Daily Mashriq

ناطاقتی کا دور

ناطاقتی کا دور

اس حکومت کے حوالے سے کئی باتیں ایسی ہیں جو فی الحال لوگوں کو سمجھ ہی نہیں آرہیں۔ یہ حکومت کیا کرنا چاہتی ہے اور اس کیلئے وہ کون سا راستہ چُنے گی، ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں کئی وسوسے جنم لے رہے ہیں۔ وہ جو ان پر یقین کئے بیٹھے ہیں ان کے دلوں میں ان وسوسوں کیساتھ ایک خوف بھی ہلکورے لے رہا ہے کہ انہوں نے جن پر اعتبار کیا، ان کی اپنے کام اور حکومت کرنے کے حوالے سے کوئی تیاری ہی نہ تھی۔ وہ پاکستان کے دُکھ دور کرنے کی بات تو کرتے تھے لیکن انہیں خود اندازہ ہی نہ تھا کہ کیا کچھ سامنے آسکتا ہے اور انہیں اس ملک کے غموں کا مداوا کرنے کیلئے کن کن زخموں پر ہاتھ رکھنا ہوگا۔ انہیں یہ معلوم تھا کہ گزشتہ حکمران اس ملک کو لوٹتے رہے ہیں، بدعنوانیوں کے پنجوں سے اس ملک کی معیشت کے زخمی جسم کو کھدیڑتے رہے ہیں، لیکن کبھی نہ انہوں نے یہ سمجھا کہ اس سب کا سدباب کرنے کیلئے ان کے پاس کیسی صلاحیتیں ہونی چاہئے، نہ کبھی حکومت میں آنے سے پہلے انتہائی سنجیدگی سے اس پر غور کیا۔ ڈرائنگ روم کی بحث اور سیاست میں تو ہر ایک شے کا حل نکل آیا کرتا ہے لیکن اس ڈرائنگ روم کی سیاست کے حل کبھی حکومتوں میں، دفتروں میں، پالیسیوں میں اپنائے نہیں جاتے۔ مسائل کے حل تحقیق سے تلاش کرنے ہوتے ہیں اس کیلئے مکمل علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس علم کو تجربے کی کسوٹی پر بار بار گھسا جاتا ہے، تب کسی حل کی کوئی صورت نکلنا شروع ہوتی ہے۔ ایسے کیسے کسی کے کہنے پر معاملات سلجھائے جا سکتے ہیں اور کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مسئلے اور مصیبت کی دیوار کیساتھ بار بار آکر سر ٹکرانا پڑتا ہے اس کے بعد کوئی صورت دکھائی دینے لگتی ہے۔ تحریک انصاف نے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر سب حل نکالے، وہیں وعدے کئے کہ بدعنوانوں کو شدید سزائیں دیں گے، وہیں سوچا کہ انہوں نے جو پیسہ لوٹا ہے وہ سارا ملک میں واپس لائیں گے، وہیں سوچا ہم خود کوئی بدعنوانی نہ کریں گے، وہیں سوچا ہم پیٹ پر پتھر باندھیں گے، وہیں سوچا جادو کی چھڑی ہوگی اور لوگوں کے خواب پورے ہو جائیں گے اور اس ڈرائنگ روم سے باہر نکل کر، اپنی ہر بات کا، اپنے ہر خواب کا، اپنی ہر نیت کا اعلان بھی کر دیا، عوام کو اپنے مسائل کے حل سے غرض ہوتی ہے، انہیں اس بات سے قطعی کوئی علاقہ نہیں کہ یہ حل کیسے تلاش کئے جاتے ہیں۔ ان کیلئے آئین اور قانون میں جگہ موجود بھی ہے یا نہیں۔ اگر بنائی گئی تو کیسے؟ اور اگر نہیں بنائی گئی تو کیوں؟ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت وقت ان کی مصیبتوں کی دوری کا فوری بندوبست کرے۔ حکومت کے پاس راستہ ہے تو ٹھیک ورنہ وہ راستہ بنائے، پی ٹی آئی کی حکومت ایسی تمام تدابیر سے نابلد ہے پھر عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ انہیں تمام تر نیک نیتی کے باوجود ان کیساتھ کوئی ایسی کمال ٹیم ہی نہیں جو عوام کے مصائب کا علاج تجویز کرسکے۔ حکومت وقت کو یہ تو سمجھ آرہی ہے کہ انہیں اپنے اخراجات میں کمی کرنی چاہئے لیکن اس بات کا قطعی اندازہ نہیں کہ کچھ اخراجات ضروری ہوا کرتے ہیں۔ پاکستان اگر بین الاقوامی سطح پر مختلف فورم میں شرکت نہیں کرے گا تو اپنے مؤقف کے اظہار یا اس مؤقف کا علم بلند کرنے سے محروم ہو جائے گا۔ ہم بحیثیت ملک یوں تنہائی کا شکار ہورہے ہیں، جتنی دیواریں ہم اپنی سرحدوں پر کھڑی کر رہے ہیں، وہ صرف ہمیں ہی قید کریں گی، دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج میں تبدیل ہوچکی ہے اور رابطے ہی اصل طاقت ہیں۔ عنان حکومت سنبھالنے کے بعد اس حکومت نے اچھے اقدامات شروع کئے تھے، ملک کے اندر بھی رابطوں کا آغاز کیا گیا تھا اور ملک کے باہر بھی سرحدوں کی نرمی کی بات چیت جاری تھی، اب ملک کے اندر بھی کرفیو ہے جس میں معصوم بچے بھوک سے اور بیمار علاج کے نہ ہو سکنے کے باعث مر رہے ہیں اور باہر بھی ہم خاموشی سے اپنی تنہائی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

اس حکومت کو ووٹ دینے والے بھی پریشانی کا شکار ہیں اور وہ جنہوں نے انہیں ووٹ نہیں دیئے اس حیرت میں گم ہیں اب کیا ہونے والا ہے؟ اس ملک میں رہنماؤں کا شدید فقدان ہے۔ یہ حکومت جو ناکام ہوگئی تو اس فقدان پر مہر لگ جائے گی۔ پھر کیا ہم بلاول بھٹو اور مریم نواز پر اکتفا کریں گے یا کسی انقلاب کی راہ دیکھیں گے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ لوگ حکومت وقت سے صرف سیاسی اختلاف ہی نہ رکھیں گے بلکہ مایوسی کا بھی شکار ہوں گے کہ وہ جن سے کچھ امید وابستہ تھی اس امید میں تو چند قدم چل کر آنے کی بھی ہمت نہ تھی۔ ہم سب اپنی اپنی پریشانیوں میں گم ہیں، مریم اور بلاول بھی پریشان ہیں۔ وہ جس تحریک کی تیاری کر رہے ہیں انہیں اس میں خود اپنی طاقت پر اعتماد نہیں، عجب ناطاقتی کا دور ہے جس میں ہر ایک کمزور ہے اور جو طاقتور دکھائی دے رہے ہیں ان کا کام حکومت کرنا نہیں، جانے کیا ہوگا!۔

متعلقہ خبریں