34ہزار کا دعویٰ' جھوٹ یا حقیقت؟

34ہزار کا دعویٰ' جھوٹ یا حقیقت؟

خیبر پختونخوا اسمبلی میں چونتیس ہزار طالب علموں کی نجی تعلیمی ادارے چھوڑ کر سرکاری سکولوں میں داخلے کے حکومتی دعوئوں کو حزب اختلاف کے رکن کی جانب سے چیلنج کو محض ڈائیلاگ بازی کا طعنہ دے کر ٹالنے کا انداز درست نہیں فاضل رکن کا انگریزی میڈیم اور اردو میڈیم میں مغالطہ ہونا بھی کوئی طعنہ کی بات نہیں جس پر پھبتی کسی جاتی اس دعوے پر پھبتی کسنے کی بہر حال گنجائش موجود ہے کہ صوبائی حکومت نے آخر وہ جادو کی کونسی چھڑی چلائی کہ 34ہزار طالب علم نجی تعلیمی اداروں کو لات مار کر سرکاری سکولوں میں داخل ہوگئے۔ حزب اختلاف کے رکن کا یہ کہنا بڑا مدلل ہے کہ جب خود سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے بچے نجی تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں تو باقی کا عالم کیا ہوگا۔ اگر سرکاری تعلیمی اداروں کامعیار بلند ہواہے تو کم از کم سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے بچے ہی ان سکولوں میں داخلہ لے لیں۔ صوبائی وزیر تعلیم کو چاہئے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں آنے والے تمام سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ عملہ اور محکمہ تعلیم کے تمام ملازمین کے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرنے کو لازمی گردانیں۔ اس سے جہاں عوام کا سرکاری تعلیمی اداروں پراعتماد بحال ہوگا وہاں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام اور ملازمین کی بھی سعی ہوگی کہ جن تعلیمی اداروں میں ان کے بچے زیر تعلیم ہیں ان کا معیار بلند ہو۔ صوبائی وزیر تعلیم کی طرف سے چونتیس ہزار طالب علموں کی فہرست ایوان میں پیش کرکے اپنے اوپر جھوٹ کے الزام کو غلط ثابت کرنے کے وعدے کی سچائی کو اس وقت ہی مانا جائے گا جب موصوف یہ فہرست پیش کرے۔ قبل ازیں انہی کالموں میں صوبائی وزیر سے اپنے دعوے کی فہرست میڈیا کو جاری اور ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیاگیا تھا۔ مگر اس کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا اب شاید جھوٹ کے طعنے پر وہ ایسا کرکے ہماری غلط فہمی دور کریں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ صوبائی وزیر تعلیم کب اپنا وعدہ ایفا کرتے ہیں۔ ہمارے تئیں یہ کوئی لمبا چوڑا معاملہ نہیں بلکہ جس فہرست کی بنیاد پر موصوف دعویٰ کر رہے ہیں اس فہرست کو پیش کیا جائے۔ یہ ہمارے میڈیا کے بھائیوں کے لئے بھی یقینا بڑے دلچسپی کی خبر ہونی چاہئے کہ صوبے میں اس قدر تعلیمی انقلاب آچکا ہے اور سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی سے اتنے بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا اس کی چھان بین میں رپورٹروں کو مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ بلند و بانگ دعوے کرنے والے و زیر تعلیم رواں اجلاس میں وہ فہرست ایوان میں پیش کرکے معترض رکن اسمبلی کو مسکت جواب دیں گے اور شکوک و شبہات کا اظہار کرنے والے حلقوں کی غلط فہمی دور کرکے خوشگوار حیرت سے دو چار کرنے میں مزید وقت ضائع نہیں کریں گے۔
افسوسناک معاشرتی مسئلہ
پشاور کے نواحی علاقے میں موبائل فون پر بیٹی کی کسی سے طویل اور بار بار کی گفتگو پر باپ کا بیٹی کی زندگی کا چراغ گل کردینے کا واقعہ اس بناء پر افسوسناک ہے کہ اس میں ایک لڑکی کی جان چلی گئی اور ماں باپ بیٹی سے محروم ہوگئے۔ اس طرح کے واقعات اب اکثر و بیشتر پیش آنے لگے ہیں جس کی تہہ میں موبائل فون کے خرافات ہوتے ہیں۔ سیل فون بذات خود نافع اور مفید آلہ ہے لیکن اس کاجو منفی استعمال ہونے لگا ہے اس سے لوگوں کی زندگیاں خطرات سے دو چار ہونا فطری امر ہے۔ علاوہ ازیں بھی ہمارا معاشرتی انحطاط اب گراوٹ کے اس درجے کو پہنچ گیا ہے جس کا تذکرہ شرمساری کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے بچنے کے لئے اپنی اولاد کی بہتر تعلیم و تربیت اور خاص طور پر بچوں کی دینی تعلیم پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اپنے گھر کے ماحول کو موزوں اور متوازن رکھنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ گھریلو ماحول میں تلخی اور بچوں پر بلا وجہ سختی اور شک و شبہ کا اظہار ان کو فطرتاً بغاوت پر آمادہ کرنے اور غلط سمت کی جانب جانے کا سبب بنتا ہے اور وہ معاشرے میں جھوٹے ہمدرد تلاش کرتے کرتے گمراہی اور گناہ کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے اور اس کا سد باب کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو سونے کا نوالہ کھلا کر شیر کی نظر سے دیکھنے کا محاورہ بھی اب شاید تبدیلی کا متقاضی ہے۔ اب بچوں کی بدلتی نفسیات کے مطابق ان سے اچھے اور اعتماد کا سلوک اور رویہ اختیار کرنے ہی میں عافیت ہے۔ ان پر نظر اس انداز میں رکھی جائے کہ وہ محسوس نہ کریں اور جہاں ان کو رہنمائی کی ضرورت ہو نرمی کے ساتھ ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ ان پر سختی صرف اسی صورت ہی کی جانی چاہئے جب وہ نرمی کی زبان نہ سمجھیں اور من مانی پر اترآئیں۔

اداریہ