ڈان سٹوری… غیر مسخ شدہ صورت کیا ہے؟

ڈان سٹوری… غیر مسخ شدہ صورت کیا ہے؟

کسی ٹی وی چینل پر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے منسوب یہ بیان نظر سے گزرا کہ روزنامہ ڈان نے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت متوقع انتظامات اور اقدامات کے بارے میں جو خبر شائع کی ہے اس میں ان انتظامات کی مسخ شدہ صورت پیش کی گئی ہے۔ ان کا بیان قابلِ یقین ہونا چاہیے کیونکہ ایک وہی تو ہیں جو پاک چین اقتصادی راہداری کی پوری تفصیل جانتے ہیں۔ اس منصوبے کی افادیت اور اس کے مضمرات سے آگاہ ہونے کی ذمہ داری وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق انہی کی ہے۔ اپنی اس ذمہ داری کے باعث وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ہی ہیں جو روزنامہ ڈان کی خبر پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں ۔ اس لیے ان کے اس تبصرہ کو تسلیم کیا جاناچاہیے کہ روزنامہ ڈان نے پاک چین راہداری منصوبے کے تحت ہونے والے انتظامات کی مسخ شدہ صورت پیش کی ہے۔ اور انہیں ہی وہ ذمہ دار شخصیت سمجھا جانا چاہیے جو اس منصوبے کے تحت ہونے والے انتظامات کی غیر مسخ شدہ حقیقی صورت حال آشکار کر سکتے ہیں۔ ایک بات جو آسانی سے ہر پاکستانی کو سمجھ آ جاتی ہے یہ ہے کہ منصوبے کے تحت چینی باشندوں کو جو ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری دوستی کی بنا پر ہمارے چینی بھائی ہیں' بغیر ویزہ پاکستان میں آنے کی اجازت ہو گی۔ ویزہ نہیں ہوگا تو یہ بھی کوئی نہیں پوچھ سکے گا کہ چینی بھائی کب تک پاکستان میں قیام کریں گے۔ لیکن وہ ہمارے بھائی ہیں جب تک چاہیں رہیں جہاں چاہیں جائیں ۔ اگر یہ ڈان کی پیش کی ہوئی مسخ شدہ صورت ہے تو اس کی فوری وضاحت کی جانی چاہیے تاکہ معلوم ہو کہ چینی بھائیوں کو ویزا کے اجراء میں سہولتیں فراہم کی جائیں گی یا وہ ویزا کی پابندی سے یکسر آزاد ہوں گے۔ ہمارے افغان بھائی بھی پینتیس سال سے زیادہ عرصہ سے پاکستان میں مقیم ہیں۔ تاجر اور مزدور یکساں ان سے نالاں ہیں کہ انہوں نے کاروبار اور محنت مزدوری کے مواقع پر قبضہ کر رکھا ہے۔ پاکستانی شناختی کارڈ بنوا رکھے ہیں۔ اور جب انہیں واپس بھیجنے کی بات آتی ہے تو کوئی نہ کوئی تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔ پتہ نہیں یہ معاملات کہاں تک جائیں گے! چینی بھائی اگر آئیں گے تو کیا وہ اسی طرح آئیں گے جس طرح افغان بھائی خیبر سے کراچی تک ہر جگہ موجود ہیں اور روزگار کے لیے مختلف کام کرتے ہیں۔ یا وہ صرف ان منصوبوں میں کام کرنے کے لیے آئیں گے جو چین کی کمپنیاں پاکستان میں شروع کریں گی ۔ اس قلم کیش کو یاد ہے جب منگلا ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہورہا تھا تو اسے تعمیر کرنے والی کمپنی نے اس علاقے میں ہر کسی کے آنے پر پابندی لگا رکھی تھی۔ پولیس کمپنی کی اپنی تھی ۔ آگ بجھانے کا نظام کمپنی کا اپنا تھا۔ علاج معالجہ اور کھانے کا انتظام کمپنی کا اپنا تھا۔ پاکستانی محنت کشوںکو بھرتی کیا جاتا تھا لیکن ان پرپاکستان کے لیبر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ کھانے پینے سے یا د آیاچینی بھائیوں کی کھانے پینے کی عادات پاکستانیوں سے بہت مختلف ہیں۔ وہ گوشت نام کی وہ چیزیں بھی کھاتے ہیں جن سے پاکستانیوں کو عار ہوتا ہے۔ انہیں کھانے پینے کی اشیاء فراہم کرنے کا کیا طریق کار ہو گا ۔ سندھ اور پنجاب میں ڈان کی مسخ شدہ سٹوری کے مطابق ساڑھے چھ ہزار ایکڑ رقبہ چینی کمپنیوں کو فراہم کیا جائے گا جہاں وہ زراعت اور آبپاشی کے حوالے سے تحقیق کریں گے۔ یہ اراضی پاکستانی کاشتکاروں سے (کچھ لے دے کر ہی صحیح) حاصل کی جائے گی یا سرکاری بنجر زمین میں سے انہیں دی جائے گی؟ اس کے لیے پانی کہاں سے فراہم کیا جائے گا ' کیا پاکستانی کاشتکاروں کو اب جو پانی ملتا ہے وہی ملتا رہے گا؟ جو مصنوعات یہ کمپنیاں تیار کریں گے وہ کہاں فروخت ہوں گی اور کس بھاؤ فروخت ہوں گی۔ یہ سوال بھی اہم ہونا چاہیے۔ جو چینی کمپنیاں پاکستانی کاروباری لوگوں سے اشتراک کریں گی ان کے معاملات پاکستانی قوانین کے تحت طے ہوں گے یا ان کے لیے خصوصی قوانین بنائے جائیں گے۔ گدون امازئی میں کارخانے لگانے والوں کو خصوصی رعایتیں دی گئی تھیں۔ وہ رعایتیں واپس لے لی گئیں اور اس کے علاوہ پانی کی فراہمی کا مسئلہ درپیش آیا تو گدون امازئی ویران ہو گیا۔ لیکن چینی بھائی اتنے بھولے نہیں ہو سکتے کہ وہ عارضی رعایتوں کے سہارے سرمایہ کاری کر لیں۔ لہٰذا یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کوئی رعایتیں دی جانے والی ہیں تو کیا ہیں اور کیا یہ رعایتیں پاکستانی کاروباری اداروں کو بھی دی جا سکتی ہیں۔ چینی کمپنیوں کی پاکستان میںکاروبار شروع کرنے کے لیے چین کا سرکاری بینک فراخدلی سے قرضے فراہم کرے گا۔ چینی کمپنیاں یہ سود اور اس پر منافع پاکستان میں جو کاروبار کریں گی اس سے کمائیں گی۔ تو ان مصنوعات کے بھاؤ کیا ہوں گے اس کا جواب تب ہی ملے گا جب یہ کاروبار شروع ہو جائیں گے ۔ تاہم یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مصنوعات کی لاگت اور قیمت فروخت میں کافی فرق ہو گا ۔ یہ معلوم نہیں کہ ان کمپنیوں کو ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی یا نہیں۔ اگر دی جا رہی ہے تو کتنی ۔ دو سال تک وفاقی وزیر منصوبہ بندی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لیڈروں کو قائل کرتے رہے کہ ان کے صوبوں میں سی پیک منصوبے کے تحت انڈسٹریل زون بنائے جائیں گے اور چھ رویہ سڑک ہو گی ، اس کے ساتھ ریلوے ٹرین بھی ہوگی لیکن اصلی نقشہ سامنے نہیں آیا جو چینی حکمرانوں اور چینی کمپنیوں کے پاس تھا۔ (کیونکہ وہ اس کی بنیاد پر منصوبہ سازی کرتے رہے) لیکن خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے قائدین کو حاصل نہیں ہو سکا۔ شنید ہے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پہلے سارے منصوبے پر دستخط ہو جائیں اس کے بعد یہ نقشہ عام کر دیا جائے گا۔ روزنامہ ڈان نے چینی ذرائع کے حوالے سے ایک نقشہ شائع کیا ہے ۔ پتہ نہیں یہ حقیقی نقشہ ہے یا مسخ شدہ تفصیلات کا حصہ ہے۔ وزیر منصوبہ بندی کے لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ وہ اب منصوبے کے تحت قائم ہونے والے اداروں اور انتظامات کے مضمرات ان کے لیے جاری کریں جن کا پاکستان ہے۔

اداریہ