Daily Mashriq

من پسند حلال وحرام

من پسند حلال وحرام

پیپلز پارٹی مروجہ سیاست کی اسیر ہوئی یہ اسیری تازہ ہے یا اس کے ڈانڈے 1988ء میں سمجھوتے کے تحت لئے گئے اقتدار سے جا ملتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں لمبی چوڑی کھیچل نہیں کرنا پڑتی۔ ہمیں کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہئے کہ مروجہ سیاست میں پیدا بدزبانی' جھوٹ اور جوڑ توڑ کیساتھ اصل مالکان کی وفاداری کو اہمیت حاصل ہے۔ نوازشریف کا غصہ بھی کسی نظریہ کی پامالی پر نہیں بلکہ وزیراعظم ہاؤس سے نکالے جانے اور نااہلی کی وجہ سے ہے۔ حیرانی ان لوگوں پر ہوتی ہے جن کے نزدیک نوازشریف کی اسٹیبلشمنٹ نوازی حلال اور پی پی پی کی سمجھوتہ سیاست حرام ہے۔ عسکری دانش کے ایک نوری نت کے لے پالک کی تحریریں عجیب ہیں لیکن انجمن محبان جاتی امراء جمہوریت کی تحریریں تو''غریب'' ہیں۔ جو لوگ 2008ء سے 2013ء کے درمیان رات کو سونے سے پہلے پیپلزپارٹی اور زرداری کو دفنا کے سوتے تھے وہ ان دنوں زرداری پر پھبتیاں کس رہے ہیں۔ ایک دو نہیں درجنوں لوگ ہیں جنہوں نے پیپلزپارٹی کے پچھلے دور میں قلم کو تلوار بنائے رکھا اور دنیا جہان کی ہر برائی پی پی پی کے کھاتے میں ڈال کر جیالوں کے سر قلم فرماتے رہے۔ ان دنوں وہی لوگ جناب نوازشریف کو قائد انقلاب ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے' اصل سوال یہ ہے کہ کیا وسطی پنجاب کی وہ قیادت جو جنرل ضیاء الحق کے نقارخانے کی پیداوار ہے وہی محبوب ولازم ہے۔ ایسا ہے تو کیوں؟ یادداشت کے معاملے میں ہماری اجتماعی کمزوری کبھی بھی چھپی ہوئی نہیں رہی، اس پر ستم یہ ہے کہ جو لوگ ہمیں کل تک یہ سمجھا رہے تھے کہ پنجاب کے ایک گروپ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان محبت بھرے رشتے اصل میں بقائے پاکستان کی ضمانت ہیں اب وہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پنجاب کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ چلیں مان لیا راجہ ظفرالحق جمہوری قوتوں کے اُمیدوار تھے لیکن یہ کیسی جمہوریت ہے کہ وزیراعظم' سپیکر قومی اسمبلی اور 70فیصد وفاقی وزراء کا تعلق پنجاب سے ہے۔ آرمی چیف' چیف جسٹس آف پاکستان' نیب کا چیئرمین بھی پنجابی ہیں۔ وفاقی بیوروکریسی میں پنجاب اپنے حصہ سے زیادہ پر قابض ہے۔ ایسے میں ایک پنجابی کو سینیٹ کا چیئرمین بنوانے کی خواہش کو کیا نام دیں۔ ویسے کیا' سید صابر شاہ اور میر حاصل بزنجو کو نون لیگ اور اتحادیوں نے چیئرمین کیلئے اُمیدوار بنانے سے کیوں گریز کیا۔ وہ کیا ضرورت تھی جس نے راجہ ظفرالحق کو اُمیدوار بنانے پر آمادہ کیا؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ خاندانی پس منظر اور چند دیگر وجوہات کی بنا پر راجہ صاحب سول وملٹری اشرافیہ کے پسندیدہ ہیں یعنی نوازشریف کا اقدام چاپلوسی حلال جمہوریت کی نشانی ہے اور پی پی پی' پی ٹی آئی کا اقدام خالص حرام جو چاہے محبان جمہوریت جاتی امراء کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ نظریہ سازی کی تازہ دکانوں پر جو مال فروخت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اس کا لیبل ہی تبدیل ہوا ہے ورنہ ڈبہ کے اندر وہی ہے جو نوازشریف کے اندر ہے۔ بہرطور یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ پاکستان میں آزاد جمہوریت اور اس کی بنیاد پر اٹھا نظام کبھی بھی نہیں رہا۔ وجہ یہی ہے کہ خارجہ اور دفاعی پالیسیاں جن کے قبضے میں ہیں ان قوتوں کے اپنے مقاصد ہیں۔ قوتوں کے مقاصد میں عوام کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی لیکن عوام کو خود نوازشریف اینڈ کمپنی نے کتنی اہمیت دی۔ ان کا تو پنجاب ہی کیا پاکستان بھی لاہور تک محدود ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کرپشن کے مقدمات کے حوالے سے بھی ہمارے سیاستدانوں' تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کے معیارات مختلف ہیں۔ ان کا خیال ہے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کیخلاف کرپشن کیس سوفیصد درست اور نوازشریف رجیم کیخلاف قائم مقدمات انتقام ہیں۔ اصولی طور پر ہونا یہ چاہئے کہ معاشرے کے سارے طبقات مل کر مطالبہ کریں کہ نیب قوانین میں جاندار اصلاحات کی جائیں تاکہ وہ بلاامتیاز کرپٹ لوگوں کیخلاف کارروائی کرے مگر یہاں عالم یہ ہے کہ سندھ بلوچستان میں پچھلے چند سالوں کے دوران نیب کے اقدامات کی تحسین کرنے والے پنجاب میں نیب کی حالیہ کارروائیوں پر سیاپا ڈالتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس دوغلے پن کو کیا نام دیا جائے' مزید تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پنجاب اس کی قیادت اور بالادست طبقات واداروں کو تو آسمانی احکامات کے تحت حق حاصل ہے کہ وہ چھوٹے صوبوں اور اقوام کے حقوق پامال کرے اور وسائل ہڑپ فرمائے، چھوٹے صوبوں کی قیادت کبھی اقتدار میں آجائے تو سازشی کرداروں کے مددگار کے طور پر سماں باندھ دے مگر چھوٹے صوبے مل کر پنجاب کے متوازی گروپ کو ساتھ ملا کر اگر کوئی حکمت عملی اپناتے ہیں تو یہ ناقابل تلافی جرم ہے۔مکرر عرض کردوں کہ پیپلزپارٹی مروجہ سیاست کا کردار بن چکی، غالباً اسے سمجھ میں آگیا ہے کہ قربانیاں دینے اور جدوجہد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں' ہونا یہ ہے جو مالکان چاہتے ہیں۔ سوچ سمجھ اور حالات کو دیکھ کر اگر پیپلزپارٹی نیا راستہ اختیار کرتی ہے تو یہ اس کا حق ہے ہم اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے مقربین میں شمار ہوتے شہبازشریف کو نون لیگ کا صدر بنا دیاگیا ہے پھر بھی اینٹی اسٹیبلشمنٹ چہرہ نوازشریف ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پنجابی اشرافیہ کا ایک گروپ اور ان کے ہم نوا اپنے سوا کسی کو اقتدار کے ایوانوں میں قبول کرنے کو تیار نہیں یعنی اسلام وغیرہ کے بعد اب جمہوریت کی بھی وہ شکل حلال اور قابل قبول ہوگی جس پر جاتی امراء کی مہر لگی ہوئی ہوگی۔ ایسا ہی ہے یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنا پر یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ مرضی کا حلال وحرام اب نہیں چلنے کا۔ حرف آخر یہ ہے کہ جب نظریاتی سیاست کا دور دورہ ہی نہیں تو پھر رونا کس بات کا، ثانیاً یہ کہ اگر واقعی نظریہ اہم ہے تو لات مار دیں مرکز پنجاب' کشمیر اور بلتستان کی حکومتوں کو اور نکلیں میدان میں۔

اداریہ