رواج بل پر اختلا فات کا معاملہ

رواج بل پر اختلا فات کا معاملہ

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سیفران کے اجلاس میں فاٹا سے متعلق رواج بل 2017پر اتفاق رائے نہ ہوسکنا اور بل کی توثیق کے معاملے پر اراکین کے اختلافات اور کمیٹی کے آئندہ اجلاس کے بارے میں بھی کوئی فیصلہ نہ ہونے سے یہ معاملہ سرد خانے کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اس معاملے پر جس قدر تحفظات کا اظہار سامنے آیا تھا اور خود قبائلی بھائیوں میں اس ضمن میں اتفاق کی کمی تھی اس پر مستزاد حکومتی اتحادیوں اور سیاسی جماعتوں کے جدا گانہ خیالات کے گرداب میں مسئلے کا پس منظر میں چلے جانا فطری امر تھا اور یہی صورتحال سامنے آئی ہے ۔ اجلاس کی کارروائی ہی سے اختلافات کی نوعیت واضح ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) ،جمعیت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے اراکین کی جانب سے فاٹا پر ایک ساتھ متوازی قوانین کے نفاذ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مسئلے کے حل کیلئے قبائلی علاقوں میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کردیا گیا جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما امیر حیدر خان ہوتی ، جنوبی وزیرستان سے مسلم لیگ (ن) کے غالب خان وزیر، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو ، تحریک انصاف کے اراکین مراد سعید اور شہریار آفریدی نے اجلاس میں شرکت سے ہی گریز کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری سیفران نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواج ایکٹ سے ایف سی آر منسوخ ہو جائے گا،یہ ظالمانہ قانون ڈیڑھ سوسالوں سے اس علاقے پر مسلط ہے جس کے تحت قبائل کی آزادی سلب کی گئی ہے ، حکومت کی کوشش ہے کہ قبائلی عوام کو اس کے چنگل سے نکالا جائے اور انہیں قومی دھارے میں لایا جائے۔ جماعت اسلامی کے رہنما صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ پہلے آئینی ترامیم کریں توخودبخود ریگولر قوانین کا نفاذ ہوجائیگا کیا اس قسم کے ایکٹ کے ذریعے یہ فاٹا کی چھتری کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، آئینی ترمیم کردیں ہم حکومت کی تمام 36سفارشات کو من وعن تسلیم کرنے کو تیار ہیں ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہمارا مینڈیٹ رواج بل کا جائزہ لینا ہے ، آئینی ترمیم کو قائمہ کمیٹی قانون وانصاف کے سپرد کیا گیا ہے ۔ وزیرسیفران لیفٹیننٹ جنرل عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میںلڑائی جھگڑے کی نوبت آگئی تھی ، پانچ سالوں میں قبائل کو قومی دھارے میں لانے کی کاروائی کو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ سب متفق ہیں کہ ایف سی آر کو ختم کیا جائے ۔ جی جی جمال نے کہا کہ ہم جب اضلاع میں جاتے ہیں تو لوگ یہی دعا کررہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کچہریوں سے بچائے کیا ہم یہ نظام فاٹا میں برآمد کرنا چاہتے ہیں ، تمام قبائلی علاقوں کے رواج مختلف ہیں ۔ شہاب الدین نے مطالبہ کیا کہ متوازی قوانین نہ دیئے جائیں ہمیں ریگولر قانون چاہیے سب لوگ پاکستانی کہلاتے ہیں ہمیں علاقہ غیر اور قبائلی کیوں کہا جاتا ہے ۔ ریگولر قانون نہیں دے سکتے تو ہمیں شریعت دے دیں ۔ اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین میں رواج بل پر اتفاق رائے نہ ہوسکا ۔ اراکین نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایف سی آر کو ختم کرتے کرتے ہم قبائلی عوام پر ڈبل ایف سی آر نافذ نہ کردیں کہ وہاں کے نوجوان پرانے نظام کو یاد کریں ۔ اجلاس کی کارروائی کے دوران بل پر اتفاق رائے ہوسکا نہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس کا کوئی فیصلہ کیا جا سکا۔ اجلاس کی کارروائی نا مکمل رہ گئی ۔اجلاس میں جو سیاسی عمائدین شریک نہ ہوسکے انہوں نے عمداً ایسا کیا یا سہواًاس بارے وثوق سے تو کچھ کہنا ممکن نہیں لیکن اس سے اس امر کا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ یا تو متعلقہ عمائدین اس بحث میں شامل ہونے کے خواہاں نہ تھے یا پھر وہ اس ضمن میں اپنی جماعتوں کی طرف سے ایک موقف اور رائے رکھنے کے باوجود متعلقہ فورم پر اس کا اعادہ نہیں چاہئے تھے بہر حال اس عمل کو ان کی عدم دلچسپی ہی سے تعبیر کیا جائے گا لیکن جن جماعتوں کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کرکے جس طرح کا متنوع اظہار خیال کیا اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو ہر سیاسی جماعت کا فاٹا کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر ہے ان کو فاٹا کے عوام کی مرضی و منشا ء اور سہولت سے کم ہی علاقہ ہے خود فاٹا کے منتخب نمائندے بھی کسی ایک فارمولے اور امر پر متفق نہیں جبکہ قبائلی عوام کے اس ضمن میں مخالفانہ جرگے بھی ہو چکے ہیں ۔ مختصراً یہ کہ فاٹا میں اصلاحات کا مطالبہ تو ہر جانب سے سامنے آتا ہے مگر اس کے طریقہ کار پر اتفاق رائے نظر نہیں آتا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس وقت ہی ممکن ہوگا جب ایک مجوزہ طریقہ کار کا اعلان کرکے اس پر اولاً عوامی سطح پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی سعی کی جائے لوگوں میں شعور اجا گر کیا جائے سیاسی جماعتوں کے درمیان مکالمہ ہو اور کسی اتفاقی فارمولے پر پہنچ جائیں یہاں تو سارا معاملہ ہی الٹ نظر آتا ہے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی روداد سے اس امر کا واضح اظہار ہوتا ہے کہ ابھی اس معاملے میں ہر سطح پر مشاورت کی ضرورت ہے ۔ جب تک اس باب میں بنیادی راستے کا انتخاب و تعین نہیں کیا جاتا اس پر آگے بڑھنا ممکن نہ ہوگا راستے کے تعین کے بعد بھی اس آئینی و انتظامی طور پر پیچیدہ معاملے میں ٹھوس پیشرفت اور کامیابی کی ضمانت نہیں مل سکتی ۔ کمیٹی کے اجلاس کو غیر معینہ اور نامعلوم مدت کیلئے ملتوی کرنا مسئلے کا کوئی حل نہیں سوائے اس کے کہ مسئلے کو بد ستور باقی رہنے دیا جائے اور چلتے معاملات کو چلا یا جاتا رہے ۔ دوراقتدار کے اختتامی سال پر موجودہ حکومت کیلئے اس معاملے میں پیشرفت ممکن نظر نہیں آتی ایسا لگتا ہے کہ اس مسئلے کو آئندہ کی منتخب حکومت ہی آکر حل کرے گی ۔

اداریہ