Daily Mashriq


پیسکو کی عیدی

پیسکو کی عیدی

رمضان کا مہینہ گزر گیا اور عید بھی تمام ہوئی اور اگر ٍآج کل کسی چیز کودوام حاصل ہے تو وہ ہے لوڈشیڈنگ ۔پیسکو نے شہاب الدین پوپلزئی والی عید کے پہلے روز مکمل شرافت کا مظاہرہ کیا اور ایک منٹ کے لیے بھی بجلی نہیں گئی ۔جبکہ مفتی منیب کی عید کے پہلے روز سے ہی بجلی کی بے وفائیوں کاسلسلہ شروع ہوگیا ۔جو تاحال جاری ہے گزشتہ رات خوب بارش برسی ،پہلے قطرے کے برسنے کے ساتھ ہی دھڑکا لگا کہ بجلی اب گئی اور اب گئی اور پھر ہونی ہوکے رہی ۔چار پانچ گھنٹے فراق کا عالم رہا صبح چھے بجے واپسی ہوئی موصوفہ کی اور پیسکو والوں کا ان چار گھنٹوں سے دل نہیں بھر اکہ آٹھ بجے پھر روٹین کی لوڈشیڈنگ کرڈالی ۔انٹر نیٹ پر پیسکو کے ہر فیڈر کے لائن لاسز کی تفصیل موجود ہے ۔ جس علاقے میں جتنے لائن لاسز موجود ہوں ان علاقوںکو اسی تناسب سے لوڈ شیڈنگ کی سزا دی جاتی ہے ۔ میرے گھر کا فیڈر فقیر آباد پشاور ہے اور انٹرنیٹ پر اس علاقے کے لائن لاسز21فیصد ہیں ۔ سو ہمارے علاقے میں صرف سات گھنٹے کی بامشقت سزا ایک ایک گھنٹے کے دورانیے کی ملتی ہے ۔ اگرچہ ہم نے یوپی ایس وغیرہ بھی لگارکھے ہیں لیکن پھر بھی اس سزا کا ذائقہ چکھنا پڑتا ہے ۔ سوال صرف یہ کرنا ہے کہ لائن لاسز کا ذمہ دار میں یعنی صارف ہوں یا پیسکو؟ لائن لاسز کو پورا نہ کرنا تو محکمہ کی ذمہ داری ہے نا کہ ۔ اچھا اب جو لوگ چوری کررہے ہیں انہیں پکڑنے کی بجائے ان صارفین کو سزا دینا کہاں کا انصاف ہے ۔مجھے تو یہ رنجیت سنگھ والا قانون لگتا ہے کہ یہ منجور اور یہ نامنجور۔میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ان لائن لاسز میں خود پیسکو اور اس کے اہل کار شامل ہیں ۔ اتنے بڑے سیٹ اپ میں کیسے کوئی بجلی کی چوری کرسکتا ہے ۔یا تو یہ ادارے کی نااہلی ہے یا پھر ملی بھگت ۔بھئی یہ کوئی علاقہ غیر تھوڑی ہے کہ جہاں پیسکو کے اہلکار عذر پیش کرسکیں کہ جناب لوگ کنڈے ڈالتے ہیں اور ہمیں وہاں جان کا خطرہ ہے ۔بھائی یہ شہر کا مرکزی علاقہ ہے اپنی ٹیمیں تشکیل دیں اوردو تین بجلی چوروں کو پکڑیں سزا دیں کوئی بھی اس کے بعد ہمت نہیں کرے گا کہ چوری کا سوچے بھی ۔ لیکن کیا کیا جائے کہ یہاں انہی لائن لاسز سے بڑے بڑوں کے چولہے جلتے ہیں ۔ آخر یہ ایس ڈی او ، ایس ای اور دیگر عملہ کس لیے ہے ۔ ایک ہلکی سی بارش کے چھینٹے سے تو تمہارا سسٹم ہچکیا ں لینے لگتا ہے تمہارے یہ انجنیئرکس کام کے ۔ دفتروں میں بیٹھ کر بلوں کی تصحیح کرنے کا کام تو کوئی بھی بابوکرسکتا ہے اس کے لیے انجینئروں کو دفتروں میں بھلا کیوں بٹھایا جاتا ہے ۔ انہیں فیلڈ میں نکالیں اور لائن لاسز کافتنہ ختم کروانے کا ٹاسک دیا جائے ۔عوام بھی سکھ کا سانس لیں اور ان کا بھی رزق حلال ہو۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں سرکاری نوکری کا مطلب صرف تنخواہ اور دیگرمراعات حاصل کرنا سمجھا جاتا ہے ۔ جیسے کسی نے ٹھیکہ لے لیا ہو یا پھر کسی کا ذاتی کاروبار ہو۔ میں پیسکو والوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ٹھنڈے دل سے سرکاری ملازمت کی اصل تعریف سمجھ لیں اور وہ تعریف یہ ہے کہ سرکاری ملازم کا کام صارف کو فیسی لیٹیٹ کرنا ہوتا ہے ۔ تنخواہ انہی خدمات کے عوض دی جاتی ہے ۔ یا پیسکو والے یوں اس بات کو سمجھ لیں کہ جس علاقے میں جتنے گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو اس علاقے کے اہلکاروں کی اتنے ہی دنوں کی تنخواہ کاٹ لی جائے تو کیسا لگے گا ۔ یعنی فقیر آباد سب ڈویژن کے ایس ڈی او اور ایس ای کو سات گھنٹے لوڈ شیڈنگ کے عوض سات دن کی تنخواہ نہ ملے تو میرا دعویٰ ہے کہ لائن لاسز ختم ہوجائیں گے ۔ میں اپنے سب ڈویژن کے بہت سے شہزادوں کو جانتا ہوں اور ان کے کارناموں سے بھی واقف ہوں لیکن چپ میں ہی عافیت ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کوئی کب تک چپ رہ سکتا ہے ۔ مجھے میرے ہی سب ڈویژن والے بتا دیں کہ انہوں نے رواںبرس میں کتنے بجلی چور پکڑے اور انہیں کتنی سزا ہوئی اور سزا کے بعد کتنوں کی سزا معاف ہوئی اور ان چوریو ں میں کبھی تحقیق کی گئی کہ خود پیسکو کے کتنے ملازمین شامل تھے ۔ اللہ کے بندو دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ۔ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے ۔ ایسے ایسے سسٹم آچکے ہیں دنیا میں کہ کوئی چوری کا سوچ بھی نہ سکے ۔ واپڈا اتنا بڑا ادارہ ، ہزاروں کارندے ،اتنا بڑا انفراسٹرکچر اور آپ سے لائن لاسز کنٹرول نہیں ہورہے ۔ خدا کے لیے اپنی نااہلی کازور اپنے صارفین پر نہ نکالیں ۔یہ ظلم ہے سراسر ظلم ،اور ظلم کا حساب یہاں بھی بیماریوں اور پریشانیوں کی صورت میں موجود ہے اور آخرت پر تو ہمارا ایما ن ہے ۔ خود پشاور کے بعض علاقوں میں زیرو لوڈشیڈنگ ہے ۔ کیا وہاں لائن لاسز نہیں یا پھر وہ وی آئی پی علاقے ہیں ۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جن صارفین کے پیسوں پر تمہارا چولہا جلتا ہے انہی کو عذاب میں مبتلا کیے رکھا ہے ۔ نااہلی کی اور کیا انتہا ہوگی ۔ لوگ ہزاروں روپے کے یوپی ایس ، جنریٹر اور سولر سسٹم لگانے پر مجبور ہیں ۔ حکومتیں بھی بے بس ہیں اس مافیا کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا ۔ نہ ہی ہمارے ہاں صارفین کے حقوق کے تحفظ کا کوئی سسٹم موجود ہے ۔ بل میں اضافی یونٹ کم کروانے میں انسان کی مت ماری جاتی ہے ۔بس اب تو ایک ہی راستہ بچا ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سے شکایت کی جائے کہ جناب آپ ہی اس مسئلے کی تحقیقات کا حکم دے دیں کہ یہ ناروا کیوں روا ہے ہم صارفوں پر ۔چلیں ہم اپنی سی کوشش کرتے ہیں اسی کالم کی ایک کاپی چیف صاحب کو بھیجتے ہیں دیکھیں

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات ۔۔۔

متعلقہ خبریں