Daily Mashriq

حکمت اور سیاسی عقل کی ضرورت

حکمت اور سیاسی عقل کی ضرورت

ہنگامے ہی ہنگامے، فسادات ہی فسادات، بھائی بھائی کو مارنے والا، دوست دوست کو دھوکا دینے والا، الزامات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ سب کیلئے اپنے مفادات پہلی ترجیح! ہر کوئی آسائشوں کا مارا ہوا، سب کو بڑا گھر چاہئے، قیمتی گاڑی چاہئے، قیمتی قالین چاہئے، بھرپور آمدنی چاہئے، انا کے جھگڑے، نفس پرستی کی پرورش، چند سکوں کیلئے دوسروں کی پگڑی سر بازار اچھالنا، یہ نفس پروری نہیں تو اورکیا ہے؟ اس پر بھی یہ کہا جاتا ہے کہ ہم حق پر ہیں، ہم سچے ہیں اپنے آپ کو نیک نیت ثابت کرنے کیلئے دور کی کوڑیاں لائی جاتی ہیں سب کو دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر تو کسی کو بھی نظر نہیں آتا؟ ہم کس طرف چل پڑے ہیں، ہم نے اپنے لئے کس منزل کا تعین کر لیا ہے، کیا ان سب باتوں سے ہمارے ہاتھ کچھ لگے گا یا پھر ہم بھی اپنے ہزاروں بھائیوں کی طرح چیختے چلاتے ہنگامہ آرائی کرتے کرتے زمین کا پیوند بن جائیں گے اور ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا؟ جب باتیں زیادہ ہوں کسی بات کا کوئی آغاز اور انجام معلوم نہ ہو سب اپنی اپنی ہانک رہے ہوں تو ایسے میں بہتر یہی ہوتا ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے! جب جھوٹ سچ کی تمیز مٹ جائے، جب بڑے بڑے دعوے کئے جارہے ہوں، دوسروں کی نہ سنی جائے اور اپنا ہی راگ الاپا جارہا ہو تو اس نقارخانے میں دوسروں کی نقل کرنے سے بہتر ہے کہ اپنا لائحہ عمل طے کیا جائے۔ اپنی منزل کا تعین کیا جائے، اپنا قبلہ درست کیا جائے۔ متنازعہ موضوعات تو بہت ہیں اور انہیں ہوا بھی دی جارہی ہے ہر بات سے ہر معاملے سے کسی نہ کسی کا مفاد وابستہ ہے، سب اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن مقصد تو ایک ہی ہے یعنی اختیارات کا حصول، طاقت کا حصول۔ جب تک ہم جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے اصول کی پیروی کرتے رہیں گے یہی کچھ ہوتا رہے گا۔ ہم نے پہلے بھی کسی کالم میں لکھا تھا آج پھر ذہن میں سقراط کا ایک مکالمہ یاد آرہا ہے جب وہ اسی قسم کے موضوعات پر اپنے ہم نشینوں کیساتھ بات چیت کررہا تھا۔ سقراط اپنے ایک بزرگ دوست سیفالس سے پوچھتا ہے کہ تمہارے نزدیک انصاف کا مفہوم کیا ہے؟ بوڑھا بزرگ جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے نزدیک انصاف کا مفہوم یہ ہے کہ سچ بولا جائے اپنے قرضے ادا کئے جائیںاور جو کچھ جس کا ہے اس کے حوالے کردیا جائے۔ سقراط کا ایک دوست کہتا ہے کہ قوت ہی کا نام حق ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس جو طاقتور انسان کی غرض ہے وہی عدل ہے۔ حکمران جو قوانین بناتے ہیں وہ اپنی اغراض کیلئے بناتے ہیں۔ سقراط اس کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے کہ عدل کا مقصد یہ نہیں ہو سکتا کہ قاضی یا عدل کرنے والے کو فائدہ پہنچے بلکہ ان کو فائدہ پہنچے جو اس کے سامنے مقدمہ پیش کرتے ہیں اس موقع پر سقراط کا مخاطب تھراسی ماکس کہتا ہے کہ چرواہے اور حکمرانوں کا ایک ہی قسم کا حال ہے وہ جانوروں کی اس وجہ سے دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کو موٹا تازہ کرتا ہے کہ اچھا گوشت کھانے کو ملے، حاکم بھی عوام میں نظم ونسق اسی وجہ سے قائم رکھنا چاہتا ہے کہ خود اس کو زیادہ نفع اور قوت حاصل ہو۔ عوام ایک حاکم کیلئے ایسی ہی ہے جیسی ایک چرواہے کیلئے بھیڑیں۔ سقراط اس کی بات سن کر کہتا ہے کہ عدل نیکی اور عقل مندی ہے جبکہ بے انصافی برائی اور نادانی ہے۔ ناانصافی تفریق نفرت اور جھگڑے پیدا کرتی ہے اور انصاف سے ہم آہنگی اور اخوت پیدا ہوتی ہے اسلئے غیر عادل اور ظالم گروہ کو بھی عدل کی ضرورت ہے اور جب ہم کہتے ہیں کہ بے انصافی باہمی نفرت پیدا کرتی ہے تو کیا ظالموں کے گروہ کے افراد آپس میں جنگ نہیں کریں گے اور کسی بھی مشترکہ عمل کیلئے بیکار نہیں ہو جائیں گے۔ اگر دو آدمیوں کے دلوں میں بھی بے انصافی ہو تو ملکر کام نہیں کرسکیں گے۔ ناانصافی نہ صرف دانائی سے محروم ہے بلکہ قوت سے بھی محروم ہے کیونکہ تمام قوت وحدت مقصد اور اشتراک عمل سے پیدا ہوتی ہے (آج اسی بے انصافی نے ہمیں اور ہماری معیشت کو یرقان زدہ مریض کی طرح کمزور کر رکھا ہے) مسرت اور اطمینان قلب ایک روحانی چیز ہے جب روح کے اندر نظم اور صحت ہو تو اس سے مسرت اور اطمینان پیدا ہوتا ہے، غیر عادل انسان کی روح میں عدل نہیں ہوتا ایسی روح یا انسان کبھی بھی سچا اور حقیقی سکون نہیں پا سکتا۔ سقراط کی محفل میں موجود گلوکون نامی فلسفی کہتا ہے کہ آؤ دو اشخاص کا مقابلہ کرتے ہیں ایک مکمل طور پر غیرعادل اور ایک مکمل طور پر عادل ہے۔ فرض کرو غیر عادل شخص بڑا مکار معاملہ فہم اور دلیر ہے، قوت بیان کا بھی مالک ہے، ریاکار ایسا ہے کہ سب کچھ کرنے کے باوجود بھی لوگوں کی نظروں میں معتبر بنا رہتا ہے۔ کبھی غلطی کر بیٹھے تو صاف بچ کر نکل جاتا ہے، دولت پیدا کرکے کثرت سے اپنے خیرخواہ پیدا کر لیتا ہے جو ہر حالت میں اس کی مدد کرنے پر آمادہ رہتے ہیں، اگر ضرورت پڑے تو زبردستی بھی اپنا مقصد حاصل کر لیتا ہے (ارباب اقتدار میں ایسے کئی لوگ آج ہمارے اردگرد بکھرے ہوئے ہیں) اس کے مقابلے میں دوسرا شخص نہایت شریف النفس ہے، صرف عادل دکھائی دینا اس کو گوارا نہیں بلکہ حقیقی عدل اپنی فطرت میں رکھتا ہے۔ ابن الوقت نہیں ہے موقع دیکھ کر اصول نہیں بدلتا بلکہ عدل پر قائم رہتا ہے لوگ غلط فہمی سے اسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں لیکن وہ لوگوں کی رائے کی پرواہ نہیں کرتا اور انصاف کے تقاضے نبھائے چلا جاتا ہے۔ وہ اپنے نفع نقصان کی پرواہ نہیں کرتا، ایسے آدمی کی کیا زندگی ہوگی؟ اذیت کے سوا اسے کیا حاصل ہوگا؟ سقراط اس کی بات سن کر کہتا ہے کہ پہلے تم سلطنت کی ماہیت سمجھ لو تو بہتر ہے ایک اچھی حکومت میں چار خوبیوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔ حکمت، شجاعت، عفت اور عدالت! اگر ہمارے حکمرانوں میں حکمت یا سیاسی عقل ہوگی تو وہ تمام مملکت کے اغراض ومقاصد کو صحیح طور پر دیکھ سکیں گے۔

متعلقہ خبریں