Daily Mashriq


اپنے گھر کی خبر لیجئے!

اپنے گھر کی خبر لیجئے!

پشاور کبھی ہمارا گھر ہوا کرتا تھا لیکن اب ہم نے اسے ایک مکان میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب اس کے درودیوار سے ہمیں محبت ہے بھی تو زبانی کلامی، ہمیں اس کی صفائی کا کوئی خیال نہیں ہے، اس کے باغات اُجڑتے چلے جا رہے ہیں، وہ باغات جہاں کسی زمانے میں پھول ہی پھول ہوا کرتے تھے اب وہاں خاک اُڑ رہی ہے۔ ان کے درختوں پر موجود خزاں رسیدہ پتے دھول چاٹ رہے ہیں۔ روز بروز بڑھتی ہوئی ٹریفک نے پشاور کی خوبصورتی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ گردآلود فضائیں، سر پر ہر وقت دھویں کی تنی ہوئی چادر، شور مچاتے رکشے، دھول اُڑاتی گاڑیاں، شاہی باغ اور وزیرباغ میں کرکٹ کھیلتے ہوئے کھلاڑی روزانہ سیروں کے حساب سے دھول پھانک رہے ہیں، وجہ اس کی یہ ہے کہ ان دونوں مشہور تاریخی باغوں میں اب سبزے کا نام ونشان بھی نہیں ملتا، کچھ ہماری غفلت اور کچھ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا شاخسانہ۔ پشاور کی آبادی جس تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے اتنی تیز رفتاری سے ترقیاتی کام کرنے کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ صوبائی حکومت اپنی سی کوشش تو کر رہی ہے لیکن اس سے بات بنتی نظر نہیں آتی۔ پشاور کو اس وقت لیڈی ریڈنگ سائز کے دو ہسپتالوں کی اشد ضرورت ہے۔ نجی ہسپتال تو موجود ہیں لیکن وہاں علاج کروانا بچوں کا کھیل تو نہیں۔ ہم اپنے پیارے شہر پشاور کو گھر نہیں سمجھتے اسے مکان سمجھتے ہیں اور اس کیساتھ اپنوں جیسا سلوک نہیں کرتے بلکہ اس کیساتھ ہم نے اجنبیوں جیسا رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ ہم سے بچپن میں ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ گھر اور مکان میں کیا فرق ہوتا ہے تو ہم بڑے حیران ہوئے کہ گھر اور مکان میں فرق کیسا؟ کوئی مکان کہتا ہے تو کوئی گھر! یہ تو ہمیں بہت دیر سے پتہ چلا کہ گھر وہ ہوتا ہے جہاں ایک خاندان بڑی محبت سے رہتا ہے اگر ایک فرد بھی گھر آنے میں دیر کر دے تو گھر کے دوسرے افراد بے چین ہو جاتے ہیں۔ ایک گھر میں رہنے والا خاندان محبت کے مضبوط رشتوں میں بندھا ہوتا ہے۔ گھر اور مکان کی یہ تشریح صرف مشرق تک محدود نہیں ہے مغرب میں بھی مکان کو ہاؤس اور گھر کو ہوم کہتے ہیں۔ مشہور دانشور پولی ایڈلر کا کہنا ہے کہ ایک مکان گھر نہیں ہوتا! وہ یہی کہنا چاہتا ہے کہ گھر وہ ہوتا ہے جہاں رہنے والے ایک دوسرے کے محبت کن بندھن میں جڑے ہوئے ہوں۔ ایک فرد بھی تکلیف میں ہو تو باقی کے لوگ بے قرار ہو جائیں۔ گھر وہ ہوتا ہے جہاں ایک دوسرے کا دکھ درد محسوس کیا جاتا ہے۔ جس دن ہم نے اپنے پیارے شہر پشاور کو اپنا گھر مان لیا یقین کیجئے اسی دن سے اس کی حالت زار بہتر ہونا شروع ہو جائے گی۔ پشاور کی بات تو اپنی جگہ رہی اب تو جن گھروں میں ہم رہتے ہیں وہ بھی مکان ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک گھر میں رہنے والے ایک دوسرے سے کتنے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جب گھر مضبوط ہوتے ہیں تو قوم مضبوط ہوتی ہے۔ افتخار عارف نے کتنی دردمندی سے یہ دعا مانگی تھی۔

میرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے

میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

گھر سے بات چلتی ہوئی پشاور تک پہنچتی ہے اور پھر محبت کا یہ سفر بڑھتے بڑھتے پاکستان کو بھی اپنے حصار میں جکڑ لیتا ہے! سوچنے کی بات ہے جب گھر مکانوں میں تبدیل ہو جائیں تو شہر اور وطن کیسے گھر بن سکتے ہیں؟ محبت کا طاقتور بانڈ گھر سے ہی شروع ہوتا ہے خاندان کو مضبوط بنانے والی شے محبت ہی تو ہے ہمیں اس وقت اپنے رویوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اپنے نکتہ نظر کو بدلنے کی ضرورت ہے اس کے بدلنے سے زندگی بدل جایا کرتی ہے۔ ہم نے اس سوچ اور روئیے کو اپنانا ہے کہ پاکستان ہمارا گھر ہے۔ سب نے اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔ ایک پرانی چینی کہاوت ہے کہ اگر ہم سب اپنے اپنے گھروں کو پاک صاف کر لیں تو ہمارا معاشرہ پاک ہو جائے گا۔ دکھ اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے، اپنے گھر میں بجلی کا ایک بلب بھی فالتو جل رہا ہو تو ہم طوفان کھڑا کر دیتے ہیں لیکن سرکاری دفاتر میں سب جانتے ہیں کہ بجلی کا استعمال کتنی بیدردی کیساتھ کیا جاتا ہے۔ گرمیوں میں ایئرکنڈیشن اور سردیوں میں ہیٹر جلائے جاتے ہیں۔ گلی میں سرکاری نلکا بہہ رہا ہو تو بہت کم لوگ اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ پانی کتنی بڑی نعمت ہے اور پانی کا ضیاع کفران نعمت ہے لیکن لوگ یہ سوچ کر نلکا بند نہیں کرتے کہ یہ تو سرکاری نلکا ہے۔ فوج، عدلیہ، حکومت، سیاستدان اور میڈیا سب ملکر وطن عزیز کے استحکام کو یقینی بنائیں اور اسے اپنا گھر تصور کریں لیکن فی الحال تو جوتے چل رہے ہیں، ان باتوں میں پوری قوم کو اُلجھا دیا گیا ہے جو بنیادی طور پر مسائل ہی نہیں ہیں جو مسائل ہیں ان پر توجہ دینے کی کسی کو فرصت ہی نہیں ہے! اپنے گھر کو توجہ دیجئے اسی میں ہماری نجات اور بقا ہے۔ دوسروں کو ہم کب تک مورد الزام ٹھہراتے رہیں گے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے اپنی خامیاں دور کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں