نئے عالمی منظر کے اُبھرتے نقوش

نئے عالمی منظر کے اُبھرتے نقوش

بیجنگ میں ''ون بیلٹ ون روڈ'' فورم کا اجلاس غیر محسوس انداز میں تشکیل پاتے ہوئے عالمی منظر کے دھندلے نقوش اور خد وخال کو کچھ اور واضح کرنے کا باعث بنا ہے ۔اس سے یہ انداز ہ بھی ہورہا ہے کہ یونی پولر نظام ایک بار پھر ملٹی پولر بننے کی بجائے ڈائی پولر یعنی دوقطبی بننے کی طرف جا رہا ہے ۔امریکہ اور یورپ ایک انتہا پر جبکہ روس اور چین دوسری انتہا پر کھڑے ہو رہے ہیں ۔اس کے درمیان کچھ کرداروں کا مقام اور ترتیب بدل چکی ہے ۔ایک بلاک کی قیادت ڈھلتی ہوئی عالمی طاقت امریکہ کے پاس ہے تو دوسرے بلاک کی قیادت اس بار روس کی بجائے اُبھرتی ہوئی عالمی طاقت چین کے پاس ہے۔بھارت ماضی کی طرح روس کی بجائے امریکہ کے ساتھ اور پاکستان ماضی کے برعکس امریکہ کی بجائے اپنے روایتی دوست چین کے ساتھ کھڑا ہوچکا ہے۔اب اصل مسئلہ ان دوپوزیشنوں کے درمیان پنڈولم کی طرح جھولتے ہوئے ملک ہیں جنہیں اپنی جانب کھینچنے کے لئے ساری زورا زوری ہو رہی ہے۔ترکی کو اس بلاک کا حصہ بننے سے روکنے کی ایک موثر کوشش فوجی بغاوت کی صورت میں کئی گئی تھی جو ناکامی پر منتج ہوئی اور جس کے بعد ترکی نے زیادہ تیزی کے ساتھ مغربی بلاک سے دور اور ایشیا کی قیادت میں بننے والے بلاک کے ساتھ ملنے کا سفر جاری رکھا ۔بہت سے یورپی ملکوں کی طرح ایران ،سعودی عرب ابھی گومگوں کے مرحلے میں ہیں اور افغانستان اس زورا زوری میں برے حالات سے دوچار ہے۔ اس وقت دنیا میں تقسیم کی کچھ نئی لکیریں اُبھرتی ہوئی تو محسوس ہو رہی تھیں مگر یہ بہت سست اور آہستہ روی کا شکار تھیں ۔ون بیلٹ ون روڈ کے نام سے ایک بڑی سرگرمی کر کے چین نے اس منظر کو کچھ یوں واضح کیا کہ

رخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
اُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ جاتا ہے
کئی ملکوں کی شرکت کا معیار بلند رہا جن کے سربراہوں نے کانفرنس میں شرکت کی ۔ان ملکوں میں روس ،ترکی پاکستان ،انڈونیشیا اور ملائیشیا شامل تھے جبکہ کچھ ملکوں نے شرکت کی سطح نچلے درجے پر رکھی اور سرکاری وفود کے طور پر شریک ہوئے ۔امریکہ اور بھارت اس کانفرنس سے اعلانیہ باہر رہنے کا تہیہ کئے ہوئے تھے مگر عین وقت پر امریکہ نے بھارت کو تنہا چھوڑ کر ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ بھارت کو اس کا قلق ضرور ہوا ہوگا ۔اس سرگرمی میں شرکت سے روکنے کے لئے نریندر مودی نے سری لنکا کا دورہ کیا اور بھارتی نژاد تامل آبادی کے وفد سے خصوصی ملاقات کی جس میں دہائیوں تک تامل شورش کا شکار رہنے والے سری لنکا کے لئے شاید کوئی دھمکی بھی چھپی تھی ۔بھارت کو یہ قلق بھی ہوگا کہ ایک دن سری لنکا کے وزیر اعظم رنیل وکرما سنگھا نے نریندر مودی کا استقبال کیا اور دوسرے روز وہ ایک سرکاری وفد کی قیادت کرتے ہوئے بیجنگ پہنچ گئے۔بھارت نے نیپال کو دھونس اور دھمکی بلکہ آمرانہ بادشاہت سے نجات دینے میں مدد کا احسان جتلا کر اس منصوبے سے دور رکھنے کی ہرممکن کوشش کی مگر آخری وقت میں نیپال نے بھی اس منصوبے کی حمایت کردی اور یوں اس منصوبے کو ایک سو ملکوں اور عالمی اداروں کی حمایت حاصل ہوگئی ۔اقوام متحدہ نے بھی اسے عوام کے لئے سود مند اقتصادی سرگرمی قرار دے کر حمایت کر دی ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ چین کی اُبھرتی ہوئی اقتصادی طاقت کا ایک ورلڈ آرڈر ہے ۔جو تین براعظموں ایشیا ،افریقہ اور یورپ کو ریل ،روڈ اور سمندر کے ذریعے باہم ملائے گا۔چین دہائیوں سے بہت خاموشی سے اس جانب سفر کرتا رہا ہے۔عوامی جمہوریہ چین کی اس نئی عالمی سرگرمی کا مقصد سرمائے کا بہائو ،انفراسٹرکچر کی تعمیراور عوامی رابطوں میں اضافہ تھا۔اس وسیع تر منصوبے کا ایک جزوپاک چین اقتصادی راہداری بھی ہے جسے بھارت حرز جاں بنائے ہوئے ہے ۔اس منصوبے کا ایک اہم پہلو دہلی کے راستے بھارت سے اس پار ملکوں کے درمیان زمینی رابطوں کو جوڑنا بھی ہے جسے چین ،بھارت ،میانمار بنگلہ دیش اکنامک کوریڈور کہا جاتاہے لیکن بھارت اپنی سرزمین پر منصوبے سے خوف کھاکر سردمہری اپنائے ہوئے ہے۔بظاہر تو بھارت سی پیک کو ہی بہانہ بنائے ہوئے ہے حقیقت میں بھارت کے الگ تھلگ بلکہ آمادہ مزاحمت ہونے کی وجہ کچھ اور ہے جسے اب چینی حکومت ہی نہیں دانشور طبقہ بھی سمجھ چکا ہے ۔۔ون بیلٹ ون روڈ فورم کے حوالے سے چینی تھنک ٹینکس سے وابستہ دانشوروں کے کچھ خیالات خود بھارت کے اخبارات میں شائع ہوئے جن سے بھارت کی اصل پریشانی کو سمجھا جا سکتا ہے۔ایک چینی سکالر کا کہنا تھا کہ'' دہلی والے چاہیں گے کہ چین کے غلبے والے ورلڈ آرڈر کی بجائے مغربی بالادستی کا ورلڈ آرڈر چلے اس سرگرمی سے بھارت کا دور رہنا بتا رہاہے کہ وہ عالمی سیاست میں چین کا غلبہ پسند نہیں کرتا''۔چینی صدر نے واضح لفظوں میں کہا کہ یہ منصوبہ طاقت کا کھیل نہیں پرانی دشمنیوں کی قید سے آزاد ہو کر اس کی حمایت کی جانی چاہئے اس کے ساتھ ہی چینی صدر نے سلک روڈ کے لئے متعلقہ ملکوں کو 41.5بلین فنڈز دینے کا اعلان بھی کیا ۔اس طرح زی جن پنگ ایک عالمی لیڈر کی حیثیت میں اُبھر کر سامنے آئے اور پاکستان اس کھیل کا اہم کھلاڑی بن کر اُبھرا۔اُبھرتے ہوئے اس عالمی منظر میں چین اور پاکستان کے لئے سب اچھا نہیں کیونکہ دنیا ایک اور سرد جنگ کے دور میں داخل ہو رہی ہے اور چین کی بالادستی کے حامل ورلڈ آرڈر کی مزاحمت ماند پڑنے کا کوئی امکان نہیں ۔

اداریہ