Daily Mashriq


ہڑتال کی نوبت نہ آنے دی جائے

ہڑتال کی نوبت نہ آنے دی جائے

پلاٹ کی حد بندی کے تنازعے پر ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ میں مکمل ہڑتال اور دفاتر کی بندش سے مسئلہ حل نہ ہونے پر صوبہ بھر کے ہسپتالوں اور دفاتر سے مکمل ہڑتال کا اعلان فوری توجہ طلب معاملہ ہے جس میں تاخیر کی گنجائش نہیں۔صوبائی حکومت کی خاموشی کی وجہ سے محکمہ صحت کا ڈائریکٹوریٹ مسلسل بند چلا آرہا ہے۔ہڑتالی ملازمین کا موقف ہے کہ وکیلوں کی جانب سے تین مرتبہ ڈائریکٹوریٹ کی حد میں گھسنے کی کوشش کی گئی جس کی وجہ سے ملازمین میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ملازمین کے مطابق کل سے صوبہ بھر کے ڈی ایچ اوز دفاتر اور سرکاری ہسپتالوں میں ملازمین ڈیوٹی کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ دریں اثناء معلوم ہوا ہے کہ اس معاملے کے حل کیلئے محکمہ صحت کے وکیلوں کے ساتھ مذاکراتی عمل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔اولاً تو وکلاء کو قانون سے کھلواڑ کرتے ہوئے اس طرح کے غیر قانونی اقدام کا حامل نہیں ہونا چاہئے تھا اگر ان کے پاس کوئی جواز موجود تھا تو بجائے اس کے کہ وہ قانون دان ہو کر قانون کو ہاتھ میں لیتے قانونی راستہ اختیار کیاجاتا ان کی دھینگا مشتی ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے پاس اختیار کرنے کا کوئی قانونی راستہ نہیں۔ دوم یہ کہ محکمہ صحت کے حکام کو راتوں رات دیوار کی تعمیر کی بجائے قانون سے مدد لینے کی ضرورت تھی اور پولیس تعینات کرکے اپنی حدود کا تحفظ کرنا تھا تاکہ یہ معاملہ تنازعہ کی صورت اختیار نہ کرجاتا اور گفت و شنید کے ذریعے معاملہ حل ہو پاتا۔ وکلاء کی طرف سے دیوار گرانے کے بعد کشیدگی فطری امر تھا مگر احتجاج کے باوجود صوبائی حکومت سرکاری ملازمین کی سننے اور سرکاری حدود کے تحفظ میں سرد مہری کا رویہ کمزوری اور ناکامی کی دلیل ہے جس کی کوئی توجیہہ پیش کرنے کی گنجائش نہیں۔ محکمہ صحت کی نظامت کے بعد اگر یہ ہڑتال اعلان کے مطابق ہسپتالوں اور شفا خانوں میں احتجاج تک چلی جاتی ہے تو پھر حکومت اور عوام دونوں کے لئے مشکلات کا باعث ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ اس مسئلے کو گفت و شنید' دلیل اور دستاویزات کی روشنی میں طے کیا جائے۔

متعلقہ خبریں