عید کے چاند میں ''اک''روز ابھی باقی ہے

18 جون 2018

پاسباں مل گئے کعبے کوصنم خانے سے ماشا وکلا اس موضوع پر جس کا ذکر آگے آنے والا ہے ، اس بار میں قلم اٹھانے سے گریز ہی کرتا رہا حالانکہ موسمیات والوں نے گزشتہ بارہ پندرہ روز کے دوران بار بار یوٹرن پہ یوٹرن لیتے ہوئے کئی بار موقف تبدیل کیا اور کبھی 29روزوں اور کبھی 30روزوں کی پیشگوئیاں جاری کیں جس پر میرے اندر کے کالم نگار کی ''رگ شرارت'' پھڑکتی رہی مگر میں خود پر جبر کر کے اشہب قلم کو روکنے کی کوشش کرتا رہا ۔ اب کی بار خود کو روکنے میں بہت حد تک کامیاب ہونے کے باوجود جب گزشتہ روز سوشل میڈیا پر دو پوسٹیں وائرل ہونے اور ایک اور پوسٹ میں (سرکاری کمیٹی کے مطابق پہلی کے چاند) کی تصویر فیس بک پر شیئر ہونے کے بعد جو واضح طور پر دوسری کا چاند تھا ۔ بہ امر مجبوری ایک بار پھر قلم اٹھانے پر مجبور ہوا ۔ جن دو پوسٹوں کے وائرل ہونے کی بات میں نے کی ہے ان میں ایک تو راولپنڈی چاندنی چوک کے ایک رہائشی عامر منہاس نام کے شہری کی ہے جس میں انہوں نے خود ہی جمعرات کے روز مغرب کے وقت ہلال عید دیکھنے اور ازاں بعد اپنے دو بیٹیوں کو بھی چھت پر بلوا کر ہلال عید کا نظارہ کروانے کی بات کی ہے جبکہ بقول ان کے انہوں نے رویت ہلال کمیٹی کو بار بار فون کر کے اطلاع دینا چاہی مگر کوئی بھی فون نہیں اٹھا رہا تھا ۔ دوسری پوسٹ ایک مولانا صاحب ہشام الٰہی ظہیر کی ایک تقریر پر مبنی ہے (یہ دونوں پوسٹیں فیس بک ، وٹس ایپ ، میسنجر پر وائرل ہیں اور آسانی سے دیکھی جا سکتی ہیں ) اپنی تقریر میں ہشام الٰہی ظہیرنے اس بات پر شدید تنقید کی ہے کہ مفتی منیب الرحمن صرف مسلکی تعصب کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کی شہادتوں کو ہمیشہ رد کر دیتا ہے ، بلکہ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ بعض حلقوں میں پختونوں کے حوالے سے لطیفے گھڑے جاتے ہیں اور انہیں حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ، مولانا موصوف نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ خطے کے ممالک میں پاکستان کے دائیں بائیں متعدد ملکوں میں تو چاند نظر آجاتا ہے مگر جیسے ہی یہ پاکستان پہنچتا ہے اچانک غائب ہوجاتا ہے۔بد قسمتی سے ہماری حیثیت تو پشتو محاورے کے اس غریب ملا کی سی ہے جس کی اذان پر کوئی کلمہ پڑھنے کو بھی تیار نہیں ہوتا ۔ اس لئے جب بھی اس موضوع پر گزشتہ برسوں میں قلم اٹھایا اس کا کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا ۔ یہاں تک کہ ہمارے اپنے شہر پشاور کی آبادی کے ان لوگوں نے بھی ہمیشہ سرکاری کمیٹی کے فیصلوں کو اہمیت دی جوگھروں میں ہندکو زبان بولتے ہیں ۔ اس کی بھی وجہ نہایت محتاط اندازے کے مطابق یہی قرار دی جاسکتی ہے کہ صوبے میں جو کمیٹیاں رویت ہلال کے حوالے سے فیصلے کرتی ہیں ان میں غالب اکثریت پشتو بولنے والوں کی ہوتی ہے ، باوجود یکہ مسجد قاسم علی خان کے مفتی شہاب الدین کے خاندان کا تعلق بھی ہندکو بولنے والوں سے ہے اور ان کے دادا مفتی سرحد کے منصب جلیلہ پر انگریزوں کے دور سے فائز رہے ہیں اور ماضی میں اہل پشاور بنا ء کسی لسانی یا مسلکی تفریق کے ان کی بات پر لبیک کہتے ہوئے رمضان کے روزے اور عید الفطر منانے پر بلا کم وکاست عمل کرتے رہے ہیں۔ تاہم بد قسمتی سے جب سے مرکزمیں کمیٹی کا قیام عمل میں آیا ہے یہ مذہبی تفریق بڑھتی جارہی ہے ، اور خصوصاً جب سے مفتی منیب الرحمن ( گزشتہ بارہ تیرہ سال سے ) اس کمیٹی کے سربراہ بنائے گئے ہیں تب سے تعصب میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، موصوف پاکستان کے کسی بھی علاقے کی شہادت قبول کرنے کوتیار ہو جاتے ہیں لیکن پختونوں کے علاقوں سے ملنے والی شہادتوں کو پرکاہ کے برابر اہمیت دینے کو تیار نہیں ہوتے اور بہ یک جنبش قلم ان شہادتوں کو مسترد کر کے تفرقہ پیدا کردیتے ہیں ۔ جس پر کم از کم اب پہلی بار پنجاب ہی سے ایک تو انا آواز علامہ ہشام الٰہی ظہیر کی صورت جبکہ رویت ہلال کی گواہی راولپنڈی کے عامر منہاس کی شکل میں سامنے آنے اور ہلال عید کی (دونوں کی واضح تصویر) فیس بک پر پوسٹ ہونے کے بعد سرکاری کمیٹی میں بیٹھے ہوئے نابغہ روز گار علمائے دین کی کارکردگی پر ایک بار پھر سوال اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ تاہم یہاں ایک اہم سوال ضرور اٹھتا ہے کہ گزشتہ کئی برس سے مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو جس طرح تضحیک کے نشانے پررکھا جارہا ہے اس کا جواز کیا ہے کیوں کہ شہادتیں تو صوبے کے دور دراز علاقوں سے وصول کی جاتی ہیں ، اور چلئے گزشتہ برسوں کو تو جانے دیجئے اب کی بار چارسدہ ، تیمر گرہ ، شوہ اڈہ صوابی ، لنڈی کوتل ، سرائے نورنگ ، رستم ، مردان ،باجوڑ ، سفید ڈھیری ، بڈھ بیر اور بنوں سے شہادتیں وصول ہوئیں ، اس کے علاوہ چارسدہ میں مولانا صاحب حق استاد جبکہ مردان میں بھی رویت ہلال کمیٹیاں چاند کا فیصلہ کرتی ہیں ، کیا اتنے علاقوں سے ساری شہادتیں جھوٹی ہوتی ہیں اور یہ لوگ جان بوجھ کر حلف اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کا ایک فرض روزہ خراب کرتے ہیں ۔ پھر علمائے کرام اور مفتیان عظام ان شہادتوں کی شرعی بنیادوں پر باقاعدہ تصدیق کرکے ہی فیصلہ صادر کرتے ہیں ، مگر مفتی منیب الرحمن بقول علامہ ہشام الٰہی ظہیر ان شہادتوں کو صرف مسلکی بنیادوں پر رد کر کے اور اپنی دکان جلد ازجلد بند کر نے پر کیوں تلے رہتے ہیں ، اور بقول وکیل انجم رانا یہ سوچتے ہیں کہ

عید کے چاند میں ''اک '' روز ابھی باقی ہے

اپنے چہرے سے دوپٹہ نہ سر کنے دینا

گزشتہ برس بھی رویت ہلال کمیٹی کی از سر نو تشکیل کا سوال اٹھاتھا او رسینیٹ میں اس پر بڑی لے دے ہوئی تھی۔ مگر خداجانے مفتی منیب کی پشت پر کونسی ''طاقتور لابی '' کام کر رہی ہے جو اتنی مدت سے متنازعہ فیصلے قو م پر صادر کرنے کے باوجود انہیں اس منصب سے الگ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنادیتی ہے ۔ اور لاکھوں لوگوں کے روزے اور عید لگ بھگ ہر سال خراب ہوتے رہتے ہیں ۔

مزیدخبریں