Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

امام ابو یوسفؒ کو اپنے شیخ ومربی اور شفیق استاد امام ابوحنیفہؒ سے اتنا گہرا تعلق پیدا ہوگیا تھا اور ان کی مجلس درس سے ان کے شغف وانہماک کا یہ عالم تھا کہ دنیا کا ہر کام چھوڑ سکتے تھے، مگر مجلس درس کی حاضری ترک کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ ایک مجلس میں امام ابو یوسفؒ کو درس کی حاضری اور شوق علم کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ: ’’میرے لڑکے کا انتقال ہوگیا، لیکن نہ میں نے اس کی تدفین وتجہیز میں حصہ لیا اور نہ تکفین میں۔ یہ سارا کام میں نے اپنے پڑوسیوں اور عزیزوں پر چھوڑ دیا۔ مجھے یہ دھڑکا لگا رہا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجلس درس سے بچھڑ جاؤں اور کوئی سبق قضا ہو جائے اور یہ حسرت رہ جائے کہ فلاں سبق میں حاضر نہ تھا۔

(مناقب موفق)

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ امام ابو یوسفؒ کا ماموں جس کا نام ابو طالب تھا، حضرت امام ابو حنیفہؒ کے حلقہ درس میں آیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ امام ابویوسفؒ علمی مذاکرے میں اونچی آواز سے بول رہے ہیں اور ہمہ تن بحث میں مشغول ہیں۔ ماموں ان کا ایک طرف ہو کر کھڑا رہا۔ امام ابو حنیفہؒ کی اچانک نظر پڑی تو فرمانے لگے، آگے تشریف لے آئیے، کھڑے کیوں ہیں! کہنے لگا: ’’میں مذاکرہ اور علمی مباحثہ میں اپنے بھانجے ابو یوسفؒ کی بلند آواز اور ہمہ توجہی پر تعجب کر رہا ہوں کہ آج تیسرا روز ہے کہ انہوں نے اور ان کے عیال اور اطفال نے کچھ نہیں کھایا‘‘ (حدائق الحنفیہ تذکرہ ابویوسفؒ)

بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ علم دین کی تحصیل میں انہماک اور جس قدر شغف امام ابو یوسفؒ کو تھا، اس کی شکایت محض ان کے والدین یا ماموں ہی کو نہیں تھی بلکہ ان کی اہلیہ کو بھی تھی۔ ان ہی کی روایت ہے کہ امام ابو یوسفؒ دن بھر تو امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں رہتے تھے اور رات کو گھر آتے تھے اور کبھی کبھی رات کو بھی وہیں رہ جاتے تھے اور کئی کئی دن گھر نہیں آتے تھے۔ ایک دن یہ امام ابو یوسفؒ کی شکایت لیکر امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یہ آپ کے شاگرد ہمارے نان ونفقہ کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے۔ صرف پڑھنے پڑھانے ہی میں لگے رہتے ہیں۔ امام ابوحنیفہؒ نے ان کو سمجھایا اور صبر کی تلقین کی اور فرمایا کہ یہ عسرت اور تنگ دستی کے دن انشاء اللہ جلد ختم ہو جائیں گے اور تم لوگ ان سے جو توقع رکھتے ہو اس سے زیادہ تم کو ملے گا۔ پھر کوئی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ رب تعالیٰ نے ان پر اپنے فضل وکرم اور رحمت وعنایت کے دروازے کھول دیئے، معاشی تنگی دور ہوگئی۔ اس دوران ایک روز اہلیہ نے امام ابو یوسفؒ سے پوچھا کہ اب ہمارے پاس کتنا مال ہے؟ فرمانے لگے، سب کا تو مجھے علم نہیں البتہ میری معلومات کی حد تک سات سو خچر اور تین سو گھوڑے اپنے ذاتی اصطبل میں موجود ہیں۔ (مناقب الکردریؒ ترجمہ ابی یوسفؒ ص 394اور ص395)

متعلقہ خبریں