اک بد نصیب شہر نے گویائی بیچ دی

اک بد نصیب شہر نے گویائی بیچ دی

اب تک تو میں یہ سمجھتا رہا کہ یہ مسئلہ صرف مجھے ہی پریشان کئے رکھتا ہے اس لے اس موضوع پر کئی مرتبہ نہ صرف کالم بلکہ تجزیئے بھی تحریر کئے اور جب دیکھا کہ کسی کے کان پر جو ں تک نہیں رینگتی تو پھر خاموشی اختیار کر لی تھی مگر اب جو ہمارے اخبار کے صفحہ دو پر تین کالمی بکس میں ایک خبر چھپی جس میں پشاور کے عوامی اور سماجی حلقوں نے صوبائی اور ضلعی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور کی سڑکوں پر سے سپیڈ بریکروں کا خاتمہ کیا جائے جن کی وجہ سے جہاں ایک طر ف ٹریفک کی روانی میں خلل پڑتا ہے تو دوسری طرف ان کی وجہ سے مریضوں بھی پریشانی رہتی ہے جبکہ ان بریکروں کیلئے کیٹ آئیز استعمال کئے جانے کی وجہ سے لوگوں کی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔ عوامی مطالبے میں کہا گیا ہے کہ ہر دس یا بیس گز کے فاصلے پر سپیڈ بریکروں کا فوری خاتمہ کیا جائے ، اس خبر کے بعد ایک بار پھر میرا حوصلہ بڑھا کہ اس موضوع کو ایک بار پھر چھیڑا جائے ۔ 

