Daily Mashriq


عوام کے لئے مواصلات' چند تجاویز

عوام کے لئے مواصلات' چند تجاویز

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں عوام کی سہولت اور حفاظت کا ہر ممکن خیال رکھنے کے لئے نظام وضع کئے جاتے ہیں۔ کسی بھی ملک کے مختلف شہروں اور شہرکے اندر مواصلات کا ایک نظام ہوتا ہے۔ یورپ میں انڈر گرائونڈ ٹرین کا نظام اور سڑکوں پر میٹرو اور ٹرام وغیرہ عوام کو آنے جانے میں آرام دہ اور محفوظ ذرائع فراہم کرتا ہے۔ ان ترقی یافتہ ملکوں میں گاڑیوں' ٹرینوں اور جہازوں کے لئے اوقات کی پابندی ہمارے ہاں کے اوقات نماز کی طرح قائم رکھی جاتی ہے۔ لیکن وطن عزیز میں دیگر بہت ساری بد انتظامیوں کے سبب مواصلات کے حوالے سے بھی بڑی ابتری پائی جاتی ہے۔کسی زمانے میں سرکاری نظام کے تحت جی ٹی ایس کی بسیں پاکستان بھر کے بڑے شہروں کے درمیان ایک اچھا انتظام تھا لیکن اس کو بھی ڈرائیوروں اور ان کے افسروں نے مل کر اس کو ایسے خسارے کے نظام میں بدل دیا کہ حکومت کو باامر مجبوری اسے ختم کرکے سینکڑوں بسوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں کو اونے پونے داموں نیلام کرکے بیچ دیاگیا۔ پرائیویٹ بسوں اور جی ٹی ایس کی جگہ پرائیویٹ سیکٹر میں فلائنگ کوچز نظام نے لے لیا جو اپنی تیزرفتاری اور قدرے وقت کی پابندی کے سبب کامیابی سے چل تو رہا ہے لیکن جب سے غیر معیاری سی این جی کٹ کے ذریعے چلنے لگے ہیں تو عوام کے لئے کسی بم کے اوپر بیٹھ کر سفر کرنے سے کم نہیں اور سینکڑوں حادثات کے المناک واقعات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا رہا ہے۔ ہماری نا لائقی اور کوتاہی اور کاہلی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنوبی کوریا والوں کو بھی پتہ چل گیا کہ یہاں کے بڑے شہروں کے درمیان اگر بہترین بس سروس شروع کی جائے تو کامیابی یقینی ہے۔ لہٰذا ڈائیو بس سروس اس کی مثال ہے۔ ان کے دیکھا دیکھی پاکستانی سرمایہ کاروں نے نقل کرتے ہوئے مختلف ناموں کے ساتھ ڈائیو سروس شروع کی ہے۔ ہمارے مواصلات کے نظام کی شدید ناکامی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ عیدین کے موقع پر ہر سال عوام بے چارے ڈبل ٹرپل کرایہ ادا کرتے ہوئے بہت تکلیف دہ صورت میں اپنے آبائی علاقوں کی طرف سفر کرتے ہیں۔ لوگ بسوں اور ٹرینوں کی چھتوں پر بھی غیر محفوظ سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ سب خرابیاں اور کوتاہیاں تو اپنی جگہ۔۔۔ لیکن ہمارے پختونخوا میں سب سے خراب نظام شہر کے اندر ٹیکسیوں کا ہے۔ پورے شہر میں ٹیکسی کے نام پر مختلف رنگوں کی گاڑیاں چلتی ہیں۔ ان کے لئے نہ کوئی رجسٹریشن' نہ کوئی میٹر نہ کوئی اڈہ' نہ کوئی ٹریکنگ سسٹم' نہ حکومت کے متعلقہ محکموں کو کوئی معلومات کہ شہر میں کتنی ٹیکسیاں ' کس کے نام پر کس رجسٹریشن کے ساتھ چلتی ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کہیں ایسا ہو۔یہاں جب کوئی بے روز گار گاڑی چلانا سیکھ لیتا ہے تو اس کی پہلی ترجیح ایک سے لے کر تین چار لاکھ ڈیڑھ لاکھ سی این جی فسٹڈ آلٹو سوزوکی ' سی ایج جی فیٹڈ لینا ہوتی ہے۔ یہ گاڑیاں پرائیویٹ نمبر کے ساتھ رجسٹر ہوئی ہوتی ہیں لیکن لوگ بے روز گاری اور غربت کے ہاتھوں اس کو بطور ٹیکسی چلاتے ہیں۔ ہماری ٹریفک پولیس کے لئے اس قسم کی گاڑیاں اور ڈرائیور منافع بخش ہوتے ہیں اور دونوں کا کام چل رہا ہوتا ہے۔ جہاں تک عوام کی سہو لت اور حفاظت کا تعلق ہے تو کوئی سرکاری یا پرائیویٹ ادارہ اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتا۔اس قسم کی ٹیکسیوں میں جرائم پیشہ افراد بھی ہوتے ہیں جو تنہا خواتین اور بعض اوقات مردوں کو اسلحہ کے زور پر لوٹنے سے نہیں کتراتے۔ ورنہ خواتین کو ہراساں کرنا اور ذو معنی باتیں کرنا اور شیشے میں دیکھنا تو اپنا ڈرائیوری حق سمجھتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں البتہ خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قانون سازی اور تعلیم یافتہ خواتین کی وجہ سے خوف کے مارے اب کچھ فرق پڑنے لگا ہے۔لیکن اس قسم کی ٹیکسیاں زیادہ تر رات گیارہ بارہ بجے کے بعد عموماً غلط کاموں میں استعمال ہوتی ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پختونخوا کی حکومت ٹیکسیوں کے لئے باقاعدہ نظام وضع کرے جس کے تحت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھا جانا ضروری قرار دیا جائے۔

