سپیکر پر الزامات سنگین معاملہ

سپیکر پر الزامات سنگین معاملہ

نیب کی جانب سے سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں اور جائیداد بنانے کے الزام میں تحقیقات پاکستان تحریک انصاف کے لئے اس بنا پر بڑے جھٹکے سے کم نہیں کہ اولاً اس کے ایک دیرینہ اور سینئر رکن پر الزام لگا ہے۔ دوم یہ کہ سپیکر اسمبلی جیسے عہدے کا وقار مجروح ہوا ہے جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر اس عہدے پر فائز شخص کا دامن صاف نہیں تو جن کے پاس محکمے ہیں ان کے حوالے سے معاملہ تو بس منتظر ہے پردہ اٹھنے کی نگاہ والا معاملہ ہوگا۔ کسی کے بارے میں بد گمانی مناسب نہیں الایہ کہ اس پر کوئی سرکاری ادارہ باقاعدہ الزام نہ لگا دے لیکن معاملات اگر نوشتہ دیوار نہ بھی ہوں تب بھی کسی بھی حکومت کے حوالے سے سو فیصد شفافیت کی توقع بھی معروضی حالات میں زمینی حقیقت قرار نہیں پاتی۔ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کی جن اراضی اور ان کی مالیت کا ذکر کیاگیا ہے اس میں صداقت کا عنصر کم ہی دکھائی دیتا ہے کیونکہ ان کا ایک معقول اور منافع بخش کاروبار موجودہے جس کی ملکیت کے کاغذات میں مصلحت کے تحت حصے کی کمی بیشی ممکن ہے۔ بہر حال معاملات کی تحقیقات کے بعد اصل صورتحال سامنے آئے گی۔ البتہ ہمارے تئیں غیر قانونی بھرتیوں کامعاملہ سنجیدہ اور عدالت میں ثابت کرنے کے قوی امکانات کے باعث سنگین مسئلہ ہے۔ خاص طور پر ایک غیر متعلقہ قسم کے شخص کی تقرری سے معاملت کا الزام خاصا سنگین معاملہ ہے۔ بھرتیوں میں گڑ بڑ کا الزام سرکاری دستاویزات اور شواہد کی روشنی میں درست یا صحیح ثابت کیا جاسکتا ہے۔ نیب کی جانب سے الزامات میں کمی بیشی تحقیق و عدم تحقیق اور معلومات کے ناقص ہونے کے تمام تر امکانات کے باوجود یہ فرض نہیں کہ یہ الزامات بد نیتی پر مبنی ہیں جیسا کہ عموماً اس بارے میں یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے۔ سپیکر اسد قیصر کو چاہئے کہ وہ الزام لگنے کے بعد عہدہ چھوڑ دیں اور اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کی جماعت کو چاہئے کہ وہ ان سے جواب طلبی کریں۔ اگر و ہ جماعتی ارکان کے سامنے الزامات کو غلط ثابت نہ کرسکیں تو ان سے استعفےٰ لیا جائے تاکہ اس کے اثرات جماعت پر نہ پڑیں اور مخالفین کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے۔
قابل غور بات
اگرچہ یہ تاثر لینا درست نہیں کہ ہمارے بعض علمائے کرام بھی میڈیا سے ضرورت سے زیادہ متاثر ہیں اور وہ شہرت کے حامل خواتین و حضرات کو عام انسانوں سے ممیز سمجھتے ہیں لیکن عملی طور پر بعض ایسے واقعات سامنے آتے ہیں کہ ایک لمحے کو یہ سوچ درست لگنے لگتی ہے۔ معروف ماڈل و ادا کارہ اور ان کے شوہر کے درمیان ناچاقی دور کرنے میں جید علمائے کرام کے کردار کی ستائش کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ علمائے کرام سے صلح و خیر ہی کی توقع ہے اور یہ ان کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ معاشرے میں فلاح پر مبنی خدمات انجام دیں۔ اعتراض کی گنجائش وہاں نکلتی ہے جہاں علمائے کرام اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ معروف ماڈل اور اس کے شوہر کے درمیان صلح کرانے میں معروف علماء کی پہل کی تحسین کے ساتھ علمائے کرام سے نہایت ادب سے استفسار یہ کرنا ہے کہ ان کا معاشرے میں من حیث المجموع یہ کردار کیوں نہیں۔ ایک محلے کا امام مسجد اپنے مقتدیوں کے اس طرح کے اور اس جیسے دیگر معاملات اورمسائل کے حل کی سعی سے لا تعلق کیوں بن جاتا ہے۔ اس طرح کے معاملات کو زیر بحث لانے کی بجائے ذاتی فعل قرار دے کر صرف نظر کیوں کی جاتی ہے اور یہ کوشش کیوں کی جاتی ہے کہ اس بارے میں معلوم ہونے کے باوجود لا علمی کا تاثر دیا جائے۔ علمائے کرام تبلیغی حضرات محلے کے زعماء ار مقتدرین کو مل کر اس طرح کے کردار کا مظاہرہ کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے کہ خیر اور فلاح کے مواقع نکل آئیں' گلی محلہ اور مسجد کی سطح پر خیر خواہی کے ان کاموں کی انجام دہی چنداں مشکل نہیں اور نہ ہی اختلافات کا باعث ہوں گے بلکہ معاشرے کو ایک دوسرے کے قریب لانے خاندانوں میں عداوت و کدورت ختم کرنے اور خاندان کو جوڑنے کا باعث بنیں گے۔ صوبائی حکومت نے تھانے کی سطح پر جو مصالحتی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں ان کا دائرہ کار گلی محلوں تک بڑھانے کی ضرورت ہے۔ معاشرے کے جملہ کردار مل کر اگر لوگوں کو ایک بہتر متبادل دیں تو لوگ تھانوں اور عدالتوں سے رجوع کرنے کی بجائے ان سے رجوع کرنے لگیں گے اور اخوت پر مبنی ایک اسلامی معاشرہ خود بخود وجود میں آئے گا۔

اداریہ