Daily Mashriq


سسٹم کی ماسی مصیبتیاوربابارحمتے کا انتظار

سسٹم کی ماسی مصیبتیاوربابارحمتے کا انتظار

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار ان دنوں خلق خدا کے مسائل براہ راست معلوم کرنے اور حل کرنے کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔وہ پبلک مقامات پر اچانک چھاپے مارتے اور عوام کی فریاد سنتے ہیں۔متعلقہ اداروں کے ذمہ داروں کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں۔انہیں عام آدمی کو اہمیت دینے اور اس کے لئے سہولیات پیدا کرنے کی تلقین کرتے ہیں ۔وہ تبلیغ وتلقین پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اپنی طاقت کا خوف بھی دلاتے ہیں۔اسی مہم کے دوران انہوں نے خود کو بابا رحمتے کے کردار سے تشبیہہ دی ۔ان کے اس کردار کی اول تو کسی کو سمجھ ہی نہیں آئی حتیٰ کہ ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بابر اعوان نے ان سے بابا رحمتے کا پس منظر پوچھا تو چیف جسٹس نے کہا کہ بابا رحمتے آپ کی والدہ ہے ۔شاید بات اس کے باوجود پوری طرح کھل نہ سکی اور عدلیہ کے فعال کردار کے ناقدین اس اصطلاح اور کردار کا مذاق اُڑاتے رہے ۔اس کے بعد ہی جسٹس ثاقب نثار نے اس کردار کا اصل پس منظر بیان کیا ۔جو کچھ یوں تھا کہ انہوں نے اپنے عہد کے مشہور ادیب اشفاق احمد کی کہانیوں سے بابارحمتے کا کردار مستعار لیا ہے ۔ میڈیکل کالجز کی فیس ،سٹرکچر اور سہولیات کے حوالے سے ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجزمیں کیا سہولتیں ہیں ۔ایجوکیشن کاروبار ہو سکتا ہے لیکن میڈیکل کی تعلیم ایسی نہیں کہ اس پر فیسیں لگائی جائیں ۔اتنی فیسیں نہ لگائی جائیں کہ لوگوں کی جیبیں ہی کٹ جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے ڈاکٹرز آرہے ہیں کہ جنہیں بلڈ پریشر تک چیک کرنا نہیں آتا۔ انہوں نے بابا رحمتے کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ تصور اشفاق احمد کے افسانوں سے لیاہے ۔ایک ایسا کردار جو عوام میں سہولتیں بانٹتا ہے ۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اس وقت عوامی شکایات پر مختلف اداروں کے دورے کرتے اور وہاں عوام کو دستیاب سہولیات کا جائزہ لیتے اور ان پر فیصلے سناتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مروجہ سسٹم عوام کے لئے پی ٹی وی کے پروگرام کلیاں کا کردار ماسی مصیبتے بن کر رہ گیا ہے ۔کلیاں کی معصوم اور بے ضرر سی ماسی مصیبتے تو نام کی ہی مصیبتے تھی مگر یہ سسٹم تو عوام کے لئے واقعی مصیبت کا باعث بن کر رہ گیا ہے ۔یہ قدم قدم پر عوام کو تکالیف اور رنج دیتا اور ان کے جائز کام میں بھی مشکلات پیدا کر تاہے ۔فرائض سے غفلت ،کام میں تساہل ،رشوت ،بدعنوانی ،سرخ فیتے کا رواج ،حقیر سی طاقت کا نشہ جیسے رویے معاشرے میں سرایت کر گئے ہیں ۔ان برائیوں کو معاشرے نے قسمت اور تقدیر کا لکھا جان لیا ہے اور اب معاشرہ ان مظالم پر ردعمل دکھانا بھی بھول چکا ہے۔بیرونی دنیا میں محب وطن پاکستانیوں کی بڑی تعداد کے دل ہمہ وقت اپنے آبائی معاشرے اور ملک کے لئے دھڑکتے ہیں ۔یہ لوگ تلاش رزق کی خاطر اپنے گھروں سے نکل گئے مگر اپنے شہر اور دیہات ،کھیت اور کھلیان ،کچی گلیاں اور ٹوٹی ہوئی سڑکیں ،تباہ حال ڈسپنسریاں اور خستہ حال سکول ،منڈیر پر چلتے دیے آج بھی ان کے دلوں سے نہیں نکل سکے ۔یہ لوگ عشروں سے دولت کما کر تھک چکے ہیں اور اب وہ اپنے آبائی علاقوں میں سرمایہ کاری یا خدمت خلق کرنا چاہتے ہیں ۔ان میں کئی ایک ایسے بھی ہیں جو آئیڈیلزم کا شکار ہو کر وطن آکر کچھ کرنے کا فیصلہ بھی کر گزرتے ہیں مگر یہاں قدم قدم پر بگڑا ہوا سسٹم ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے اور بالآخر وہ دلبرداشتہ ہو کر اپنے خوابوں کی کرچیاں دامن میں سمیٹ کر واپسی کی راہ لیتے ہیں۔یہ انسانی اور مادی سرمایہ اگر دیانت داری سے استعمال ہو تو بلاشبہ ملک ترقی کے ایک انقلاب سے آشنا ہو۔بابا رحمتے اگر میڈیکل کالجز کی بات کرتے ہیں توپرائیویٹ میڈیکل کالجز میں سہولیات اور فیسوں کا عدم توازن بھی آج کے معاشرے کا المیہ ہے ۔بات صرف پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی ہی نہیں بلکہ تمام تعلیمی ادارے اس عدم توازن کا شکار ہیں ۔ کس شعبے کا رونا رویا جائے یہاں تو چہار سو حکومتی شعبوں کا سکریپ تاحد نگاہ بکھرا پڑا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاشرے میں ہمیشہ ایک نامعلوم مسیحا کا انتظار کیا جاتا رہا ہے ۔ایک کردار عوام کے دل ودماغ میں نقش ہو کر رہ گیا ہے ۔اس کردار کا نام وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے مگر اس کی آمد کا انتظار اور ضرورت کا احسا س مجال ہے کبھی لمحہ بھر کو کم ہوا ہو۔دنیا میں کہیں ناکارہ اور جبر کے نظام کا مجسمہ ٹوٹ گرے جشن پاکستان کے عوام مناتے ہیں۔آج کے حالات میں کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کے عوام مدت سے بابارحمتے جیسے کسی مہربان کردار کے انتظار میں ہیں ۔جو انہیں اس سسٹم کی ماسی مصیبتے کے چنگل سے چھڑا کر چھوٹی چھوٹی سہولیات کی خوشیاں فراہم کرے ۔یہاں تعلیمی اداروں اور مذبح خانوں میں کوئی فرق باقی نہیں ۔تعلیمی ادارے فیسوں کے نام پر عوام کی معاشی چمڑی ادھیڑتے ہیں ۔ہسپتالوں کا تو کوئی پرسان حال ہی نہیں ۔عوام کو سہولیات فراہم کرنے والے ادارے عوام میں تکالیف اور مشکلات بانٹنے کے ٹھیکیدار بن بیٹھے ہیں ۔عوام کو اس سے غرض نہیں کہ ان کے مسائل کون حل کرتا ہے ۔انہیں مسائل کے حل سے غرض ہوتی ہے ۔حکومتوں کی روایتی مجبوریاں اب اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ وہ معاشرے میں برائیوں اور ظالمانہ رویوں کے خلاف انسان دوستی پر مبنی اقدامات نہیں اُٹھا سکتیں۔ اس لئے بابا رحمتے جیسے کرداروں کی ضرورت کبھی کم ہونے ہی نہیں پاتی ۔جس دن مروجہ نظام نے لوگوں کے مسائل کو احسان کی بجائے فرض سمجھ کر حل کرنا شروع کیا اس دن عوام ماورائے آئین کردار بابارحمتے کا انتظار بھی ترک کردیں گے ۔

متعلقہ خبریں