Daily Mashriq

آسانیاں بانٹتے رہیے

آسانیاں بانٹتے رہیے

زندگی میں خوشیوں کی تلاش سب کو ہوتی ہے ہم سب خوش رہنا چاہتے ہیں۔ خوشیاں بانٹنے سے خوشیاںملتی ہیںکوئی بھی شخص دوسروں کو پریشان کرکے خوش نہیں رہ سکتا۔ محبت اور خوشیاں بانٹتے رہنا چاہیے یہی زندگی کی بہار ہے اسی میں روح کا سکون ہے خوشی ایک رویہ ہے جو کچھ ہمارے پاس ہے ہمیں اس کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا اور ہم ساری زندگی ان چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں جن کا حصول ہمارے بس میں نہیں ہوتا یہی رویہ ہمیں بے چین رکھتا ہے ہماری زبان گلے شکوے ہی کرتی رہتی ہے۔ اگر ہم بات کی کھال اتارنے کا رویہ اپنا لیں تو ہمیں اپنے اردگرد موجود دوستوں میں خامیاں اور خرابیاں ہی نظر آتی رہیں گی۔ مکمل ذات تو اللہ پاک ہی کی ہے اپنے دوستوں رشتہ داروں کو ان کی خامیوں کے ساتھ ہی قبول کرنا پڑتا ہے اگر اس طرح نہ کیاجاسکے تو انسان اکیلا ہو کر رہ جائے۔زندگی میں بہت سی چیزوں کو نظرانداز کرنا پڑتا ہے اللہ پاک بھی درگزر سے کام لیتا ہے ہمیں بھی اپنے دوستوں رشتہ داروں بہن بھائیوں کی غلطیوں پر انہیں معاف کرتے رہنا چاہیے نفرت ہمیشہ محبت سے مٹائی جاسکتی ہے۔ سیاستدانوں کو آپ ہزار برا بھلا کہیں لیکن ایک بات ہم سب کو تسلیم کرنی پڑے گی کہ سیاستدان ایک دوسرے کی غلطیاں معاف کرتے رہتے ہیں۔ جو کام اپنے ذاتی فائدے کے لیے کیا جاتا ہے اس کی اہمیت صرف آپ کی ذات تک محدود ہوتی ہے لیکن اگر ہم یہ سب کچھ پورے خلوص اور محبت کے ساتھ کریں تو ہمیں اس کا کتنا میٹھا پھل ملے گا ؟ ہم سوچ بھی نہیں سکتے !ہماری شخصیت کو چار چاند لگ جائیں گے ہمیں اس پر سوچتے رہنا چاہیے کہ ہم اچھی عادات اپنا کر اپنی زندگی میں کتنی آسانیاں پیدا کرسکتے ہیں۔ آسانیوں پر یاد آیا مشہور و معروف ادیب اشفاق احمدمرحوم کی مشہور دعا تھی کہ'' یا اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرما اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا کر ''گر کسی کو آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف نصیب ہوجائے تو اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے ۔اس حوالے سے ہم نے ایک خوبصورت تحریر پڑھی تھی آپ کے ساتھ شیئر کرتے ہیں: آج وہ اپنی تمام مصروفیات کو پس پشت ڈال کر درویش کے پاس پہنچا تھا جب اس کی باری آئی تو اس نے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا بلا تمہید درویش سے دعا کرنے کو کہا درویش نے نوجوان کو بڑے خلوص سے دعا دی:'' اللہ تجھے آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے '' نوجوان نے حیرت سے کہاحضرت ہم پابندی سے زکواة نکالتے ہیںحسب ضرورت صدقہ بھی دیتے ہیںجہاں کسی دوست رشتہ دار کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے اس کی مدد بھی کرتے ہیں اپنے ملازمین کی ضرورتوں کا خیال بھی رکھتے ہیںاللہ پاک کی توفیق سے ہم تو کافی آسانیاں بانٹتے رہتے ہیں۔ درویش نے مسکراتے ہوئے میٹھے لہجے میں کہا میرے بیٹے یاد رکھو اللہ سب کو پالنے والا ہے تم جو کر رہے ہو اگر یہ سب کچھ چھوڑ بھی دوتو اللہ پاک کی ذات یہ سب کچھ فقط ایک ساعت میں سب کو عطا کرسکتی ہے۔ اگر تم یہ کر رہے ہو تو اپنے اشرف المخلوقات ہونے کی ذمہ داری پوری کر رہے ہوتمہارے علاوہ بھی اللہ کے بہت سے نیک بندے یہ سب کچھ کر رہے ہیںمیرے بچے آئو میں تمہیں سمجھائوں کہ آسانیاں بانٹنا کسے کہتے ہیں: کبھی کسی اداس اور مایوس انسان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیشانی پر کوئی شکن لائے بغیر ایک گھنٹہ اس کی لمبی اور بے مقصد بات سننا آسانی ہے! اپنی ضمانت پر کسی بیوہ کی جوان بیٹی کے رشتے کے لیے سنجیدگی سے تگ و دو کرنا آسانی ہے! صبح دفتر جاتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ محلے کے کسی یتیم بچے کی سکول لے جانے کی ذمہ داری لینا یہ آسانی ہے! اگر تم کسی گھر کے داماد یا بہنوئی ہو تو خود کو سسرال میں خاص اور افضل نہ سمجھنا یہ آسانی ہے! غصے میں بپھرے کسی آدمی کی کڑوی کسیلی اور غلط بات کو نرمی سے برداشت کرنا یہ بھی آسانی ہے!چائے کے کھوکھے والے کو اوئے کہہ کر بلانے کی بجائے بھائی یا بیٹا کہہ کر بلانا بھی آسانی ہے! گلی محلے میں ٹھیلے والے سے بحث مباحثے سے بچ کر خریداری کرنا یہ آسانی ہے! تمہارا اپنے دفتر مارکیٹ یا فیکٹری کے چوکیدار اور چھوٹے ملازمین کو سلام میں پہل کرنا دوستوں کی طرح گرم جوشی سے ملنا۔ہسپتال میں اپنے مریض کے برابر والے بستر کے اجنبی مریض کے پاس بیٹھ کر اس کا حال پوچھنا اور اسے تسلی دینا یہ بھی آسانی ہے!ٹریفک اشارے پر تمہاری گاڑی کے آگے کھڑے شخص کو ہارن نہ دینا جس کی موٹر سائیکل بند ہوگئی ہو سمجھو تو یہ بھی آسانی ہے! بیٹا جی ! تم آسانی پھیلانے کا کام گھر سے کیوں نہیں شروع کرتے ؟ آج واپس جا کر باہر دروازے کی گھنٹی صرف ایک مرتبہ بجا کر دروازہ کھلنے تک انتظار کرنا، آج سے باپ کی ڈانٹ ایسے سننا جیسے موبائل پر گانے سنتے ہو، آج سے ماں کی پہلی آواز پر جہاں کہیں ہو فوراً ان کے پاس پہنچ جایا کرنا اب انہیں تمہیں دوسری آواز دینے کی نوبت نہ آئے، بہن کی ضرورت اس کے تقاضا اور شکایت سے پہلے پوری کیا کرو، آئندہ سے بیوی کی غلطی پر سب کے سامنے اس کو ڈانٹ ڈپٹ مت کرنا۔میرے بیٹے ! ایک بات یاد رکھنا زندگی تمہاری محتاج نہیں ہے تم زندگی کے محتاج ہو، منزل کی فکر چھوڑ و، اپنا اور دوسروں کا راستہ آسان بنائو، ان شاء اللہ منزل خود ہی مل جائے گی۔