Daily Mashriq


نجی و سرکاری ادارے اور منصوبہ بندی!

نجی و سرکاری ادارے اور منصوبہ بندی!

وطن عزیز میں انفرادی امور ہوں یا اجتماعی' ایک مدت تک الل ٹپ چل رہے ہوتے ہیں اور ایک شخص خرابیوں اور ان کے نتائج کو سمجھتے ہوئے بھی یہی کہتا نظر آتا ہے کہ بس جی کیا کریں ''چلتی کا نام گاڑی ہے'' اور جب پانی سر سے اوپر گزرنے لگتا ہے تو ہڑ بڑا کر اٹھتے ہیں۔ اور پھر آپا دھاپی اور جلد بازی میں منصوبہ بندی اور قانون سازی کرتے ہیں جس کے نتیجے میں حکومت اور متعلقہ امور اور شعبوں کے سٹیک ہولڈرز کے درمیان نوک جھونک' بحث مباحثے' بیان بازی' احتجاج' ہڑتال اور بالآخر تالہ بندی کی نوبت آجاتی ہے۔اس وقت گیارہواں دن ہے کہ کراچی بندر گاہ پر اربوں کی برآمدات و درآمدات گڈز ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کے سبب بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ آخر کوئی وجہ تو ہوگی کہ حالات یہاں تک پہنچے ہیں۔ اور یہ بات تو ہمارے ہاں ضرب المثل بن چکی ہے کہ ہمارے ہاں کی حکومتیں عوامی معاملات میں اکثر دیر کردیتی ہیں جس سے بڑی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ بدیہی حقیقت ہے کہ ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں میں پارلیمنٹ' مقننہ ' انتظامیہ اور عدلیہ وغیرہ اس لئے وجود میں آتے ہیں کہ معاشرے میں عوام اور حکومت کے فرائض اور حقوق کاعدل و انصاف کے ساتھ تعین ہوتا رہے اور جب کبھی کوئی اپنی حد سے تجاوز کرنے لگے تو قانون بے لاگ طریقے سے اپنا کام کرکے حد بندی قائم رکھوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس لئے فلاحی معاشروں اور ریاستوں کے قیام میں غیر جانبدار اور فعال عدلیہ کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں عدلیہ نے نظریہ ضرورت کا سہارا لے کر ایک ایسی چیز کی بنیاد رکھ دی جس کا پاکستانی قوم کو بہت بڑا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ اب اگرچہ حالات سنبھل رہے ہیں لیکن حکومت اور عوام کے معاملات کو سدھارنے کے لئے بہت سارا کام کرنا باقی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ حکومتی اداروں کی سستی' نالائقی اور جانبداری کے سبب اکثر معاملات بگڑتے بگڑتے بعض اوقات ایسی نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ پھر ڈور کا سرا آسانی سے سلجھتا دکھائی نہیں دیتا۔ منظم و منتخب حکومتوں میں آسمان پر بادل دیکھتے ہی زمین پر پانی کے بہائو کے نظام سے متعلقہ محکمے اپنا کام شروع کردیتے ہیں۔ نتیجتاً بارشیں زحمت کی بجائے رحمت ہی رحمت ہوتی ہیں جبکہ اپنے وطن عزیز میں ہم سے ستر برسوں میں اپنے ندی نالے سنبھالے نہ گئے۔ راولپنڈی کا نالہ ''لئی'' کے ہاتھوں ہر سال تباہی و بربادی ہمارا مقدر بن چکی ہے۔ چند برس قبل خیبر پختونخوا میں نالہ بڈھنی نے وہاں کی آبادی کو جانوں اور اموال کے جس نقصان سے دو چار کیا تھا وہ آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ یہ سب ناقص منصوبہ بندی اور ٹھیک وقت کا نتیجہ ہوتاہے۔عوام کو تعلیم کی سہولیات بہم پہنچا نا ہر حکومت کا بنیادی فرض ہے ۔اور کسی زمانے میں نجی تعلیمی اداروں کا تصور محال تھا ۔ کیونکہ پبلک سیکٹر کے تعلیمی ادارے بخوبی عوامی ضروریات پور ی کر رہے تھے ، لیکن جب سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ صرف تنخوا ہیں بٹورنے لگے اور حکومت کی طرف سے ان کی نگرانی اور دیکھ بھال کمزور پڑنے لگی تو تجارت پیشہ افراد نے تعلیم کے میدان میں سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے نجی سکولوں کالجوں اور جامعات کا جال بچھ گیا اس میں شک نہیں کہ نجی تعلیمی اداروں کے نزدیک پہلا ہدف اپنا لگا ہوا سرمایہ بمع نفع وصول کرنا ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیئے لیکن حدود سے تجاوز اس وقت ہونے لگا جب تعلیم عبادت کی حدود سے نکل کر صرت تجارت رہ گئی ۔ نجی تعلیمی اداروں کے حوالے سے ایک دو بڑی شکایات یہ ہیں کہ لوگوں کی مجبوری سے ناجائز فوائد سمیٹتے ہوئے ہوشربا داخلہ اور ماہانہ فیس وصول کرتے ہیں اور بے روزگار نوجوان خواتین و حضرات کا استحصال کرتے ہوئے کم تنخواہوں پر رکھتے ہیں ۔ یہ شکایا ت جب حکومتی حلقوں میں پہنچیں تو حکومتی ارکان کے کان کھڑے ہوئے ۔ دوسری طرف نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کو حکومتی اداروں سے شکایات ہیں کہ ہم حکومت و ریاست کا ہاتھ بٹاتے ہیں لیکن حکومت ہمارے ساتھ سوتیلی ماں کا رویہ اپنائے ہوئے ہے ۔ یہ معاملہ بھی اگر بروقت قانون سازی اور منصوبہ بندی کے ذریعے نمٹا یا جاتا تو آج جیسی ڈیڈلاک کی صورتحال پیدا نہ ہوتی کہ ایک طرف حکومت ریگولیٹری اتھارٹی کا بل پاس کروا کر ان بے لگام اداروں کو نکیل ولگام ڈالنے کا کام کرنا چاہتی ہے اور دوسری طرف یہ نجی ادارے بند کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہیں ۔ حقیقت اور امر واقعہ یہ ہے کہ کوہیاں اور خامیاں و معاملات میں ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ ، بات چیت ، مذاکرات ، معاملہ فہمی اور صلح جوئی کے ذریعے فریقین مل جل کر ایک ہی خاندان کے افراد کی طرح عوام کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں اور زیادتیوں کو رفع دفع کر کے ایک ایسی اتھارٹی کا قیام عمل میں لائیں جو ان اداروں کو ملک وقوم اور عوام کے لئے مزید نفع بخش بنائے ۔ میرے ذہن میں ایک تجویز یہ بھی ہے جس پر طویل سوچ بچار ہو سکتی ہے کہ حکومت سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو ایک ہی اتھارٹی کے تحت کر کے من و تووالی بحث ختم کر ے ۔ اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کے ساتھ حصہ داری کے ذریعے ان اداروں کو بھی سیمی نیشنلاائز ڈ جیسے انتظامات کے تحت ریاستی اداروں کے ذیل میں لے آئے ۔ لیکن اس وقت مسئلہ حل کرنے کے لئے مذاکرات اور بامعنی مذاکرات ہی واحد راستہ ہے لہٰذا فریقین تحمل و برداشت سے کام لیں اور ملک و قوم کے مفاد کا سوچے ۔

متعلقہ خبریں