Daily Mashriq

سفید پوشی کا بھرم رہنے دو

سفید پوشی کا بھرم رہنے دو

چند ماہ قبل جب وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے شکوک وشبہات سے بھرپور صورتحال میں اپنے سب سے نامی گرامی پہلوان اسد عمر کو ناکام قرار دے کر وزارت خزانہ سے ہٹایا اور عبدالحفیظ شیخ کو ان کی جگہ تعینات کیا تو کسی کے وہم وگمان میں بھی شاید نہیں تھا کہ معاملات اتنے گمبھیر ہو جائیں گے جتنے مسلسل ہو چکے ہیں۔ ہم سب یہی سمجھ رہے تھے کہ کچھ ٹیکس بڑھیں گے اور کچھ انتہائی ضروری اشیا مثلاً بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں بڑھیں گی لیکن ایسا کرتے کرتے حکومت کہیں کسی شعبے میں لوگوں کو اپنی بہترین منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے ریلیف دیکر انہیں مکمل گرنے نہیں دے گی۔ لوگ عمران خان کی حکومت سے معجزوں کی بھی توقع لگائے بیٹھے تھے کہ کنٹینر پر کھڑے ہوکر انہوں نے جو اعلان کیا تھا کہ وہ پوری تیاری کئے بیٹھے ہیں اور حکومت ملنے کے بعد ان کے پاس موجود دو سو کے قریب معاشی ماہرین نہ صرف مشکل حالات کو سنبھال لیں گے بلکہ اس سے نمٹنے کا منصوبہ بھی بنا چکے ہیں۔ ہمیں تو یہ احساس تھا کہ ان کی حکومت کے ’’باخبر مخبر‘‘ جو انہیں نواز شریف اور آصف زرداری کے لوٹ مار کی تمام خبریں دے چکے تھے وہ ان سے تمام رقوم کی برآمدگی کا پورا طریقۂ کار بھی مل کر بنا چکے ہوں گے اور جب وہ سب مل کر یہ کام کریں گے تو اپنے سب سے بڑے اثاثے یعنی ووٹر کو بچانے کا بھی پلان بنا چکے ہوں گے کہ وہ جنہوں نے اس حکومت کو منتخب کیا وہ کیس ان کی نظروں سے پوشیدہ رہ پائیں گے وفاق اور صوبوں کے بجٹ بنتے دیکھ کر مجھ جیسے سادہ اور ناسمجھ کو یہ پورا یقین تھا کہ یہ انقلابی حکومت تو صرف امیروں کو متاثر کرے گی اور متوسط وغریب طبقے کو تو بالکل بھی کچھ نہیں ہونے دے گی، وہ ہر اس شعبے سے وابستہ لوگوں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈال کر ان پسے ہوئے طبقات کا حق لے گی اور ان حقوق کیلئے وہ ہر اس ادارے کو بھرپور احساس دلائے گی جو اس کام میں حکومت کا کچھ بھی ساتھ دے سکتی ہوگی کہ وہ مل کر ان طبقات کو کیسے بچائے گی جو تنخواہ ملتے ہی اسے اگلے تین سے چار دنوں میں بلوں وفیسوں کی ادائیگی وگزشتہ مہینوں کے قرضوں میں خرچ کر جاتے ہیں۔ پیٹ پر پتھر باندھنے کے وعدے کرنے والوں سے یہ توقعات اور بھی زیادہ تھیں کہ وہ ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا بندوبست کرتے کرتے یہ خیال ضرور رکھیں گے کہ پہلے سے برسر روزگار لوگ متاثر نہ ہوں۔ امید وبیم کے ماحول میں سوشل میڈیا پر ایک بہت ہی معتبر دوست کی چھٹیوں کی سکول فیسوں کے بارے میں ایک عدالتی فیصلے کے بارے میں ان کی رائے دیکھی انہوں نے سوال اُٹھایا تھا کہ انہیں سمجھایا جائے کہ جب ان کے ادارے نے حالات کی خرابی کے نام پر ان کی تنخواہ تیس فیصد کم کر دی ہے اوپر سے مہنگائی یعنی افراط زر پینتیس فیصد کی شرح سے بڑھ گئی اور ساتھ ہی عدالت نے سکولوں کو اجازت دیدی ہو کہ وہ والدین سے چھٹیوں کی فیس وصول کریں توکوئی انہیں بتائے کہ وہ پریشان نہ ہوں تو اور کیا کریں۔ ان کی خودداری کا میں خود گزشتہ بارہ سال سے چشم دید گواہ ہوں، ان کی اس چیخ کو میں ہضم نہیں کر پارہا کہ میں نے انہیں مشکل سے مشکل حالات میں ڈھے جاتے نہیں دیکھا تھا۔ وفاقی اور صوبائی بجٹ زیادہ تر آچکے ہیں اور خیبرپختونخوا کا بجٹ آج پیش کیا جا رہا ہے۔ ان تمام بجٹوں کو اگر دیکھا جائے تو یہ ویسے ہی بجٹ ہیں جیسے ان سے پہلے کے ہوا کرتے تھے، چلیں تھوڑی دیر کیلئے مان لیتے ہیں کہ حکومت ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور اس کے پاس پیسے نہیں ہیں لیکن اگر سچ مچ پیسے دستیاب نہیں اور مشکل درپیش ہے تو پھر لوگوں کو سچ بتا کر بری الذمہ کیوں نہیں ہوا جاتا یہ کیوں کہا جا رہا ہے کہ وہ ان حالات میں دوسروں سے بہتر بجٹ دے رہے ہیں۔ وہ صاف کیوں نہیں بتاتے کہ خیبر پختونخوا جیسے صوبوں کیساتھ جب بجلی کے خالص منافع کی مد میں رقم کی ادائیگی کے وعدے پورے نہیں ہوسکے، فاٹا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے درکار رقم نہیں دے پا رہے تو وعدوں پر وعدوں اور مزید وعدوں کے بجٹ کیوں بنائے جارہے ہیں۔ اس حکومت کے بننے سے پہلے کے معاملات کتنے شفاف رہے ہیں اور اگر وہ سچ مچ اس صوبے میں چلنے والی مثالی حکومت تھی تو اب کی یہ نئی حکومت ازسرنو سب کچھ کیوں سمیٹ رہی ہے۔ ان پانچ سالوں کے دوران صوبے کو کچھ اس انداز میں اپنے پیروں پر کیوں کھڑا نہیں کیا جاسکا کہ وہ اب تو کم ازکم وفاق کی بیساکھی پر تو نہ چلتی۔ آخر میں جاتے جاتے اپنی وہی عرضی دھرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ سال سے تریسٹھ سال کرکے نہ صرف تجربہ کار لوگوں کو اپنے پاس روک لیا بلکہ کچھ وقت کیلئے پنشن کی بڑی رقوم کی ادائیگیوں سے بھی خود کو بچا لیا لیکن ایسا کرتے ہوئے اسے یہ بات ضرور ذہن میں رکھنا ہوگی کہ جتنے لوگ مزید تین سال کیلئے رکیں گے ان کے ماتحتوں کی نہ صرف ترقیاں متاثر ہوں گی بلکہ ان کے نہ جانے سے خالی نہ ہونے والی آسامیوں پر نئی بھرتیاں بھی نہیں ہوں گی اور یوں معاشرے میں نئی نوکریوں کے نہ ہونے کے برے اثرات سے لوگ متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ بہت سارے ایسے ہوں گے جن کے پاس سرکاری نوکری کرنے کی مقررہ عمر ختم ہونے میں شاید چند ماہ ہی باقی ہوں، ایسے میں اگر ان کے آگے کی راہ نہ کھلی تو وہ تو اوورایج ہوکر اس جدوجہد سے ہی آؤٹ ہو جائیں گے۔ حکومت کو کوئی بھی منصوبہ بناتے ہوئے اس کے معاشرے پر پڑنے والے اثرات کو ضرور دیکھنا ہوگا۔ اسے یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیسے ماضی میں سرکاری نوکریوں کیلئے بند راستوں سے واپس مڑنے والے کیسے بڑے جرائم پیشہ بنے، اس لئے اگر وہ اپنی منصوبہ بندی کو معاشرے کیلئے سازگار سمجھتی ہے تو یہ بھی دیکھنا اس کا فرض ہے کہ کون اس کی منصوبہ بندی کے بلڈوزر تلے آکر زمین کیساتھ زمین ہوجائے گا۔

سفید پوشی کا بھرم رہنے دو

متعلقہ خبریں