Daily Mashriq

اظہار رائے کی آزادی اور عالمی صورتحال

اظہار رائے کی آزادی اور عالمی صورتحال

ہمارے ہاں یہ بات ضرب المثل کی طرح مشہور ہے کہ مغرب میں جب سے جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوئی ہیں لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت زیادہ ممکن ہوئی ہے۔ بیسویں صدی میں اس حوالے سے جو قانون سازی ہوئی اور مغرب کے جمہوری ممالک میں اس کے سبب لوگوں کو بنیادی حقوق اور آزادی کے نام پر بعض مقامات پر ایسی آزادیاں ملیں کہ کوئی اخلاقی' مذہبی یا اس قسم کی اور کوئی قدغن ان کو روکنے کا نام نہیں لے سکتی۔ اور پھر ایک طرف ایسی آزادی کہ پہلے تو مغرب میں مذموم خاکے بنتے تھے اور اب ان کی آشیر واد سے مصر اور پاکستان جیسے ممالک میں سوشل میڈیا کو اس کام کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔گزشتہ ''بلاگرز'' نے پاکستان جیسے اسلامی ملک میں ''بھینسوں' کتوں اور خنزیروں'' کے ذریعے سوشل میڈیا پر جو زہر پھیلایا اس کی تلخی نے اسلام آباد کی عدالتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ سانحہ اتنا شدید تھا کہ شوکت عزیز صدیقی شاید پاکستان کی تاریخ کے پہلے جج ہیں جن کو ان انسانیت سوز واقعات نے آبدیدہ کردیا۔ان حالات کے پیش نظر جب چند بلاگرز گرفتار ہوئے تو سوشل میڈیا نیٹ ورکس' ٹوئیٹر اور فیس بک اکائونٹ ایسے سرگم ہوئے گویا قیامت آگئی ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی طرف سے ان کے لا پتہ ہونے پر بہت تشویش کا اظہار کیا گیا اور نتیجتاً جب چند دنوں بعد آزاد ہوئے تو ''پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا'' یورپ پہنچے تو ان کی اور ان کے بیرونی ہمدردوں کی بے چین روحوں کو گویا قرار آگیا۔ دوسری طرف اظہار رائے کی آزادی کے باوجود اس پر پابندی کا اندازہ بھی اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پریس کانفرنس میں جب ایک صحافی سوال کر رہا تھا تو ٹرمپ اس کے سوال کو سننا نہیں چاہتے تھے لیکن جب صحافی اس کے باوجود بولتا رہا تو امریکی صدر نے خود سیکورٹی کو اشارہ کیا کہ اس ''گستاخ'' کو نکال باہر کیا جائے۔ سیکورٹی کے افراد اس کو قابو کرکے باہر نکال لیتے ہیں۔ پابندیوں اور آزادیوں کے تسلسل میں تضادات و تعصبات اور مفادات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے دنوں کھیل کے میدان میں دو ایسے واقعات ہوئے جس سے وہ ''مخصوص'' ذہنیت صاف جھلکتی ہے۔پاکستانی نژاد سائوتھ افریقی کرکٹر عمران طاہر نے ایک میچ کے دوران وکٹ حاصل کرنے کی خوشی میں اپنی شرٹ تماشائیوں کو دکھائی جس پر طیارہ حادثہ میں شہید ہونے والے معروف نعت خوان جنید جمشید کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ یہ گویا عمران طاہر کی طرف سے اپنے ممدوح نعت خواں کو محبت اور عقیدت کا نذرانہ پیش کرنا تھا۔ لیکن مغرب کی آزادی اظہار رائے پر ایسی ضرب پڑی کہ کرکٹ کے اعلیٰ حکام کی طرف سے عمران طاہر کو باقاعدہ وارننگ دی گئی کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت کی تو سزا بھی ہوسکتی ہے۔ اسی طرح ایک فٹ بال میچ کے دوران ایک کھلاڑی کی طرف سے شامی مہاجرین کے بارے میں شاید چند ہمدردی کے الفاظ بولنے پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ لیکن کھیلوں کی تاریخ میں ایسی مثالیں پہلے بھی رہی ہیں کہ کھلاڑیوں نے کھیل کے میدان میں اشارے بھی کئے ہیں اور بعض اوقات اپنے کئی قسم کے جذبات کا اظہار بھی کیا ہے ۔ یہاں تک کہ مختلف کھیلوں کے مقابلے کے دوران ایسے نعرے بلند کئے گئے اور اشارے کئے گئے جس میں اسرائیل جیسے غاصب اور ظالم ملک کی حمایت مقصود تھی لیکن ان کھلاڑیوں کا بال بھی بیکا نہ ہوا۔ لگتا ایسا ہے کہ اگر کوئی اسلام سے متعلق اخلاقیات و تہذیب وغیرہ کی بات یا اشارہ کرتا ہے یا کہیں عدل و انصاف کی بات کرتا ہے تو اس کے لئے رائے کے اظہار پر پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں اور جرمانہ وغیرہ بھی عائد ہوسکتا ہے۔ پچھلے دنوں پنجاب کے صوبائی وزیر ہائیر ایجوکیشن سید رضا گیلانی نے ایک اجلاس میں صرف یہ تجویز پیش کی کہ حجاب کرنے والی طالبات کو حاضریوں میں پانچ حاضریوں کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ چونکہ اس تجویز پر عمل درآمد کرنے سے امریکہ اور یورپ ناراض ہوسکتے تھے لہٰذا پاکستان میں ان کے ''وکلائ'' فوراً اس تجویز پر برس پڑے اور اتنی دور کی کوڑی منٹوں سیکنڈوں میں ڈھونڈ کر لے آئے کہ شاید ہی اہل مغرب بھی اس قسم کی دانش کا اتنی جلدی مظاہرہ کر پاتے۔ اس اقدام پر انسانی حقوق کے علمبرداروں نے فوراً نا انصافی کی دہائی دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو لڑکوں کے ساتھ زیادتی ہے اور غیر مسلموں کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ جونہی یہ بات میڈیا کے ذریعے سامنے آئے پنجاب حکومت کے ترجمان نے فوراً تردید کی کہ حکومت پنجاب کی طرف سے پنجاب کے کالجوں میں طالبات کے لئے حجاب کو لازمی قرار دینے کی کوئی تجویز زیر غورنہیں اور پنجاب حکومت ایسی کسی بھی پالیسی کی سختی سے تردید کرتی ہے اور سید رضا گیلانی کی تجویز کو اس کی ذاتی رائے قرار دے کر دیوانے کی بڑ قرار دیا۔حالانکہ حجاب قرآن و سنت کا تقاضا اور حکم ہے۔ اگر کوئی مسلمان خاتون اس کو اختیار کرنا چاہے تو اس کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ اسلامی ریاست میں خواتین کا حجاب و نقاب کرنا لازمی امر ہے۔ لیکن ہم جو ٹھہرے مغرب کے ذہنی اور مادی غلام' اور اگر اسلامی دنیا میں حجاب لازم ہو کر عام ہوا تو پوری دنیا کی خواتین پر اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور مغرب کی کاسمیٹکس کی اربوں کی صنعت متاثر ہوسکتی ہے۔ علم اور اخلاقیات لازم و ملزوم ہیں اورعلم ہی اخلاقیات کے ذریعے عدل و انصاف اور باہمی احترام اور حقوق انسانی کا درس دیتے ہیں۔ 

اداریہ