Daily Mashriq

سیاسی حریفوں کی سیاست

سیاسی حریفوں کی سیاست

مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت وزیراعظم عمران خان کی حکومت کیخلاف تحریک پر متفق ہو گئی ہے اور اس مقصد کیلئے تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اتوار کو رائے ونڈ میں بلاول بھٹو کے اعزاز میں مریم نواز کی طرف سے دئیے گئے ظہرانے کے موقع پر کیا گیا۔ ملاقات میں موجودہ حکومت کیخلاف فیصلہ کن تحریک سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اپوزیشن قائدین پر الزامات کو عوام کو سیاسی قیادت سے محروم کرنے کی سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ دونوں جماعتوں کی قیادت دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطے کرے گی۔ ملاقات کے بعد بلاول بھٹو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 21جون کو بینظیر بھٹو کی سالگرہ پر جلسہ عام ہوگا اور وہیں سے حکومت کیخلاف تحریک شروع ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوشش کریں گے کہ موجودہ بجٹ پاس نہ ہو۔ اتوار کو ہونے والی ملاقات کے بعد مسلم لیگ نون کی طرف سے جاری کردہ اعلامئے کے مطابق ملاقات میں پاکستان کے سابق وزرائے اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان2006 میں طے پانے والے میثاق جمہوریت کو ایک اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے اسے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت محسوس کی اور نیا لائحہ عمل بنانے پر غور کیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل رمضان کے مہینے میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں ہوئی تھی جس میں حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی جانب سے دی گئی افطار دعوت میں شرکت کی تھی۔ افطاری پر ہونے والی اس ملاقات کے بعد تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ نیوز کانفرنس کی جس میں بتایا گیا کہ ملاقات کا مقصد پاکستانی عوام کو درپیش مشکلات پر غور وفکر کرنا تھا۔ اعلامئے کے مطابق مشترکہ حکمت عملی کا دائرہ ان سیاسی جماعتوں تک بھی پھیلایا جائے گا جنہوں نے تحریک انصاف کی حکومت کے قیام میں ووٹ دیا تھا یا حکومتی اتحاد میں شامل ہے لیکن اب حکومتی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کر رہے۔ ملاقات میں مولانا فضل الرحمن کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس اور دونوں جماعتوں کے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی بات ہوئی۔ سابق وزیراعظم کی صاحبزادی اور سابق صدر وسابق وزیراعظم کے صاحبزدے کی ملاقات دو ایسے سیاسی جماعتوں کے قائدین کے جانشینوں کی ملاقات ہے جو ماضی میں ایک دوسرے کے سخت مخالف اور حریف رہے ہیں۔ سیاسی طور پر دونوں کی ملاقات اس امر کا واضح عندیہ ہے کہ تمام تر مخالفتوں اورحریف جماعت ہونے کے باوجود دونوں جماعتیں حکومت مخالف ایجنڈا پر متفق ہیں، دونوں کی دو دفعہ ملاقاتوں سے آل پارٹیز کانفرنس کی راہ نہ صرف ہموار نظر آتی ہے بلکہ یہ اس کانفرنس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کی کشمکش سے دوچار دیگر جماعتوں کو بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی کہ وہ ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کا ساتھ دیں یا پھر حکومت کی حمایت کریں۔ یہ ملاقات خاص طور پر اہم حکومتی حلیف جماعت بی این پی مینگل کی قیادت کو راغب کرنے کا حامل بن سکتی ہے چونکہ مسلم لیگ(ق) پیپلز پارٹی کی حکومت میں شامل جماعت رہی ہے اس لئے اسے بھی سوچنے اور فیصلہ کرنے کا آسان موقع میسر آئے گا۔ بہرحال اس کے باوجود حکومت کو بجٹ پاس کرانے میں ناکامی کا سامنا ہونا مشکل ہے، اگرچہ ان جماعتوں کی طرف سے بجٹ منظور نہ ہونے دینے کی پوری کوشش کا عندیہ دیا گیا ہے لیکن فی الوقت کے حالات میں خود ان کی نظر میں بھی یہ شاید موزوں فیصلہ نہ ہو۔ اس ملاقات کے سیاسی اثرات کے علاوہ دونوں رہنماؤں کیلئے یہ خاص طور پر اہمیت کا حامل اس لئے ہے کہ پہلی مرتبہ سینئر قیادت پس منظر میں چلی گئی ہے۔ بلاول بھٹو تو پھر بھی اپنی جماعت کے چیئرمین ہیں لیکن مریم نواز کے پاس پارٹی میں اس درجے کا عہدہ نہیں کہ وہ قائد کے طور پر آگے آئیں، بہرحال یہ ملاقات دونوں جماعتوں کے لیڈروں کے بچوں کی عملی سیاست میں عملی طور پر آمد ہے جس کیلئے موزوں موقع اس لئے چنا گیا ہے کہ بجٹ سے عوام کی توقعات پر سے جیسے پردہ اُٹھتا جائے گا اور مہنگائی کی شرح بڑھے گی تو حکومت کیلئے اپنا دفاع مشکل ہوتا جائے گا جس سے حزب اختلاف کی جماعتیں فائدہ اُٹھانے کیلئے تیاری کر رہی ہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے بعد حزب اختلاف مشترکہ طور پر حکومت کیخلاف کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے وہ زیادہ اہم ہوگا فی الوقت پی پی پی کا احتجاج اور تحریک چلانا زیادہ مؤثر نہیں ہوگا اور نہ ہی مسلم لیگ(ن) حکومت کے مشکل حالات کے باوجود اثرانداز ہونے والے احتجاج کی پوزیشن میں ہے۔ کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کی سعی میں مصروف قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کو بھی اس بات کا علم ہے کہ ان کی جماعت تن تنہا مؤثر احتجاج نہیں کر پائے گی۔ شدید گرمی کا یہ موسم بھی حزب اختلاف کی جماعتوں کیلئے امتحان سے کم نہیں۔ علاوہ ازیں بھی اب احتجاج کے ذریعے اور عوام کو سڑکوں پر لاکر حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کا اب زمانہ نہیں رہا، اس صورت میں متحدہ حزب اختلاف کے پاس حکومتی حمایتی جماعتوں کو ساتھ ملا کر ایوان میں حکومت کو عددی اکثریت سے محروم کرنے کا آئینی طریقہ ہی بچتا ہے تاہم اس حربے کے استعمال کیلئے سیاست کیساتھ ساتھ ایک ایسی خاموش مفاہمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس کیلئے کم ازکم دو بڑی قابل ذکر جماعتوں اور جے یو آئی(ف) فی الوقت تیار نظر نہیں آتی۔ ان حالات میں یہ حکومت کا امتحان ہوگا کہ وہ نہ صرف متحد ہو کے سیاسی مخالفین سے نمٹے بلکہ ان کو عوام کو ریلیف کی صورت میں ان جماعتوں کے موقف کو عوام کے سامنے لغو ثابت کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں