کراچی کا اصل مسئلہ ہم ہیں

کراچی کا اصل مسئلہ ہم ہیں

اپنے ہی رویوں کی توجیہات ڈھونڈنے میں کئی بار ایک قوم کو ایک زمانہ لگ جاتا ہے۔ لیکن یہ وہ بھو ل بھلیاں ہیں جو بڑی پر اسرار ہیں۔ اس میں راستہ ملنے کی امید ہونے لگے تو یہ بھول بھلیاں اپنے پیچ و خم بدلنے لگتی ہیں۔ کراچی کے بارے میں جب بھی سوچوں یہ اسرار بڑھنے لگتا ہے۔ آخر وہ سب کیا ہے جو ہمیں دکھائی دیتا ہے اور وہ کیا ہے جو دکھائی ہی نہیں دیتا لیکن اس کی آواز ہمارے چہار جانب پھیلی ہوئی ہے۔ وہ آواز جو لگتا ہے کئی نوجوانوں کی انگلی پکڑ کر انہیں انجانی راہوں کی طرف لے جاتی ہے یا پھر یہ آواز بانسری والے کی آواز ہے جس کی لے کے اثر میں ہمارے بچے مدہوش' بد مست ناچتے گاتے چلے جا رہے ہیں اور اسی بے خودی میں وہ جانے کب کسی پہاڑی سے سمندر کی منہ زور لہروں میں کود کر گم ہو جائیں گے۔ یہ کراچی ہمارا دل ہے اور اس کے مسائل کا حل تلاش کرتے کرتے ہماری ایک نسل مٹی میں مل گئی' ایک بوڑھی ہوگئی' ایک جوان ہے اور اسی جوانی میں اپنی بے بسی محسوس کر رہی ہے۔ اور ایک ابھی اپنے بچپنے کی بال پکڑے محض خوفزدہ ہے کہ کبھی یہ معمہ سلجھانے کو اس کو بھی تھما دیا جائے گا۔ تب وہ جانے اس سے کیسے عہدہ برآ ہوں گے۔ کبھی کبھی جب کراچی پر بات ہونے لگتی ہے اور بہت سے لوگ اپنے اپنے کاغذ کے پرزے پکڑے اپنے اپنے حساب کتاب لئے سامنے آجاتے ہیں۔ کراچی ایک بہت بڑا شہر ہے۔ بہت بڑے شہرکے مسائل بھی بہت بڑے ہوتے ہیں۔ ہم کراچی سے اس لئے پریشان رہتے ہیں کہ پاکستان میں ایسا دوسرا بڑا شہر ہی کوئی نہیں۔ اسی لئے یہ شہر ملک کی باقی رفتار سے کئی سال آگے بھی محسوس ہوتا ہے اور اس گتھی کو سلجھانے کا کوئی سرا بھی کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ درست کہتے ہیں لیکن بات صرف اتنی ہی کہاں ہے۔

