Daily Mashriq

عام آدمی کا مسئلہ سیاسی نہیں معاشی ہے

عام آدمی کا مسئلہ سیاسی نہیں معاشی ہے

یہ وہ ایام ہیں جب کالم لکھنے کیلئے بہت سا مواد جمع ہو چکا ہے۔ مثال کے طور پر میاں شہباز شریف کی وطن واپسی، ان کے بیٹے حمزہ شہباز کی گرفتاری، آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ کی گرفتاری، تاہم دیکھنے میں آرہا ہے کہ عام آدمی کیلئے یہ خبریں کچھ بھی دلچسپی نہیں رکھتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وطن عزیز کے معاشی حالات اس حد تک دگرگوں ہو چکے ہیں کہ عام آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہو چکا ہے کہ رات کو اس کے گھر کا چولہا جلے گا یا ٹھنڈا رہے گا۔ اس کے بچے رات پیٹ بھر کچھ کھا سکیں گے یا انہیں بھوکا سونا پڑے گا۔ وہ یہ سوچتا ہے کہ اس کے بچوں کی تعلیم اور خوراک کا کیا بنے گا، گھر کا کرایہ، بجلی گیس کے بل، ٹرانسپورٹ کا خرچہ، علاج معالجے پر اُٹھنے والے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ باقی روزمرہ کے اخراجات کو فی الحال ایک طرف رکھئے، آدمی کو محض زندہ رہنے کیلئے اور بھی بہت کچھ درکار ہوتا ہے۔ اس سال وفاقی بجٹ کے موقع پر عوام میں جو تشویش اور پریشانی پائی گئی ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا حالانکہ ماضی میں بھی مسائل رہے ہیں۔ بہرحال بجٹ آگیا گوکہ بجٹ کا منظوری کے بعد اطلاق یکم جولائی سے ہوگا مگر صورتحال یہ ہے کہ ابھی سے مہنگائی میں ہوشربا اضافے کا آغاز یوں ہو چکا ہے کہ روزانہ خورد ونوش کی اشیا مثلاً سبزیاں، دالیں اور پھل وغیرہ 40فیصد تک مہنگے ہو چکے ہیں۔ تفصیلات سمجھنے میں ہمیشہ کچھ وقت لگتا ہے۔ معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، یہ خبر اگلے روز مشیرخزانہ نے بنفس نفیس دی تھی۔ شاید وہ یہ بھول گئے کہ وہ پہلے بھی کافی عرصہ، وزیرخزانہ رہ چکے ہیں لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وطن عزیز کو اس مقام تک لانے میں ان کا بھی حصہ ہے۔ اگر کبھی ہماری معاشی بدحالی کے ذمہ داران کی فہرست مرتب کی گئی تو ان کا نام بھی شامل ہوگا۔ کتنا سرفہرست ہوگا یا کتنا نیچے اس نکتے پر بحث ہوسکتی ہے۔ اس فہرست میں ایک نمایاں نام اسحق ڈار کا ہوگا جو ملکی معیشت کی کمر کامیابی سے توڑنے کے بعد اب اپنے علاج کیلئے لندن میں براجمان ہیں۔ یہ درست ہے کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو نہیں بھولتیں لیکن زندہ قومیں اپنے مجرموں کو بھی نہیں بھولتیں، یہ بھی اتنا ہی درست ہے۔ محسنوں اور مجرموں کا درست تعین ہی دنیا کو بتاتا ہے کہ یہ قوم کیسی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم زندہ قوم ہیں؟ وزیراعظم نے جس کمیشن کا اعلان کیا ہے اس کی ذمہ داریوں کا حدود اربعہ ابھی سامنے نہیں آیا لہٰذا کہا نہیں جاسکتا کہ کس قسم کے جرائم کا سراغ لگانا اور کیسے مجرموں تک پہنچنا مقصود ہوگا۔ اس وقت یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ جرائم کی نشاندہی کیلئے صرف دس سال کا دورانیہ کیوں مقرر کیا جا رہا ہے۔ کیا موجودہ اقتصادی بحران صرف گزشتہ دس سالوں کا شاخسانہ ہے؟ کیا اس سے پہلے سب کچھ ٹھیک ہوتا رہا ہے؟ کیا تب سارے معاملات درست سمت میں آگے بڑھتے رہے تھے؟یہ ساری تمہید باندھنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ملک کے داخلی معاملات کا معمولی سا شعور رکھنے والا عام پاکستانی بھی گزشتہ روز پیش کئے گئے بجٹ کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہے۔ اسے صاف نظر آرہا ہے کہ نئے بجٹ سے اس کی مشکلات مزید ناقابل برداشت ہو جائیں گی۔ پاکستان کا تازہ ترین اقتصادی سروے دو روز پہلے جاری ہوچکا ہے۔ ایک ایسا ملک جو خود اس کے مشیر خزانہ کے مطابق دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا ہے، کا اقتصادی سروے کیا ہوگااور کیا ہوسکتا ہے؟ اس میں درج اعداد وشمار توقعات کے عین مطابق، قوم کیلئے شرمندگی اور تشویش کا باعث ہیں۔ اشیائے صرف کی قیمتیں، تعلیم، صحت، پینے کے پانی، تحصیل کچہری، تھانے کے مسائل عام آدمی کیلئے پہاڑ جیسے ہیں۔ روپے کی قدر میں تیزی سے کمی، سٹاک ایکسچینج، سرمایہ کاری، روزگار، جس چیز کی طرف بھی دیکھیں انحطاط ہی انحطاط اور بدحالی وزبوں حالی ہی نظر آتی ہے۔ بلاشبہ ہمارا حال ہمارے ماضی کا نتیجہ ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن ہمارا مستقبل ہمارے حال کی کوکھ سے ہی جنم لے گا اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہئے۔ ہمارے پاس کون سے آپشنز ہیں اور ان آپشنز کو کیسے بروئے کار لایا جاسکتا ہے؟ اسی پر بات کر لیتے ہیں۔ قومی بجٹ اور وزیراعظم کا قوم کے نام پیغام ہماری موجودہ صورتحال کے تناظر میں بہت اہم ہیں۔ بطور قوم ہماری چند ذمہ داریاں ہیں، صحیح ٹیکس دینا اُسی طرح فرض ہے جس طرح معاشرے میں امن قائم رکھنا صرف ریاست کا ہی نہیں بلکہ ہر فرد کا بھی فرض ہے۔ ہم کم ازکم 60سالوں سے اپنی ذاتی ترجیحات، اپنے ذاتی مفادات کو سامنے رکھ کر زندگی گزار رہے ہیں۔ ہماری ترجیحات میں پاکستان کس نمبر پر درج ہے؟ اگر اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنے اردگرد بھی نظر دوڑا لیں اور دیانتداری سے جواب دیں تو اپنے جواب پر ہمیں شرمندگی ہوگی۔ بجٹ سے واضح ہے کہ آنے والے دن آسان نہیں ہوں گے۔ حکومت سے صرف یہ کہنا ہے کہ اتنا خیال ضرور رکھے کہ جن افراد اور طبقوں کی چوری اور قانون شکنی کے سبب ملک دیوالیہ ہونے کو ہے ان کی سزا ان افراد اور طبقوں کو نہ دے جو اول الذکر کے جرم میں شریک نہیں رہے۔ اگر ہم نے ایک آزاد اور باعزت ملک کے طور پر زندہ رہنا ہے تو سب سے پہلے پاکستان کو رکھنا ہوگا، صرف زبانی اور محض بطور نعرہ نہیں بلکہ عملاً اور مکمل دیانتداری کیساتھ۔ تبھی حقیقی ترقی کی راہوں پر گامزن ہوا جاسکے گا۔ بہرحال اس سب کے ساتھ ایک امید افزا خبر کا ذکر کرنا عین برمحل ہوگا اور وہ یہ کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق ٹیکس ایمنسٹی سکیم کیلئے درخواست دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

متعلقہ خبریں