Daily Mashriq


موسمی پرندوں کیلئے کارکنوں کو ناراض کرنے کی سیاست

موسمی پرندوں کیلئے کارکنوں کو ناراض کرنے کی سیاست

گوکہ مفادات کیلئے وفاداریاں تبدیل کرنے اور اقتدار کی امید پر اپنی جماعت سے علیحدگی اختیار کر کے چڑھتے سورج کے پجاری بننے والوں کیلئے اب تک لوٹے کی اصطلاح مستعمل تھی مگر اب ان کیلئے ایلیکٹبلز کی انگریزی اصطلاح استعمال ہونے لگی ہے جسے اردو میں جیتنے والے گھوڑے کہا جاتا ہے یہ مرغان بادنما اقتدار پرستوں کا ایک ٹولہ ہوتا ہے اس ٹولے کا استعمال کرنے کا الزام صرف تحریک انصاف کو دینا درست نہیں قبل ازیں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) دونوں ان لوٹوں سے استفادہ کرچکے ہیں۔ جہاں تک نظریاتی اور جماعتی وفاداریاں نبھانے والوں کا تعلق ہے وہ لوگ ناگزیر ہونے پر ہی پارٹی بدلتے ہیں جس کی گنجائش ہے لیکن محولہ قسم کے عناصر کیلئے گنجائش نہیں ہونی چاہیئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایک فعال سیاسی جماعت کے طور پر تحریک انصاف کی معروف سیاسی جماعتوں کی وکٹیں گرانے کے لئے مساعی اور ان کو کار گر بنانا پی ٹی آئی کو مزید مقبول اور مضبوط بنانے کی کوششوں کاحصہ ضرور ہے لیکن ان مساعی کے باعث تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنوں کی شکایات سے صرف نظر کرنا پارٹی کے حق میں بہتر نہیں بہر حال اس کے باوجود ا س سیاسی عمل کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن موسمی پرندوں کا سیاسی جماعت کو مضبوط بنانے میں کردار یقینی نہیں ہوتا۔ سیاسی جماعتیں جیتنے والے گھوڑوں کی تلاش میں کامیاب تو ہو جاتی ہیں مگر اس کی قیمت اپنے مخلص اور پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ قسم کے کارکنوں کی دل شکنی ناراضگی یہاں تک کہ علیحدگی جیسے انتہائی اقدام کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ انتخابات کے لئے موسمی پرندوں کی اڑان اگر غیر مشروط اور چنے جانے والی جماعت کے منشور و کارکردگی سے متاثر ہو کر ہو تو تبھی تو یہ ایک موزوں سیاسی عمل ٹھہرتاہے لیکن عموماً سلام روستائی بے غرض نیست والا معاملہ ہوتاہے۔ ہر جیتنے والے گھوڑے سمجھے جانے والے شمولیت کنندہ کی شرط اپنے حلقے سے انتخابی ٹکٹ کا اجراء ہوتاہے جس پر عموماً سیاسی جماعتیں رضا مند ہوتی ہیں یا پھر سمجھوتہ کرلیا جاتا ہے خواہ وہ مسلم لیگ(ن) ہو یا پی پی پی یا پھر تحریک انصاف یا کوئی اور جماعت اگر ان کی قیادت اصولی طور پر اس امر کا فیصلہ کرے کہ اگر حلقے کے دیرینہ اور مخلص کارکنوں کی مشاورت ان کے حق میں ہوئی تو ان کو انتخابی ٹکٹ کا اجراء ضرور ہوگا لیکن اگر کارکنوں کی بڑی تعداد مخالفت پر اتر آئے تو قیادت اپنا فیصلہ مسلط نہیں کرے گی کا طریقہ کار اختیار کیاجائے تو یہ نہ صرف خود ان سیاسی جماعتوں کے اپنے حق میں بہتر ہوگا بلکہ ملک میں اصولی سیاست کے فروغ کا بھی باعث ہوگا جس سے ملک میں جمہوری کلچر پر وان چڑھے گا اور اصولی سیاست مضبوط ہوگی۔ جو لوگ انتخابی نشست کی کامیابی کے لالچ میں سالہا سال سے سیاسی وابستگی کو لات مارنے سے نہیں ہچکچاتے ایسے نو واردوں سے کسی سیاسی جماعت کو خیر کی امید نہیں رکھنی چاہئے اور نہ ہی ایسے عناصر سے حلقے کے عوام کے مسائل کے حل کی امید کرنا حقیقت پسندانہ امر ہوگا۔ الیکن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایک ایسا قانون لا گو کرنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ایک سال سے کم وابستگی رکھنے والے کو اس جماعت کا انتخابی نشان جاری نہیں کیاجاسکے گا جس طرح وفاداریاں تبدیل کرنے پر اسمبلی میں فلور کراسنگ کے رولز لاگو ہوتے ہیں۔ اس طرح سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی انتخابات کی آمد اور گزرنے تک اپنی سیاسی جماعت چھوڑ کر کسی دوسری جماعت میں شامل نہیں ہوسکیں گے اور اگر شمولیت اختیار کرلیں تو ان کو جماعت کاانتخابی امیدوار نہیں بنایا جا سکے گا۔ اگر ان پتھروں پر چل کے بھی کوئی دوسری سیاسی جماعت کی راہ دیکھ لے تو ان کی نیت پر شک کی گنجائش نہیں ہوگی وگرنہ موسمی پرندے اور لوٹے ہی ٹھہریں گے۔اس قسم کے عناصر کو کھپانے کیلئے جو جماعتیں اپنے دیرینہ اور نظریاتی کارکنوں کو ٹکٹوں کے اجراء اور پارٹی معاملات میں نظر انداز کررہی ہیں ان کو سوچنا چاہیئے کہ اپنوں کی مخالفت مول کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے کی تگ ودو کس حد تک درست ہے اور اس کا انجام کیا ہوگا ۔

متعلقہ خبریں