ہاںبھلا کر ترا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
سپیڈ بریکروں کی یہ وباء ہمارے ہاں تربیلا ڈیم سے شروع ہوئی ہے جہاں ڈیم کی تعمیر کے دوران غیر ملکی انجینئر وں نے تربیلا جیسے پہاڑی علاقے میں بھاری مشینری ، بھاری سازو سامان کی منتقلی کے دوران ہیو ی ڈیوٹی ٹرکوں ، ٹرالروں اور دیگر گاڑیوں کی نقل و حمل کو رفتار کو مناسب رکھنے اور سامنے سے آنے والی گاڑیوں کے ساتھ ممکنہ حادثات سے بچائو کیلئے جگہ جگہ سپیڈ بریکر بنا کر ان سے کم از کم 50گز پہلے سڑک کے کنارے ٹریفک سائن بورڈ لگائے تھے اور ان پر چیک یور سپیڈ کے الفاظ کے ساتھ سپیڈ بریکر کے نشان بھی لگائے ہوئے تھے ، مگر پاکستانی قوم تو تقلید میں اپنا ثانی نہیں رکھتی اس لئے اس '' وبا ''کو ملک کے دیگر شہروں میں بھی رائج کر دیا ، مگر اس کیلئے کسی قاعدے ، قانون پر عمل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ، اور سرکاری طور پر پہلے تو بڑی شاہراہوں اور سڑکوں پران سپیڈ بریکروں کا جال بچھا یا اور پھر میونسپل اداروں نے شہر کے اندرونی علاقوں میں جا بجا سپیڈ بریکروں کے نام پر ایسی قبریں اگانے کی کامیاب کوشش کی جن پر سے گزرتے ہوئے نہ صرف عام گاڑیوں ، سکوٹر ، موٹر سا ئیکلوں کے اچھلنے سے اکثر سواریا ں گرنے کے واقعات ہونے لگے بلکہ رکشہ میں بیٹھی ہوئی سواریوں کے سر رکشوں کی چھتوں کے درمیان لگے ہوئے لوہے کے راڈوں سے ٹکرانے کی بنا پر لوگ سر پر چوٹ کی وجہ سے سر پکڑ کر رہ جاتے ہیں ، اور جب سے یہ کیٹ آئیز ایجاد ہوئے ہیں شہر کے اندر صرف سرکلر روڈ پر ہی نہیں تقریباً ہر سڑک ہر گلی میں ان کو سڑکوں کے بیچ کہیں دو دو ، کہیں تین تین اور کہیں چار چار کی لائنوں میں لگانے سے گاڑیوں کے ٹائروں کا جو ستیا ناس ہو رہا ہے یہ عوام کے ساتھ شدید نا انصافی ہے کیونکہ ان کے اوپر گزرنے سے گاڑیوں کے انجنوں کا جو حشر ہوتا ہے وہ ایک طرف جبکہ نئے ٹائر بھی چند دنوں کے اندر ناکارہ ہونے کی وجہ سے مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں ، ظلم تو یہ ہے کہ یہ سپیڈ بریکر شہر بھر میں ہر دس پندرہ گز کے فاصلے پر موجود ہیں اور سواریوں کے اچھلنے کی وجہ سے ان کو جو جھٹکے لگتے ہیں ان کی وجہ سے ذہنی امراض میں مبتلا ہونے کے اندیشے کو قطعاًنظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، خصوصاً رکشوں میں بیٹھی ہوئی سواریوں کو جسمانی کے ساتھ ذہنی جھٹکے بھی بہت لگتے ہیں۔ اگر ہمارے ملک میں لوگوں کو اپنے شہر ی حقوق کا درست ادراک ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ اس صورتحال پر ہزاروں نہیں تو یقینا سینکڑوں مقدمات متعلقہ اداروں کے خلاف دائر ہو چکے ہوتے اور جہاں عام لوگ اپنے جسمانی اور نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہونے کے خلاف ان اداروں پر کروڑوں کے ہر جانے کیلئے مقدمات قائم کر چکے ہوتے بلکہ گاڑیوں کے مالکان اپنی گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کا معاوضہ طلب کر چکے ہو تے ، مگر کسی کو اپنے حقوق مانگنے کی فکر ہے نہ فرصت ، بقول یوسف عزیز زاہد
بے نطق ہو گیا ہے ہر آواز کا بدن
اک بد نصیب شہر نے گویائی بیچ دی
ظلم تو یہ ہے کہ عوام بھی کسی سے پیچھے نہیں ، جہاں سرکاری طور پر سڑکوں اور شاہراہوں پر کھمبوں کی طرح سپیڈ بریکرز اور کیٹ آئیز کا جنگل اگایا جاتا ہے وہیں شہروں کے اندر لوگوں نے تنگ گلیوں میں اپنے گھروں کے آگے بلا اجازت ایسے ایسے سپیڈ بریکرز تعمیر کئے ہیں کہ ان پر سے گزرنا محال ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس والے سارا سارا دن اور رات بھر ان علاقوں میں گشت کرنے کے باوجود ان لوگوں سے یہ نہیں پوچھتے کہ بھائی یہ '' لکڑ ہضم ، پتھر ہضم '' پہاڑیاں کس کی اجازت سے آپ لوگوں نے تعمیر کر کے خلق خدا کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے ، ان گلیوں میں بھی اس قسم کے ناجائز سپیڈ بریکروں کی تعداد ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کہ سرکاری سطح پر ہر دس پندرہ فٹ کے فاصلے پر ان دنوں کیٹ آئیز لگا کر عوام کو امتحان میں ڈالا جا رہا ہے ، اور جسے دیکھواپنے گھر کے سامنے اینٹو ں کی قطار لگا کر اسے مسالہ سے ڈھانپ کر دیوار سی بنا دیتے ہیں جبکہ گلیوں سے گزرتے ہوئے منیرنیازی ضرور یاد آتا ہے کہ
اک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
ان ''ناجائزات '' سے عوام کی جان کب چھوٹے گی ، یہ سوال یقینا پشاور کے عوامی سماجی حلقوں کے مطالبے میں پوشیدہ دکھائی دیتا ہے ، اور اب گیند نہ صرف صوبائی بلکہ ضلعی حکومت کے کورٹس میں ہے اور جواب انہیں ہی دینا ہے ۔

اداریہ