کہیں سے آواز آتی ہے کہ کراچی کے اس حجم کے باعث وہاں انتظامیہ کمزور ہو جاتی ہے۔ انتظامیہ کی کمزوری' قانون شکنوں کی موجودگی اور طاقت پر منتج ہوا کرتی ہے۔ پھر کراچی میں ایک جیسی سوچ رکھنے والے مخصوص علاقوں میں رہتے ہیں۔ ہم دہشت گردوں کو قبائلی علاقوں میں تلاش کرتے ہیں حالانکہ یہ کئی بار کراچی کے نواحی علاقوں اور کچی آبادیوں سے ملتے ہیں۔ اتنے بڑے شہر کو کھنگالنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ مقامی حکومت بھی ناکام ہو جاتی ہے۔ خفیہ ایجنسیاں بھی تھک جاتی ہیں۔ معاملات میں بگاڑ بڑھتا چلاجاتا ہے اور ان قانون شکن لوگوں کو توانائی ملتی چلی جاتی ہے۔ سیاست دانوں کی پشت پناہی بھی ایک اور بڑا مسئلہ ہے جس شہر کے لیڈر الطاف حسین اور آصف علی زرداری جیسے لوگ ہوں وہاں صولت مرزا اور عزیر بلوچ جیسے لوگ بہتات میں ہوا کرتے ہیں اور رینجرز جتنے بھی آپریشن کریں منبع ختم نہ ہو تو دھارے پھوٹتے ہی رہتے ہیں' تقویت بھی پکڑتے ہیں۔ کراچی میں قانون کی بالادستی کا عالم یہ ہے کہ خود سندھ کے وزیر اعلیٰ وہاں کے ان افسروں کے تبادلوں کے لئے ان کے افسران بالا کو فون کرتے ہیں جو ان کی مرضی کے خلاف کام کریں اور ایماندار ہوں۔ بل منظور کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ کو طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی جاسکتی۔ وہ بادشاہ سلامت ہیں انہیں کام چاہئے بالکل ایسے جیسے وہ چاہتے ہیں خواہ جتنے بھی ضوابط اس عمل میں جام شہادت نوش کریں اور بات صرف یہیں تک کہاں محدود رہتی ہے۔ اچھے خاصے ایماندار افسروں پر اس وقت بے ایمانی کا ٹھپہ لگ جاتا ہے جب وہ بادشاہ سلامت کے فرمان کو ضابطہ کار میں لانے کی بات کرتے ہیں۔
کراچی کے مسائل صرف سیاسی ہی کہاں ہیں۔ ہر سال قریباً دو لاکھ سے زائد افراد کراچی کی جانب ہجرت کرتے ہیں کیونکہ بہر حال ایک بڑے شہر میں روز گار کے بہترمواقع موجود ہوتے ہیں۔ یہ بھی بات قابل غور ہے کہ پاکستان کے پورے جی ڈی پی کا 15فی صد صرف کراچی شہر پیدا کرتا ہے۔ انڈسٹری میں Value adding sector بھی کراچی کے ہی گرد و نواح میں موجود ہے اور تقریباً 42فیصد مانا جاتا ہے۔ایسے بے شمار اعداد و شمار ہمیں بار بار اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ کراچی ہمارے لئے کتنا اہم ہے۔ ایک خیال یہ بھی کہتا ہے کہ تاریخی اعتبار سے اگر کراچی کو جانچنے کی کوشش کی جائے تو شاید یہ بات معلوم ہو کہ کراچی کے مسائل میں تو ہر بار ہی سیاست دانوں نے اضافہ کیا ہے۔ جناب لیاقت علی خان پر تاریخ یہ الزام لگاتی ہے کہ انہوں نے محض اپنا انتخابی حلقہ مضبوط کرنے کے لئے بھارت سے آنے والے مہاجرین کو ملک میں کہیں اور قیام نہ کرنے دیا اور انہیں کراچی کی طرف دھکیلا۔ باتیں تو بے شمار ہیں اور شاید مسائل میں سے ہرایک کو علیحدہ علیحدہ نتھار لیا جائے تو اتنی وجوہات اکٹھی ہو جائیں کہ بات سنبھالنی مشکل ہو جائے لیکن پھر جب ہر زاویے' ہر جانب سے اسی مسئلے کو دیکھیں گے تو پیرس کے شہر کی طرح ہر گلی اسی ایک ایفل ٹاور کی طرف جاتی محسوس ہوگی کہ یہاں مسئلہ لوگوں کا نہیں' یہاں انتظامی مسائل کا دوش ضرور ہے لیکن مکمل ذمہ داری ان کی نہیں۔ یہاں کا اصل مسئلہ ہمارے سیاست دان ہیں۔ مجرم سیاست دان' فلموں میں ولن دکھائی دینے والے لوگوں جیسے سیاست دان' ڈان سیاست دان جو اس شہر کو بگاڑ رہے ہیں' تہس نہس کر رہے ہیں۔ اس کی رگوں سے زندگی کی آخری رمق تک چوس لینا چاہتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کا سیاسی ایجنڈا اس شہر کی تباہی ہے۔ جو اس شہر کو چاٹ لینا چاہتے ہیں اور وہ کسی صورت نہ رکیں گے۔ جب تک اس ملک میں الطاف حسین اور آصف زرداری جیسے لوگ موجود رہیں گے اور حکومت وقت میں اس شہر کے مسائل حل کرنے کی خواہش ہی جنم نہ لے گی اس وقت تک ہماری نسلیں تو یونہی کف افسوس ملیں گی اور پھر بھی یہ نہ سوچیں گی کہ یہ کیسے لوگ ہیں جنہیں ہم دیوتا مان کر انہیں ووٹ ڈال آتے ہیں۔ جانے ہم کب سدھریں گے۔

اداریہ