Daily Mashriq


تخریب کاری کے اصل مراکز

تخریب کاری کے اصل مراکز

پاکستان میں تخریب کاری کون کروارہاہے؟ کیا دہشت گرداتنے طاقتور ہیں کہ وہ ہربار دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت اور دنیا کی چھٹی سب سے بڑی فوج اور گیارہویں پاورفل آرمی تک کوچکمہ دے جاتے ہیں؟آخر کیوں دہشت گردی کی زیادہ وارداتیں پاکستان میں ہوتی ہیں؟پاکستان کے پڑوسی ممالک بھار ت اورایران کیوں کردہشت گردی کا شکارنہیں ہوتے اور کیسے یہ ممالک دھماکے اور تخریب کاری کی کارروائیوں سے محفوظ ہیں؟۔یہ وہ سوالات ہیں جو کافی عرصہ سے ہرپاکستانی کے ذہن میں ابھرتے ہیں اور ہرپاکستانی ان کے جوابات تلاش کرنے کی سعی کرتا ہے،لیکن تسلی بخش جواب کہیں سے نہیں مل پاتا۔عام طور پرہمارے ہاں تخریب کاری اور دہشت گردی کو افغانستان اورامریکی جنگ سے جوڑا جاتاہے یاپھرشدت پسندوں کی ذہنی فکر کو دہشت گردی کا موجب ٹھہراکرآنکھیں موند لی جاتی ہیں۔جب کہ دہشت گردی اور تخریب کاری کے اصل مراکز پر کبھی غور نہیں کیا جاتا اور اگر کبھی ان مراکز پر بات ہوبھی جائے تو محض رسمی بیان بازی سے آگے کچھ نہیں کیا جاتا۔یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کا نقصان پاکستانی قوم سالہا سال سے بھگت رہی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ ملکی استحکام کے لیے داخلی اور خارجی امن دونوں بہت ضروری ہیں۔داخلی امن کا انحصار ہمیشہ خارجی امن پر ہوتاہے اورخارجی امن میں ملکی سرحدیں ا ور ہمسایہ ممالک مرکزی کردار اداکرتے ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان کو ہمیشہ خارجی امن کے ان دوکرداروں سے نقصانات کا سامنا رہاہے۔اس وقت پاکستان کا داخلی امن انہیں دوکرداروں کی وجہ سے متزلزل ہے۔چنانچہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ جڑی پاکستان کی سرحدوں ہی سے تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیاں ملک میں ہورہی ہیں،جس کا اظہار پاکستان کے خفیہ ادارے اور حکومت کرتی رہی ہے۔پاکستان کی سرحدیں چار ہمسایہ ممالک انڈیا،ایران افغانستان اور چین کے ساتھ ملتی ہیں۔

ہمسایہ ممالک کے ساتھ جڑی ان سرحدوں میں سب سے زیادہ افغان سرحدپھر انڈیا اورایران کی سرحد سے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیاں ریکارڈ کی جاتی رہی ہیں۔جس کاجواب پاکستان وقتافوقتاان کارروائیوں کے بعد دیتا رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں پے درپے دہشت گردی کے المناک سانحات رونما ہوئے ۔دہشت گردی کے ان واقعات کا اصل مرکز افغانستان کی سرحد اور اس سے ملحقہ علاقے بتائے گئے،جہاں پاک فوج نے دہشت گردوں کو بھرپور جواب دیا۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخر دہشت گردی کے واقعات رونما ہونے سے پہلے دہشت گردی کے ان مراکز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی ۔دیکھا جائے تو چین کے علاوہ پاکستان کے تینوں ہمسایہ ممالک افغانستان میں ایک پیج پر جمع ہیں۔تینوں کے باہمی تعلقات کی گہرائی کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ تینوں ایران کی چاہ بہار پورٹ میں شریک ہیں اور گزشتہ سال تینوں ممالک اس پربھاری ڈیل کرچکے ہیں۔جب کہ ایران اور بھارت افغانستان میں اس قدر مؤثر ہوچکے ہیں کہ وہاں کے انفراسٹرکچرا ور ترقیاتی کاموں میں سرمایہ کاری کررہے ہیں ،افغان پولیس،فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ بھی گہرے مراسم ہیں،چنانچہ ان کے قونصل خانے بڑے پیمانے پر افغانستان میں کام کررہے ہیں۔ان حالات میں ہر باشعور یہ سمجھ سکتا ہے کہ افغان سرحد سے پاکستان میں تخریب کاری کون کررہاہے اور تخریب کاری کے اصل مراکز کیا ہیں ۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ''پڑوسی ممالک کو ناراض نہیں کرسکتے''ایسے فلسفے سے باہر نہیں نکلتے ۔بھلے پڑوسی ممالک ہمارا خون بہاتے رہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنا کسی بھی ملک کے مستحکم رہنے کے لیے ضروری ہوتاہے۔لیکن جب پڑوسی ممالک سے ملک عدم استحکام کا شکار ہورہاہو تب ان تعلقات پر غور کرنا اور اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسی کو نئے خطوط پراستوار کرنا بہت ضروری ہوتاہے۔اچھاہوا کہ پاک فوج نے افغانستان اور انڈیا کی سرحدوں پر مانیٹرنگ اور سیکورٹی کی طرح ایران کے ساتھ جڑی پاکستان کی سرحد پر بھی مانیٹرنگ اورسیکورٹی سخت کرنے اور آپریشن رد الفساد کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے،تاکہ بلوچستان کے امن سمیت ملکی امن وامان پراثرانداز ہونے والے عناصر پرقابوپایاجاسکے۔لیکن اس فیصلے پر سختی سے کاربند رہنا اور پڑوسی ممالک کی طرف سے چاپلوسانہ ڈپلومیسی کی چالوں کو سمجھ کراس کا مقابلہ کرنا بہت ضروری ہے۔کیوں کہ ماضی میں کئی بارہماری خارجہ پالیسی چاپلوسانہ ڈپلومیسی کا شکار ہوتی رہی ہے۔

بات یہ نہیں کہ ان پڑوسی ممالک سے جنگ کی جائے یا ان سے تعلقات خراب کیے جائیں،بلکہ اصل کام یہ ہے کہ ان سے ہاتھ ملا کراس طورپردوٹوک مؤقف اپنایاجائے کہ اپنے مفادات پر آنچ نہ آنے دی جائے، عوام اور ملک کا امن متزلزل نہ ہونے دیا جائے۔لیکن افسوس ہمارے ہاں ایسے عناصر موجود ہیں جو ہمارے کم،اوروں کے زیادہ ہیں۔یہی وجہ کہ پڑوسی ممالک کی طرف سے ملک میں ہونے والی تخریب کاری اوردہشت گردی پر دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت گزشتہ 15سالوں سے قابو نہیں پاسکی۔اس لئے سب سے پہلا کام ایسے عناصر کی نشاندہی کرکے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں