Daily Mashriq

کرکٹ ٹیم کی ہار پر شائقین کی مایوسی

کرکٹ ٹیم کی ہار پر شائقین کی مایوسی

کرکٹ کے عالمی کپ کے اہم میچ میں روایتی حریف بھارت کی ٹیم سے پاکستانی ٹیم کی شکست جذباتی شائقین کیلئے خاص طور پر رنج دہ امر ہے جو پاک بھارت میچ کو کھیل کم اور جنگ کا میدان زیادہ بنا دیتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ کھیل میں جیت اور ہار دونوں کا امکان برابر کا ہوتا ہے جو ٹیم اچھاکھیلتی ہے اور مواقع سے فائدہ اٹھاتی ہے کامیابی اسی کے قدم چومتی ہے۔ ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی شکست اگر معمولی فرق کیساتھ ہوتی اور ٹیم شاندار کھیل کا مظاہرہ کر کے ہار جاتی تو شائقین کو زیادہ افسوس نہ ہوتا لیکن یہاں معاملہ برعکس رہا اور پاکستانی ٹیم 89رنز سے شکست کھا بیٹھی۔ پاکستانی کپتان کا پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ تباہ کن ثابت ہوا حالانکہ سابق عالمی کرکٹر اور وزیراعظم عمران خان نے بھی سرفراز کو پہلے بیٹنگ کا مشورہ دیا تھا۔ کپتان کا فیصلہ اور کھلاڑیوں کو بھیجنے کی ہدایات موقع ومحل اور میچ کی ضرورت کو سمجھے بغیر ہو تو اس کا نتیجہ کبھی بھی اچھا نہیں نکلتا، یہاں تو ابتداء ہی غلط فیصلے سے ہوئی جس کا میچ اور کھلاڑیوں پر اثرات فطری امر تھا۔ پاکستانی ٹیم کے اس اہم میچ سے سات گھنٹے قبل شیشہ نوشی میں مصروف ہونے کی اطلاعات بھی ٹیم کی غیرسنجیدگی اور منتظمین کی ناکامیوں کی داستانیں سنا رہے ہیں۔ بغیر تیاری اور نظم وضبط کی پابندی کے میدان میں اترنے کی غلطی کا یہی نتیجہ سامنے آنا تھا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم میں گروپ بندی اور کپتان سے عدم تعاون اور خراب کارکردگی کے مظاہرے کی افواہوں میں کس حد تک صداقت ہے اس بارے اندازہ لگانا ممکن نہیں، البتہ ہماری کرکٹ ٹیم متحد ہوکر نہیں کھیلی اور اس کی مجموعی کارکردگی کا خراب ہونا کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ اس ساری صورتحال کا جائزہ لینے اور کرکٹ ٹیم کے اندرونی صورتحال کو بہتر بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو اکٹھے ہوکر لڑنے والی ٹیم اور میچ سے قبل مکمل تیاری اور نظم وضبط کی سختی سے پابندی یقینی بنا کر ہی کارکردگی کی امید کی جا سکتی ہے۔

بی آر ٹی کے افتتاح کی تاریخ کا اعلان کیا جائے

بی آر ٹی کے کنٹرول سنٹر کی فعالیت اور سٹیشن روم کی تعمیر کا آغاز خوش آئند امر ہے لیکن ڈبگری، چمکنی اور حیات آباد میں ڈپوز کے کام کے آخری مرحلے پر ہونے کا دعویٰ واقعاتی طور پر درست نہیں۔ خاص طور پر حیات آباد ڈپو کی تعمیر کا کام اگر ابھی ابتدائی مرحلے پر قرار دیا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ اگر ان ڈپوز کی تعمیر کی تکمیل کے بعد ہی بسیں چلانے کا انتظار کیا جائے تو یہ بہت طویل ہوگا جب تک بی آر ٹی کی بسوں کی دو سالہ گارنٹی کی مدت بھی شاید پوری ہو۔ عوام اب مزید انتظار کے متحمل نہیں ہوسکتے اور نہ ہی حکومت اور حکومتی اداروں کیلئے تاخیر مناسب ہوگا۔ اگرچہ حکومت کو بی آر ٹی کے افتتاح کے بار بار اعلانات اور ناکامیوں پر تنقید کا سامنا رہا ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ حکومت بی آر ٹی کے افتتاح کی تاریخ دے اور ہر قیمت پر اس کا مقررہ تاریخ پر افتتاح یقینی بنایا جائے۔ عوام اب پیشرفت نہیں افتتاح کے انتظار میں ہیں۔

قبرستان پر قبضہ کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے

چارسدہ تنگی روڈ پر قبرستان پر دکانوں کی تعمیر اور ڈیڑھ سال قبل دفن شدہ بچے کی نعش نکلنے پر اہالیان علاقہ کا احتجاج اور لواحقین کی خود سوزی کا اعلان فوری اور سخت سے سخت اقدامات کا حامل معاملہ ہے۔ یہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ بلاتاخیر اس واقعے میں ملوث عناصر اور قبضہ مافیا کیخلاف سخت سے سخت قدم اٹھائے اور ان کیخلاف فوری قانونی اقدام کیا جائے۔ اس واقعے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قبضہ مافیا کی کہیں نہ کہیں سیاسی یا انتظامی طور پر پشت پناہی موجود ہے وگرنہ وہ اس قدر دیدہ دلیری کا مظاہرہ ہرگز نہ کر پاتے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو اس ضمن میں چارسدہ کی انتظامیہ سے نہ صرف فوری رپورٹ طلب کرنی چاہئے بلکہ تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ذمہ دار عمال کو معطل بھی کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں