Daily Mashriq


فضل اللہ کی ہلاکت

فضل اللہ کی ہلاکت

افغان صوبہ کنڑ میں فضل اللہ امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا اور جہاں وہ تحریک طالبان کا پہلا رہنما نہیں تھاجسے امریکہ نے ہدف بنایا تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کا کوئی سربراہ افغان سرزمین پر مارا گیا ہے۔ڈرون حملے میں مارے جانے والے ملا فضل اللہ کا شمار پاکستان کو انتہائی مطلوب دہشتگردوں میں ہوتا تھا جس نے پاکستان میں دہشتگردی کے انتہائی سنگین واقعات میں پس منظر میں رہتے ہوئے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان نے افغانستان میں اس کی موجودگی، مقام کی نشاندہی اور حکومتی سطح پر اس کو تحفظ فراہم کرنے کے شواہد پیش کرکے ایک سے زیادہ مرتبہ اس صورتحال کی مذمت کرتے ہوئے افغان حکام سے پاکستان کو اس کی حوالگی یا پھر اس کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا اور اس ضمن میں امریکی حکام سے بھی رابطے کیے تھے لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تھا تاہم رواں سال ہی امریکی محکمہ خارجہ نے ملا فضل اللہ سے متعلق اطلاع دینے پر 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں ہفتے ہی پاک فوج کے چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ نے افغانستان کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے افغان قیادت کیساتھ ساتھ افغانستان میں تعینات امریکی افواج کے نمائندہ جنرل نکلسن سے بھی ملاقات کی تھی جبکہ حال میں اعلیٰ سطحی امریکی حکام نے پاکستان سے باضابطہ طور پر یہ اپیل کی تھی کہ افغانستان میں طالبان اور حکومت کے مابین امن مذاکرات کیلئے امریکہ کو پاکستان سے مدد کی ضرورت ہے۔پاکستانی قوم کو مطلوب سب سے بڑے دہشت گرد ملا فضل اللہ کی افغانستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت عیدالفطر کے موقع پر پوری قوم اور خاص طور پر ان متاثرہ خاندانوں جن کے معصوم بچے اور عزیز واقارب ان کی سر کردگی میں دہشت گردی کا نشانہ بنے ۔سیانے کہتے ہیں کہ کسی دشمن کی موت پر خوشی نہیں منانی چاہیئے لیکن ملا فضل اللہ ایک ایسا دشمن تھا کہ جس کی ہلا کت پر خوشی ومسرت کے جذبات کا از خود لبریز ہونا فطری امر ہے ۔ سچ ہے کہ ہر فرعون وقت آخر کا ر انجام سے دوچار ہوتا ہے اس کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے پر اطمینان کا اظہار نہ کرنے کی کوئی وجہ تو نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کو نشانہ بنانے میں اس قدر تاخیر کیوں کی گئی بہر حال بہت عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ مسئلہ موجود تھا، دونوں ممالک کے عسکریت پسندوں نے ایک دوسرے کے ممالک میں پناہ لے رکھی ہے اور پاکستان کو بہت زیادہ شکایت تھی کہ ٹی ٹی پی، افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرتا ہے۔ اب ملا فضل اللہ کی ہلاکت سے بہت حد تک تسلی وتشفی ہونا فطری امر ہے ۔ ملافضل اللہ کو نشانہ بنانے کا واقعہ اچانک رونما نہیں ہوا بلکہ دیکھا جائے تو ایک ماحول کے بننے اور ممکنہ ڈیل کے ہونے کے بعد ہی اسے نشانہ بنایا گیا وگرنہ اس کو اس سے قبل نشانہ بنانا ناممکن نہ تھا دیکھا جائے تو افغان حکومت کی فائر بندی کی پیشکش کو افغان طالبان کا قبول کرنا اور پھر پاکستان کو مطلوب دہشت گرد کو ہلاک کیا جانا مثبت پیش رفت ہے۔پاکستان کئی سال سے افغانستان اور امریکہ سے یہ مطالبہ کر تا آیا ہے کہ ملا فضل اللہ، جس نے افغانستان میں پناہ لے رکھی تھی، کیخلاف کارروائی کی جائے۔مگر امریکہ ایسا کرنے پر آمادہ نہ تھا جس سے دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی فضا اور شکوہ شکایات فطری امر تھے جبکہ امریکہ کو بھی پاکستان سے اس قسم کی شکایات رہی ہیں ۔ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعداب پاکستان پر بھی دبائو بڑھے گا کہ پاکستان امریکہ کے تحفظات اور مطالبات پر غور کرے لیکن فضل اللہ کی ہلاکت یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ پاکستان اور امریکہ میں بات چیت ہو رہی ہے اور تعاون بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔جس سے مثبت نتیجہ اس طرح سے متوقع ہے کہ پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں حتمی کردار ادا کرے۔افغان طالبان کی عید کے موقع پر تین دن کی فائر بندی کا اعلان اور اب پاکستان میں حملوں کے لیے مطلوب فضل اللہ کی ہلاکت، یہ پیش رفت ظاہر کرتی اس تناظر میں اس امر کا بھی امکان ہے کہ مستقبل میں افغان طالبان اور کابل حکومت کے درمیان مذاکرات شروع ہوں جس میں پاکستان کا کردار اس لیے کافی اہم ہو گا کیونکہ افغان طالبان کے بہت سے رہنما پاکستان میں موجود ہیں۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہت خراب ہیں لیکن امریکہ اور پاکستان کے بہت زیادہ مشترکہ مفادات بھی ہیںملافضل کی ہلاکت ، طالبان کی عید پر جنگ بندی ، جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ افغانستان اور اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ اور آرمی چیف کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ اور تعاون پر بات چیت جیسی پیشرفت سے اس امر کی توقع کی جا سکتی ہے کہ خطے میں قیام امن کیلئے مختلف فریقوں اور مفادات کی حامل قوتوں میں عدم اعتماد کی کیفیت کی جگہ اعتماد پر مبنی حالات جگہ پارہے ہیں۔ ایسا کرنے کی زیادہ ضرورت اس لئے بھی ہے کہ افغانستان میں داعش کی صورت میں ابھرتی ہوئی قوت افغانستان کی حکومت ، طالبان اور پڑوسی ممالک کیلئے بھی چیلنج بن رہی ہے جس سے نمٹنے کیلئے آگ اور پانی کے ملاپ کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اس قضیے کے باعث معاملے کے تمام فریقوں کی کھنچا تانی بھاری جانی نقصان طویل کوششوں اور وسائل کے بے تحاشا استعمال کے باوجود پلڑا کی کسی فریق کے حق میں جھکا یا نہیں جا سکا اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے۔ افغانستان کے مسئلے کا واحد حل ساری قوتوں کیلئے قابل قبول حل کی تلاش ہی رہ گیا ہے اور جس کا متعلقہ فریقوں کو اب بخوبی احساس ہو چکا ہے یا پھر حالات نے سمجھا دیا ہے یا حالات کے باعث وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اس سے آگے بڑھنا ممکن نہیں رہا ۔

متعلقہ خبریں