Daily Mashriq

فاٹا اصلاحات' آخر کب؟

فاٹا اصلاحات' آخر کب؟


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے درست کہا ہے کہ وہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا)کا صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے حامی ہیں، تاہم خطے کی حیثیت کی تبدیلی تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ کی جانی چاہیے۔ خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین اور نوجوانوں سے بات چیت کرتے ہوئے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر اس انضمام کے حامی ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ فاٹا اصلاحات پر قبائلی عوام کی خواہشات کے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا۔ قبائلیوں کے لئے روز گار کے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ آئندہ دس سالوں میں قبائلی علاقوں کی ترقی پر ایک ہزار ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ جہاں تک فوج کا تعلق ہے فاٹا میں اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے پاک فوج علاقے کی تعمیر و ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ مواصلاتی شعبے کی بہتری' تعلیم اور کسی حد تک علاج معالجہ کی سہولتوں کی فراہمی میں بھی پاک فوج قبائلی عوام کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ فاٹا میں جو فلاحی کام پاک فوج انجام دے رہی ہے اصولی طور پر تو یہ اس کی ذمہ داری بھی نہیں۔ پاک فوج علاقے کے نوجوانوں کو آئندہ کے لئے تیار کرنے کے لئے معیاری تعلیمی اداروں کا جو نیٹ ورک بنا رکھا ہے اس کے مثبت نتائج نکلنا شروع ہوگئے ہیں۔ علاوہ ازیں کے اس مثل امور بھی پیش نظر ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن کے ذمے اجتماعی ذمہ داری نبھانا ہے' جن کے پاس فنڈز اور وسائل ہیں ان کا کردار و عمل کیا ہے۔ وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کر رہی ے اور گورنر خیبر پختونخوا کا کردار و عمل کیا ہے جب تک اس سطح پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں ہوتا فاٹا کے عوام کی زندگی میں تبدیلی کو ایک شدید خواہش ہی شمار کیاجانا حقیقت پسندانہ امر ہوگا۔ جہاں تک فاٹا اصلاحات کا تعلق ہے اصلاحات کرنا اور اس کے لئے ضروری معاملات طے کرنا فوجی قیادت کی نہیں بلکہ سول حکومت کی ذمہ داری اور دائرہ اختیار میں آتا ہے جو اس وقت تقریباً سرد خانے اور سرد مہری کا شکار ہے۔ فاٹا اصلاحات کے نام پر کبھی کبھار باسی کڑہی میں ابال تو دیکھا جاتا ہے لیکن اچانک سارے معاملات پھر سے ٹھپ کردئیے جاتے ہیں۔ کم از کم اب تک اس طرح کے سنجیدہ اقدامات عملی طور پر نہیں اٹھائے گئے ہیں جن سے فاٹا میں اصلاحات کی سنجیدگی سے توقعات وابستہ کی جاسکیں البتہ فاٹا میں اصلاحات سے متعلق ضروری فیصلے ضرور کئے جا چکے ہیں لیکن ان اقدامات کو عملی طور پر لانا اور قبائلی عوام کو ان سے متعارف کرانے کاعمل ابھی باقی ہے۔ ہمارے تئیں مستقبل قریب میں فاٹا اصلاحات کے ضمن میں پیشرفت کا اس لئے بھی امکان نہیں کہ موجودہ حکومت کی مدت تکمیل میں دو ماہ سے کچھ زیادہ کا عرصہ باقی رہ گیا ہے۔ اس دوران فاٹا اصلاحات کو مہمیز دینا شاید ہی ممکن ہو۔ اسے قبائلی عوام کی بدقسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ بجائے اس کے کہ فاٹا میں اصلاحات لا کر اس عمل کی تکمیل کا سفر شروع کیا جائے یہ عمل سیاسی جماعتوں کے متصادم مفادات کی نذر ہو رہا ہے۔ فاٹا اصلاحات میں ہونے والی ہر پیشرفت میں کوئی نہ کوئی رکاوٹ کھڑی کی جاتی ہے اور معاملات ایک مرتبہ پھر سرد خانے میں ڈال دئیے جاتے ہیں اس قسم کی فضا میں فاٹا اصلاحات سے متعلق کسی خوش گمانی کا اظہار حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا۔ آرمی چیف کے اعلانات اور یقین دہانیوں بارے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ قبائلیوں کے لئے روز گار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت سے بھی کسی کو انکار نہیں لیکن دس سال میں قبائلی علاقوں میں ایک ہزار ارب روپے کس کی وساطت سے خرچ ہوں گے یہ وضاحت طلب امر ہے کیونکہ ہر آتی جاتی سیاسی حکومت کی ترجیحات تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور بجٹ میں رقم مختص کرنا ان کی صوابدید ہوتی ہے۔ ان تمام معاملات سے قطع نظر بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ فاٹا اصلاحات کے عمل کو مزید سیاست اور حالات کی نذر کرنے سے اجتناب اور اس ضمن میں مثبت موزوں اور قبائلی عوام کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق پیشرفت سے ہی ملک و قوم کا مفاد وابستہ ہے جس میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ہمارے تئیں قبائلی علاقوں کی پسماندگی دور کرنے کے لئے صرف اصلاحات کا عمل ہی کافی نہ ہوگا بلکہ انتظامی تبدیلیوں اور ہیئت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ مخلصانہ طور پر قبائلی عوام کی خدمت اور مسائل کے حل کی بھی ضرورت کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہوگا۔ قبائلی عوام آج محرومی کے جس احساس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ایسے اقدامات ہونے چاہئیں کہ اس میں خدانخواستہ مزید اضافے کی بجائے کمی آئے۔ حق تو یہ ہے کہ ان کے احساس محرومی کا مکمل خاتمہ کیاجائے مگر معروضی حالات میں ایسا کرنا ممکن نظر نہیں آتا تو کم از کم اس کی سنجیدہ سعی تو ممکن ہے۔ قبائلی علاقوں میں بہتری لانے کے لئے وسائل کی کمی اپنی جگہ ایک مسئلہ ضرور ہوگا لیکن بد قسمتی سے یہاں معاملہ اس قدر الٹ ہے کہ جو رقم قبائلی علاقہ جات کی ترقی اور عوام کی بہبود کے لئے مختص ہوتی ہے اسے سرکار اور عمال کھا جاتے ہیں۔ اگر اس کے آگے بند باندھا جائے اور مختص فنڈز کا ایمانداری سے استعمال شروع ہو جائے تو قبائلی بھائی اسے بھی بارش کا پہلا قطرہ سمجھیں گے۔توقع کی جانی چاہئے کہ فاٹا اصلاحات میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا اور سیاسی جماعتیں اپنی ضد پر اڑنے کی بجائے قبائلی عوام کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد میں رکاوٹیں ڈالنے سے اجتناب کریں گی۔

اداریہ