(1)ٹیکسی کے لئے مخصوص قسم کی گاڑیاں ہوں' عام و پرائیویٹ گاڑی کا اس کام کے لئے استعمال نہ ہو۔

(2)ٹیکسی گاڑی اور ڈرائیور کا بائیو ڈیٹا ضلعی/تحصیل پولیس ہیڈ کوارٹر میں پورے ریکارڈ کے ساتھ درج ہو۔

(3) ٹیکسی ڈرائیور کا اپنے مقامی تھانے سے باقاعدہ نیک چال چلن کا سرٹیفیکیٹ ایشو ہو۔

( 4) کرایہ کے لئے فی کلو میٹر رقم کا تعین ہو تاکہ/ سواری کا استحصال نہ ہو۔

(5) گندی سیٹوں والی' پرانی پھٹیچر اور دھواں اور آوازیں نکالنے والی گاڑیوں کا استعمال اس مقصد کیلئے سخت منع ہو۔

( 6) ٹیکسی ڈرائیور کو اغواء سے محفوظ رکھنے کے لئے بھی کوئی مناسب انتظام ہونا چاہئے۔ ایسی سواریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لئے بھی حکومت پولیس یا کسی اور محکمہ کے ذریعے انتظام کرے۔

ٹیکسی نظام کو قوانین کا پابند بنانے' ہر چیز کو ریگولرائز کرنے سے حکومت کو مالی فائدہ کے ساتھ ساتھ عوام کی طرف سے داد و تحسین بھی ہوگی اور عوام کی حفاظت اور سہولت کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا۔ ورنہ یہ ٹیڑھا ویڑھا سسٹم اسی طرح ٹیڑھا ویڑھا چلتا رہے گا اور عوام چیخ و پکار اور ہائیہائے کرتے رہیں گے۔ اللہ ہمارے وطن عزیز کے پورے نظام کی اصلاح کے لئے کوئی مسیحا بھیج دے۔ آمین۔

متعلقہ خبریں