ٹوپک زما قانون

ٹوپک زما قانون

کوئی دس سال پہلے کی بات ہے۔ اپنے کسی ڈرامے کے مزاحیہ مگر بے حد دھوکہ باز کردار برکت شاہ کے لئے مکالمہ لکھا تھا' وہ کہتا ہے' جس کام کی الف بے بھی نہیں جانتے شروع کردیں اللہ کے فضل و کرم سے دولت کی وہ ریل پیل ہو جائے گی کہ اسے سنبھالنا مشکل ہوگا۔ یہ جو آج کل ہائوسنگ سکیموں کا چرچا ہے ہمیں یہ بھی اسی قسم کا کاروبار لگتا ہے۔ نہ اس میں ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکڑی۔ رنگ مگر وہ چوکھا آتا ہے کہ بائد و شائد۔ دور دراز کے کسی علاقے میں شور زدہ بنجر زمین اونے پونے داموں خریدئیے۔ جگہ بہ جگہ قد آدم بورڈز لگا دیجئے۔ اس پر ہی ایک چنچل ناری کی تصویر بھی ضروری ہے جو اپنے پس منظر میں اس ہائوسنگ سکیم کی ایک تصوراتی رہائش گاہ کی جانب انگلی کے اشارے سے آسان اقساط میں اس پر فوری قبضہ جمانے کی خوش خبری دیتی ہے۔ ہم ہر گز یہ نہیں کہتے کہ یہ سب رہائشی منصوبے جعلی ہوتے ہیں' ہاں البتہ ان میں اکثریت دھوکہ بازوں کی ہے۔

صرف ایک مثال دینا چاہوں گا۔ کچھ سال پہلے کچھ بزرگ نما لوگوں نے اسی قسم کی مردان میں ایک رہائشی سکیم کی بنیاد رکھی۔ اس کی بڑی شہرت ہوئی۔ ابتداء میں کاروبار صاف ستھرا تھا اور خریداروں کو کسی قسم کی شکایت نہ تھی۔ آہستہ آہستہ کاروبار پھیلنے لگا' پلازوں کی تعمیر کے اشتہار لگنے لگے اور یہ رہائشی منصوبے مکمل طور پر فریب کاری کی لپیٹ میں آگئے۔ لوگوں نے اس میں بھاری رقوم کی سرمایہ کاری کی تھی۔ جن زمینوں پر رہائشی سکیمیں بنانے کے اعلانات ہوئے لوگوں کو پلاٹوں کی قیمتوں کی پوری ادائیگی کے باوجود ان کے قبضے نہیں دئیے گئے۔ کبھی انہیں متبادل جگہیں بتائی گئیں تو کبھی انہیں کسی دوسری سکیم میں انوسٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ سکیم کے مالک کروڑوں روپے ہڑپ کرکے زیر زمین چلے گئے۔ وہ لوگ جو لاکھوں روپے کی ادائیگی کرچکے ہیں اب ان کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ہاتھ میں ان کے ایک الاٹمنٹ لیٹر ہے جس کی بظاہر کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ سرکار ایسے لوگوں کو جن کی کوئی تجارتی ساکھ نہیں ہوتی عوام کو اس طرح سر عام لوٹنے کیسے دے دیتی ہے۔ سرمایہ کار اگر عدالتوں سے داد رسی کی کوشش بھی کریں تو عدالتوں سے انصاف لینے کے لئے عمر خضر کی ضرورت ہوتی ہے۔ انصاف کا حصول اس قدر مہنگا پڑتا ہے کہ لوگ انصاف مانگنے سے بھی خوف زدہ رہتے ہیں۔ انصار عباسی نے اپنے ایک کالم میں انصاف کے حصول کی ایک المناک داستان بیان کی ہے۔ 1986ء میںظہور احمد نام کے ایک شخص نے ایک سول مقدمہ قائم کیا۔ عدالت نے اس کی ملکیت تسلیم کرلی لیکن وہ زمین کا قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوئے۔ 1999ء میں ہائی کورٹ میں رٹ داخل کی۔ مقدمہ چلتا رہا۔ پیشی پر پیشیاں ہوتی رہیں' 2002ء میں مدعی کو فوری طور پر زمین کا قبضہ دینے کا حکم جاری ہوا۔ مدعا علیہ نے 2004ء میں سپریم کورٹ میں ریویو پٹیشن داخل کی۔ اٹھارہ سال تک عدالتی فیصلوں کی کوئی عملی صورت سامنے نہیں آئی۔ 1988ء سے 2014ء تک یہ مقدمہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہا۔ ظہوراحمد قطعہ زمین پر قبضے کی حسرت لے کر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اب ان کا 45سالہ بیٹا اس مقدمے کی پیروی کر رہا ہے۔ ایک نسل تو گزر گئی نہیں معلوم د وسری نسل کو انصاف دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں۔ اسی طرح انصار عباسی کے مطابق عبدالقیوم نام کے ایک دوسرے صاحب گزشتہ پندرہ بیس سال سے سی ڈی اے سے ایک پلاٹ کے حصول کے لئے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں مقدمہ بازی میں مشغول و مصروف ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے سے انہوں نے زمین ایکوائر کی تھی جس پر وہ ایگروپلاٹ لینے کے لئے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔ نتیجہ کوئی برآمد نہیں ہوتا۔ وزیر اعظم ہائوس کے ایک ڈرائیور نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے دس بارہ سال پہلے ایک پلاٹ خریدا۔ عدالت کی جانب سے اسے نوٹس ملا کہ یہ پلاٹ تو کسی دوسرے شخص کے نام بھی الاٹ ہوچکا ہے۔ اب وہ بے چارہ دوسرے شخص کے نام اس جعلی الاٹمنٹ کی تنسیخ کے لئے مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جعلی قسم کے رہائشی پلاٹوں کا کاروبار کرنے والوں کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ مظلوم کے عدالت جانے سے ان کے کاروبار پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کو یقین ہوتا ہے کہ قانون کی جنگ لمبی چلے گی اور اسی طرح جعلی کاروبار کے ذریعے لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے رہیں گے۔ ان کا کاروبار پھولتا رہے گا' وہ کبھی زیر زمین چلے جائیں گے تو کبھی بر سر زمین نمودار ہوں گے۔ ہم قانون کی بالادستی کے دل و جان سے قائل ہیں لیکن یہ عمل بعض اوقات اتنا طویل ہو جاتا ہے کہ بعض پھر ٹوپک زما قانون کا نعرہ بلند کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جن کے ہم قطعاً حق میں نہیں جبکہ تنگ آمد بجنگ آمد کا محاورہ بھی پہلے سے موجود ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ سرکار جعلی رہائشی سکیموں کے فریب کی روک تھام کے لئے قانون سازی کرکے کاروبار شروع کرنے سے پہلے ان لوگوں سے ان کے مالی استحکام کی ضمانت لے تاکہ دھوکہ دہی کی صورت میں ان کے سرمایہ سے متاثرین کو ادائیگی کی جاسکے۔ اس طرح سفید پوش لوگ جعل سازوں کے ہاتھوں دن دیہاڑے لوٹ مار سے محفوظ ہو جائیں گے۔ ظاہر ہے ٹوپک زما قانون سے مزید مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور وطن عزیز پہلے ہی ٹوپک کے قانون کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔

اداریہ