہتے ہیں جب حضرت عمر بن خطاب بیت المقدس کے راستہ میں جابیہ شہر میں پہنچے تو وہ ایک خاکی اونٹ پر سوار تھے اور ان کے سرکا وہ حصہ دھوپ میں چمک رہا تھا جہاں سے بال اتر گئے تھے ان کے سر پر نہ ٹوپی تھی اور نہ پگڑی ۔ اور رکاب نہ ہونے کی وجہ سے ان کے دونوں پائوں کجاوے کے دونوں طرف ہل رہے تھے انبجان شہر کی اونی چادر اونٹ پر ڈالی ہوئی تھی جب اونٹ پر سوار ہوتے تو اسے اونٹ پر ڈال لیتے اور جب نیچے اتر تے تو اسے بچھو نا بنالیتے اور ان کا تھیلا ایک دھاری دار چادر تھی جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ جب سوار ہوتے تو اسے تھیلا بنا لیتے اور جب سواری سے اترتے تو اسے تکیہ بنا لیتے اور انہوں نے دھاری دار کھدر کا کرتہ پہنا ہوا تھا جس کا ایک پہلو پھٹا ہوا تھا۔ حضر ت عمر نے فرما یا میرے پاس قوم کے سردار کو بلا کر لائو۔ لوگ وہاں کے پادریوں کے سردار کو بلا کر لائے حضرت عمر نے فرمایا میرے اس کُرتے کو سی کر دھو دو اور اتنی دیر کیلئے کوئی کپڑا یا کرتہ عاریتہ دے دو۔ وہ پادری کتان کپڑے کا کرتہ لے آیا حضرت عمر نے پوچھا یہ کونسا کپڑا ہے ؟لوگوں نے بتایا یہ کتان ہے حضرت عمر نے پوچھا کتان کپڑا کیا ہوتا ہے ؟ لوگوں نے اس کپڑے کی تفصیل بتائی حضرت عمر نے اپنا کرتہ اُتار کر اسے دیا ۔اس نے اس میں پیوند لگا یا اور دھو کر لے آیا حضرت عمر نے اس کا جو کرتہ پہن رکھاتھا وہ اتار کر اسے دے دیا اور اپنا کرتہ پہن لیا ۔اس پادری نے حضرت عمر سے کہا آپ عربوں کے بادشاہ ہیں ہمارے اس علاقے میں اونٹ کی سواری ٹھیک نہیں اور نہ آپ کا یہ کرتہ ٹھیک ہے اس لئے اگر آپ کسی اور اچھے کپڑے کا کرتہ پہن لیں اور ترکی گھوڑے کی سواری کریں اس سے رومیوں کی نگاہ میں آپ کی قدرو منزلت بڑھ جائے گی۔ حضرت عمر نے فرمایا ہم لوگوں کو اللہ نے اسلام کے ذریعے عز ت عطا فرمائی ہے لہٰذا اللہ کے (دین ) کے علاوہ کسی اور کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس کے بعد ان کی خدمت میں ایک ترکی گھوڑا لایا گیا اس پر کاٹھی اور کجاوے کے بغیر ہی ایک موٹی چادرڈال دی گئی وہ اس پر سوار ہوئے (وہ گھوڑا اکڑ کر چلنے لگا تو )حضرت عمر نے فرمایا اسے روکو اسے روکو (کیونکہ یہ شیطان کی طرح چل رہا ہے )اس سے پہلے میں نے لوگوں کو شیطان پر سوار ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا ، پھر ان کا اونٹ لایا گیا اور وہ گھوڑے سے اتر کر اسی پر سوار ہوگئے ۔ حضرت قیس کہتے ہیں جب حضرت عمر شام تشریف لائے تو وہ اونٹ پر سوار تھے۔ تمام لوگ ان کے استقبال کے لئے باہر آئے لوگوں نے کہا یہاں کے بڑے اور ممتاز لوگ آپ سے ملنے آئیں گے اس لئے اچھا یہ ہے کہ آپ ترکی گھوڑے پر سوار ہو جائیں ۔حضرت عمر نے فرمایا بالکل نہیں ۔ پھر آسمان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تم لوگ عزت یہاں سے یعنی زمین کے سامان سے سمجھتے ہو حالانکہ عزت تو وہاں سے (یعنی اللہ کے دینے سے) ملتی ہے میرے اونٹ کا راستہ چھوڑ دو ۔
(حیاةالصحابہ حصہ سوم)

اداریہ