Daily Mashriq

چیئرمین سینٹ انتخاب، کس کی جیت کس کی ہار

چیئرمین سینٹ انتخاب، کس کی جیت کس کی ہار

حال ہی میں سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کیلئے انتخابات ہوئے۔ چیئرمین کیلئے متحدہ اپوزیشن کی طرف سے بلوچستان سے آزاد اُمیدوار صادق سنجرانی، جن کو پاکستان پیپلزپا رٹی، تحریک انصاف، ایم کیوایم پاکستان اور فاٹا سے آزاد ممبران کی حمایت حاصل تھی نے 57 ووٹ لئے جبکہ ان کے مخالف راجہ ظفرالحق جن کا تعلق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے تھا اور جس کو عوامی نیشنل پارٹی، پختون خوا ملی پارٹی ، مسلم لیگ ایف اور جماعت اسلامی کی حمایت حاصل تھی، نے 47ووٹ لئے۔ سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین کیلئے آزاد اُمیدوار سلیم مانڈی والا نے 54ووٹ جبکہ بلو چستان کے سرور خان کاکڑ نے 44ووٹ حاصل کئے۔ اگر ہم غور کر لیں تو ہر سیاسی پارٹی جس میں مسلم لیگ ن، پی پی پی، تحریک انصاف شامل ہے سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی حالیہ کامیابی کو اپنی کامیابی گردانتے ہیں۔ نوازشریف کا کہنا ہے کہ نمبرگیم میں ہم ہار ے، مگر اخلاقی طور پر ہم جیت گئے۔ کوئی عمران خان کے زرداری کیساتھ اتحاد پر تنقید کرتا ہے اور کوئی جماعت اسلامی، اے این پی اور جمعیت ا لعلمائے اسلام ف کی مسلم لیگ نوازکے اُمیدوار راجہ ظفرالحق کی حمایت پر سیخ پا ہیں۔ نوازشریف عمران خان پر تنقید کے نشتر برسائے جا رہے ہیں تو دوسری طرف دیگر سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کو بھی ہدف تنقید بنا رہی ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو ہر ایک کی اپنی مجبوریاں ہیں اور اپنی مجبوریوں کی وجہ سے وہ اپنے دل کی بات اور رائے اپنے ضمیر کے مطابق استعمال نہ کر سکے۔ جس طرح سینیٹ الیکشن میںممبران نے ووٹ بیچے اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ عام طور پر ہر سیاسی کام میں مسلح افواج کو ملوث کیا جاتا ہے مگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران نے اپنے محلات کے اندر بیٹھ کر 10سے 20کروڑ تک میں ووٹ بیچے، اس سے آرمی کا کیا تعلق۔ بعض کا کہنا ہے کہ ہم نے بلوچستان جو ایک پسماندہ صوبہ ہے ان کی محرومیوں اور پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کو ووٹ دیا۔ بعض کہتے ہیں کہ پانامہ کیس میںجماعت اسلامی نوازشریف کیخلاف تھی جس کی وجہ سے سپریم کورٹ نے نوازشریف کو نااہل بھی قرار دیا تھا تو اب جماعت اسلامی نے کس طرح راجہ ظفرالحق کو ووٹ دیا۔ بعض کا خیال ہے کہ رضاربانی کو کیوں سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے کے لئے پاکستان پیپلزپارٹی نے نامزد نہیں کیا۔ اگر غور کیا جائے تو ہر پارٹی اور اس کے لیڈران اور قائدین اپنی سوچ کے مطابق اپنا مدعا بیان کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن میں جماعت اسلامی، جے یو آئی اور عوامی نیشنل پارٹی نے دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ سیاسی لحاظ سے نوازشریف اور مسلم لیگ کے دیگر راہنماؤں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر جہاں تک راجہ ظفرالحق کا تعلق ہے تو ان کی اعتدال پسند شخصیت سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ راجہ ظفرالحق مسلم لیگ نواز کے اُمیدوار کیساتھ ساتھ ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور انسان ہیں۔ وہ کئی دفعہ سینیٹ کے ممبر، مذہبی اُمور کے وزیر، موتمرالاسلامی اور مذہبی اُمور کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اور اسلامی کانفرنس تنظیم کے آبزرور بھی رہ چکے ہیں۔ جہاں تک رضاربانی کا تعلق ہے تو رضاربانی فوج پر زیادہ تنقید کرتے تھے اور زرداری کبھی بھی رضاربانی کو سینیٹ کا چیئرمین نامزد کر کے آرمی کی دشمنی نہیں مول لے سکتے۔ آصف علی زرداری نے دانشمندی سے کام لیا اور رضاربانی کو سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے کیلئے نامزد نہیں کیا۔ جس طرح نوازشریف کیخلاف مالی بدعنوانیوں کے کئی کیسز چل رہے ہیں ، اس قسم کے کئی مالی بے قاعدگیوں کے کیسز زرداری اپنے خلاف نہیں کھلوانا چاہتا کیونکہ ڈاکٹر عاصم، عذیر بلوچ اور راؤ انوار کے بیانات اور مالی بے ضابطگیوں کے کئی کیسز آصف زرداری کے گلے پڑ سکتے ہیں۔ ابھی نوازشریف کی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کیساتھ لڑائی جاری ہے۔ نوازشریف کیخلاف کرپشن اور بدعنوانی کے کافی کیسز نیب نے کھولے ہوئے ہیں اور زرداری رضاربانی کو نامزد کرکے اپنے خلاف آرمی کا فرنٹ نہیں کھولنا چاہتے۔ جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تو سینیٹ کے چیئرمین کے عہدے کیلئے ووٹنگ میں زرداری اور عمران خان نے ایک دوسرے کیساتھ براہ راست کمپرومائیز تونہیں کیا مگر بلوچستان کے ایک گمنام آزاد نمائندے کو دونوں نے ووٹ دیکر ایک لحاظ سے کمپرومائز کیا بھی۔ جہاں سینیٹ الیکشن اور پھر اس کے بعد چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین کیلئے جو ووٹنگ ہوئی وہ پاکستانی تاریخ کا بدترین مثال ہے۔ ہمارے منتخب نمائندے بھیڑ بکریوں کی طرح بکے۔ عوام کی نظروں میں نہ تو جمہوریت کی کوئی وقعت ہے اور نہ سیاستدانوں کی۔ اس ملک کا پڑھا لکھا طبقہ ملک میں جمہوری نظام، جمہوری اداروں، مقدس ایوان اور نمائندوں سے کافی نالاں ہیں۔ ملک کی نوجوان قیادت جو مستقبل میں سیاست میں آنا چاہتے تھے وہ فی الوقت سیاست سے کنارہ کش نظر آرہے ہیں۔ عمران خان جو سٹیٹس کو اور موروثی سیاست پر آصف زرداری اور نوازشریف کو ہدف تنقید بناتے تھے اب خود موروثی سیاستدانوں کے چنگل میں پھنس گئے۔ میری سیاستدانوں سے گزارش ہے کہ وہ جلسے اور جلوسوں میں ایک دوسرے کیخلاف اتنی فضا خراب نہ کریں کہ کل کو ایک دوسرے کے قریب آنے میں دشواری کا سامنا ہو۔

اداریہ