مشرقیات

مشرقیات

حضرت علی شب میں نفلیں پڑھنے مسجد تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ بعض حضرات نے ایک بار ان کا پہرا دیا ۔ جب آپ نماز سے فراغت کے بعد باہر آئے اور ان لوگوں کو دیکھا تو پوچھا :'' آپ لوگ یہاں کیو ں بیٹھے ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ کی حفاظت کے لیے ۔ حضرت علی نے پوچھا کہ آسمان والوں سے یا زمین والوں سے ؟ لوگوں نے کہا کہ زمین والوں سے ۔ یہ سن کر حضرت علی نے فرمایا کہ : جب تک کسی بات کا فیصلہ آسمان میں نہیں ہو جاتا ، اس وقت تک کوئی چیز زمین پر رونما نہیں ہوتی ۔ اور فرمایا کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی لذت کوئی شخص اس وقت تک نہیں پاسکتا جب تک یہ یقین نہ کر لے جوکچھ ( اچھا یا برا ) اسے پہنچا ہے ، وہ ہٹنے والا نہ تھا اور جو اسے نہیں پہنچا ، وہ اسے پہنچنے والا نہیں تھا ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی کے پاس دو شخص فیصلے کے لیے آئے ، آپ ایک دیوار کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے ۔ کسی شخص نے عرض کیاکہ حضرت ! یہ دیوار گرنے والی ہے ، آپ نے فرمایا کہ تو جا ، اللہ حفاظت کے لیے کافی ہے ۔ اس کے بعدآپ نے ان دونوں اشخاص کا مقدمہ طے کیا اور کھڑے ہوئے ۔ اس کے بعد یہ دیوار گر گئی ۔ (حضرت علی کے اللہ پر کامل توکل اور بھروسہ کی عمدہ مثال ہے )۔
حضرت خالد بن ولید کی امارت وسرکردگی میں ایک لشکر ایرانیوں سے مقابلے کے لیے گیا ۔ ایرانی لشکر کا سالار مشہور زمانہ پہلوان و بہادر ستم تھا ۔ حضرت خالد بن ولید نے رستم کی درخواست پر حضرت ربعی بن عامر کو اس سے بات چیت کے لیے بھیجا ۔ ایرانیوں نے رستم کا دربار خوب سجا رکھا تھا ۔ حضرت ربعی بن عامر گھوڑے پر سوار ہتھیار سے لیس ، پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ، اس شان کے ساتھ رستم کے دربار میں پہنچے کہ ننگی تلوار آپ کے ہاتھ میں تھی ۔ دربار میں رستم کا فرش بچھا ہوا تھا ۔ آپ گھوڑے کو اسی پر چلاتے ہوئے اندر جانے لگے ۔ رستم پہلوان کے آدمیوں نے ان کو روکا اور ان سے کہا کہ کم سے کم تلوار تو زیر نیام کرلیں ۔ حضرت ربعی بن عامر نے فرمایا کہ میں تمہاری دعوت پر آیا ہوں ، میں اپنی مرضی اور خواہش سے نہیں آیا ۔ اگر تم اس طرح نہ آنے دو گے تو میں لوٹ جائو ں گا ۔ جب رستم نے یہ دیکھا تو اپنے لوگوں سے کہا ، ان کو اسی حالت میں آنے دو ۔ چنانچہ آپ اسی شان کے ساتھ رستم کے پاس پہنچے۔ رستم نے پوچھا آپ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ حضرت ربعی بن عامر نے ایسا جواب دیا ، جو ہمیشہ کے لیے لاجواب رہے گا ۔ آپ نے فرمایا : اللہ نے ہمیں اس لیے مبعوث کیا ہے کہ ہم اللہ کے بندوں میں سے ہیں ۔ اللہ جن کو چاہے ان کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لائیں اور دنیا کی تنگیوں سے نکال کر اس کے وسعتوں میں لے جائیں اور دنیا کے مختلف مذاہب کے ظلم و جور سے اسلام کے عدل و انصاف کی طرف لائیں ۔ اس واقعہ سے اسلامی معاشرے کے افراد کی مظاہر کائنات سے ، دنیا کی دل فریبیو ں سے اور مادی طاقتوں سے بے رغبتی و بے خوفی کا عظیم الشان مظاہرہ ہو رہا ہے ۔ (سنہرے واقعات)

اداریہ