Daily Mashriq


آئینی ترامیم'' سرخ رومال'' کیوں؟

آئینی ترامیم'' سرخ رومال'' کیوں؟

منیر نیازی کا یہ مصرعہ ''کج شہر دے لوک وی ظالم سن کج مینوں مرن دا شوق وی سی '' اس وقت حقیقت میں ڈھلتا ہوا دکھائی دیتا ہے جب آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کبھی کبھار وفاق میں اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو اپنے کسی بیان یا فیصلے سے سرخ رومال دکھاتے ہیں۔آئین میں ترامیم کے ایک مسودے کی تیاری کے کمیٹی کا قیام ایسی ہی ایک اور کوشش ہے ۔وزیر اعظم آزادکشمیرنے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ،سیکرٹری قانون اور ایڈووکیٹ جنرل پر مشتمل ایک کمیٹی کو آزادکشمیر کے آئین عبوری ایکٹ 74میں ترامیم کا ڈرافٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ان ترامیم کو وفاقی حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کو پیش کیا جائے گا جس میں وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز اور وزیر امور کشمیر چوہدری برجیس طاہر وفاق کی جبکہ وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر اور وزیر قانون راجہ نثار خان آزادکشمیر کی نمائندگی کر رہے ہیں ۔کمیٹی کی منظوری کے بعد یہ سفارشات حتمی منظوری کے لئے وزیر اعظم پاکستان میاں نوازشریف کو ارسال کی جائیں گی اور اس کے بعد انہیں باقاعدہ ترامیم کی شکل دینے اور آئین کا حصہ بنانے کے لئے آزادجموں وکشمیر کونسل اور قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ۔مظفر آباد اور اسلام آباد کی حکومتوں کے انتظامی تعلقات میں ہمیشہ کچھ سقم اور کجیاں موجود رہی ہیں ۔کبھی یہ معاملات قالین کے نیچے دب جاتے تھے اور کبھی میڈیا میں اُچھلنے لگتے تھے ۔انتظامی اور آئینی تعلقات کے کھیل میں اختیارات کی رسہ کشی اور کمی یا اضافے کی خواہش معمول کی بات ہوتی ہے مگر ان خواہشات کو تعلقات کے پیمانے سے اس انداز سے چھلکنا نہیں چاہئے کہ معاملہ محاذ آرائی اور کشیدگی تک پہنچ جائے ۔آزادکشمیر کا آئین ایکٹ 74 جب تیار ہوا تھا اس وقت نہ صرف مظفر آباد اور اسلام آباد کے حالات کچھ اور تھے بلکہ گردو پیش کی صورت حال قطعی مختلف تھی ۔اس قصے کو اب تینتالیس سال یعنی قریب قریب نصف صدی کا عرصہ گزر چکا ہے۔کئی نسلیں اس عرصے میں پیوند خاک ہو چکی ہیں ۔ان ماہ وسال میں دنیا میں بے شمار انقلابات آئے اور انقلابات بھی سیاسی نہیں بلکہ ذہنی اور سماجی بھی برپا ہوئے۔خود اس خطے کے معروضی حقائق میں یکسر تبدیلی آگئی ہے۔میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار نے دوریوں کو قربتوں میں بدل دیا ہے ۔اب فاصلے فاصلے نہیں رہے ۔

اس تبدیل شدہ فضا نے مظفر آباد اور اسلام آباد کی زمینی حقیقتوں کوتبدیل کیا ہے ۔تینتالیس سال قبل ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم کے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ جب آزادکشمیر کے آئین کا مسودہ تحریر کر رہے تھے تو دنیا کا نقشہ کچھ اور تھا ،زمانے کے حقائق اور تھے اس کاچلن کچھ اور تھا۔آج جب تینتالیس سال بعد اس آئین پر نظر ثانی کے لئے ترامیم تجویز کی جارہی ہیں تو پلوں تلے بہت سا پانی بہہ چکا ہے ۔اس لئے آزادکشمیر کے آئین کو وقت کے ان بدلتے تقاضوں اور حالات سے ہم آہنگ اور آشنا کرنا ناگزیر ہے۔ صدر آزادکشمیر سردا رمسعود خان نے بھی فارن سروس اکیڈمی میں زیر تربیت افسروں سے خطاب کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ آزادکشمیر ایک خودمختار ریاست نہیں بلکہ ایک عبوری انتظام کے تحت چلنے والا خطہ ہے جس کا انتظام خود مختار ملک کی طرز پر چلا یا جارہا ہے مگرجہاں دفاع ،خارجہ امور اور کرنسی حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہیں۔صدر آزادکشمیر نے ایک ایسی حقیقت کا اعتراف کیا ہے جو ماہ وسال کی طویل گردش کے بعد ایک مخمصہ بلکہ ایک مذاق سا بن کر رہ گیا ہے۔

آزادکشمیر کا المیہ یہ ہے کہ اس خطے کے اختیارات ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتے چلے گئے ۔موجودہ عبوری آئین ایکٹ 74میں کشمیر کونسل نامی ادارہ بنا کر آزادکشمیر اور پاکستان کے عوام کے انتظامی رشتوں کی بنیادوں میں ایک ٹائم بم رکھ دیا گیا۔اس ادارے نے آزادکشمیر کے انتظامی تعلقات پر مسلسل شب خون مارنے کی حکمت عملی اپنا رکھی ہے ۔

آزادجموں کشمیر کونسل کو انتظامی اختیارات دے کر آزادکشمیر کے نام میں لفظ ''آزاد '' کو بے معنی بنا کر رکھ دیا گیاہے۔آزادکشمیر کے آئین میں ترامیم کی خواہش اور اسے بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی خواہش ہر سیاسی لیڈر کے دل میں انگڑائیاں لیتی رہی مگر کوئی بھی اس معاملے میں پہل کرکے آگ سے کھیلنے کا متحمل نہ ہو سکا۔یہ ہمیشہ سانڈ کو سرخ رومال دکھانے کے مترداف سمجھا گیا ہے ۔فاروق حیدر بار بار یہ پُر خطر کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ایک مسودہ ماضی قریب میں پیپلزپارٹی کی حکومت میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی دو بڑی پارلیمانی جماعتوں کی مشاورت سے تیار ہو اتھا اس کا کیا بنا ؟ کچھ خبرنہیںاس مسودے کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے والے سینئر قانون دان اور آئینی ماہر راجہ محمد حنیف نے یہ سوال پوچھا ہے کہ آئین میں تجویز کی گئی ترامیم کا ایک سو صفحات پر مشتمل مسودہ کہاں چلا گیا ؟ اس سوال کا جواب کون دے گا؟۔صاف ظاہر ہے کہ وہ مسودہ بہت سی پیشانیوں پر بل اُبھارنے کا باعث بنا ہوگا اور نتیجے کے طور پروہ راول جھیل میں بہہ گیا ہوگا یااسلام آباد سیکرٹریٹ ای بلاک میں وزیر امور کشمیر دفترکے کسی کوڑے دان کی نذر ہوا ہوگا ؟یا سرِشام ہی مارگلہ کے جنگلوں سے نمودار ہو کر شاہراہ دستور کے گرد منڈلانے والی کسی مخلوق نے کھالیا ہوگا؟کچھ تو ہوا ہوگاکہ جو ایک جامع اور بھرپور مسودے کے بعد ایک اور مسودے کی ضرورت پیش آگئی۔

متعلقہ خبریں