Daily Mashriq

ایک متفرق کالم

ایک متفرق کالم

۱کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ لکھا جائے۔ فقیر راحموں کے بقول ایسا تب ہوتا ہے جب اندر اور باہر کے موسم ملکر بندے پر قبضہ کرلیں۔ میرے ایک دوست ہیں راشد زمان ہر دو تین دن بعد وہ مجھ سے کہتے ہیں‘ یار شاہ! کبھی ٹھنڈے سے سوچنا کہ پچھلے چالیس پینتالیس سالوں سے جو تم لکھتے آرہے ہو اس کا فائدہ کیا ہوا‘ کیا لوگوں نے تمہاری باتیں مان لیں؟ نہیں مانی اس لئے بہتر ہے کہ لوگوں کیساتھ چلو۔ راشد زمان کے ٹیکسٹ مسیج پر صرف مسکرا دیتا ہوں اور کیا کروں۔ پچھلی صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی کے معروف ترقی پسند طلباء رہنما ڈاکٹر مجاہد مرزا کی سوانح عمری حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ہری پور ہزارہ سے برادرم زاہد کاظمی نے مجھ طالب علم کو ڈاکٹر صاحب کی کتاب بھجوا دی، چند دوسری کتابوں کیساتھ پریشاں پریشاں یہ بھی سرہانے رکھی ہے، پڑھتا ہوں تو آپ کو ایک سفید پوش گھرانے کے ترقی پسند نوجوان (اب تو بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں) کی پرعزم جدوجہد کے اقتباسات پڑھا دوں گا۔ ابھی تو یہ صورتحال ہے کہ حبس بڑھ رہا ہے۔ تیز گرم ہوائیں چلنا شروع نہیں ہوئیں۔ مسائل اور مہنگائی دونوں نے ہلکان کر رکھا ہے۔ تبدیلی کے سراب کے پیچھے بھاگتے دوستوں سے سوال کرو تو کھانے کو دوڑتے ہیں‘ بڑے بڑے محقق دوراں دیکھ بھگت رہے ہیں۔ یار لوگوں نے اسرائیل کو شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بنا کر نتن یاہو کو اس کے سربراہی اجلاس میں پہنچا دیا۔ کیسے لوگ ہیں جھوٹ پر اتراتے ہیں، جھوٹ کا سکہ چلتا ہے۔ڈیم فنڈ قائم کرنے والے بزرگ اللہ جانے کن دیسوں میں جابسے۔ چند دن قبل ان کی لندن میں موجودگی کی تصویر نگاہوں کے سامنے سے گزری تھی۔ اللہ کرے وہیں ایک آدھ ڈیم بنا کر پاکستان بھجوا دیں۔ اچھا ٹھہریں‘ آئیں ملکر حکومت کو اس امر کی مبارکباد دیں کہ اس کی ’’پراثر‘‘ حکمت عملی سے وکیل دو حصوں میں بٹ گئے اور 2007ء جیسا ماحول نہ بن پایا۔چند دنوں کے وقفے سے اوٹ پٹانگ کالم پڑھتے ہوئے آپ نے ناراض نہیں ہونا اور گھبرانا تو بالکل نہیں ’’مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘‘۔ طاؤس ورباب اول ہوں اور شمشیر وسناں آخر اس سے فرق کیا پڑتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انتہا پسندی سے پرہیز لازم ہے۔ یہ ایسا درندہ ہے کبھی کبھی پالنے والے کو بھی کھا جاتا ہے۔ پچھلی پہر (یہ کالم سوموار کی صبح تحریر کر رہا ہوں) سے بلاول مریم نواز ملاقات کو لیکر کچھ سیاسی مہاجر اور دوسرے ات اٹھائے ہوئے ہیں۔ طعنے‘ گالیاں‘ طنز اور وہ سب کچھ ہے جو مجاہدین کو مرغوب ہے۔ سیاسی تربیت اور جدوجہد سے عاری نسل میں برداشت ہے نہ اس کا مطالعہ ورنہ انہیں معلوم ہوتا کہ خود تبدیلی سرکار جی ڈی اے نامی اتحاد میں پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمن کیساتھ تھے اور اے پی ڈی ایم نامی اتحاد میں نون لیگ اور محمود اچکزئی کیساتھ۔ سیاست میں حرف آخر ہوتا تو یقین کریں اعظم سواتی‘ فردوس عاشق‘ فواد چودھری‘ خسرو بختیار اور بہت سارے دوسرے آج تحریک انصاف میں ہرگز نہ ہوتے۔ پاکستانی سیاست میں اشرافیہ کا کردار بہت اہم ہے۔ ان کی سیاسی ہجرت ہمیشہ ملک وقوم کے وسیع تر مفاد اور پچھلی حکومتوں کے بڑے ادوار کا کنارہ ہوتی ہے۔ یہ مجھ اور آپ جیسے سفید پوش نظریہ نظریہ کھیلتے ہیں۔ مذہب اور دیگر معاملات میں بھی ہمی جذباتی ہو جاتے ہیں۔ مذہب پر یاد آیا کہ نون لیگ نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا، کسی زمانے میں اسلام میں عورت کی حکمرانی کے ناجائز ہونے کا فتویٰ لیکر میاں نواز شریف میدان سیاست میں بینظیر بھٹو کیخلاف میدان میں اُترے تھے۔ آج کل ان کی جماعت عمران خان کیخلاف مذہبی کارڈ کھیل رہی ہے تو دوسری طرف پیپلز پارٹی سندھ کی دو اہم شخصیات ایک سابق اور ایک حاضر رکن قومی اسمبلی نے اگلے روز پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے پولیس اہلکار کی قبر پر حاضری دی۔ اس حاضری کی تصاویر نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ ہمارے بعض دوست کہتے ہیں یہ پیری مریدی کرنے والے دو پیروں کی ممتاز قادری کی قبر پر حاضری ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا چند دن قبل قومی اسمبلی کے ایوان میں ایم ایم اے کے ارکان کیساتھ ملکر پیپلز پارٹی کی نعرہ بازی‘ خورشید شاہ وغیرہ کی خواجہ آصف کی تعصب بھری گفتگو ان تینوں باتوں میں کوئی قدر مشترک تلاش کرنے سے فتویٰ تو نہیں لگ جائے گا؟ اب چلتے چلتے خیبر پختونخوا کے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی (موصوف اپنے صحافتی زمانہ سے ہمارے کرم فرما ہیں) کی خدمت میں یہ عرض کرنا ازبس ضروری ہے کہ وزارت ہمیشہ نہیں رہنی اس لئے بعض امور پر گفتگو کرتے ہوئے ضرور مدنظر رکھا کیجئے کہ دنیا دسویں صدی عیسویں میں نہیں اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں رہ رہی ہے۔ سائنس نے دنیا کو ایک گاؤں بنا دیا ہے، پل بھر میں نانگا پربت کی خبر جنوبی افریقہ کے دور دراز قبیلے تک پہنچ جاتی ہے، ایسے ماحول اور حالات میں کسی موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے احتیاط لازم ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ شمالی وزیرستان میں جاری کرفیو کی وجہ سے گھروں میں محصور خاندانوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے۔ مرد وزن بچے مشکل ترین حالات سے دوچار ہیں۔ حکومت اور خصوصاً جناب قمر جاوید باجوہ آرمی چیف کو صورتحال کی سنگینی کا فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے اصلاح احوال کیلئے احکامات جاری کرنا ہوں گے تاکہ غذائی بحران کسی بڑے سانحہ کے رونما ہونے کا سبب نہ بن سکے۔ حیران ہوں جو بات لاہور میں مقیم شخص کو معلوم ہے پختونخوا کے وزیراطلاعات اس سے لاعلم ہیں۔

متعلقہ خبریں