فاٹا اصلاحات‘ حکومت نے معاملات ٹالنے کے سوا کچھ نہ کیا

فاٹا اصلاحات‘ حکومت نے معاملات ٹالنے کے سوا کچھ نہ کیا

میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے معاملے پر ایک سالہ بحث کے بعد بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جاسکا جس کے بعد فاٹا کے عوام کی قسمت کا فیصلہ آنے والی اسمبلی اور حکومت کرے گی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت تاثر تو یہ دیتی آئی ہے کہ وہ فاٹا کی کے پی میں انضمام کی حامی ہے لیکن عملی طور پر معاملات کو التوا میں رکھنے کے سوا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی اس خواہش کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ ممکن ہے مسلم لیگ(ن) اس امر کی سنجیدگی سے خواہاں ہو مگر التوا اسلئے اس کی سیاسی مجبوری ہو کہ اس کی اتحادی جماعتیں جمعیت علمائے اسلام(ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اس کی شدید مخالفت کرتی آئی ہیں۔ جے یو آئی(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور پی کے میپ کے صدر محمود خان اچکزئی نے فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے قبائلی عوام کی امنگوں کیخلاف قرار دیا تھا جبکہ اپوزیشن کی2 بڑی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی اس انضمام کے حق میں ہیں۔ وزیر مملکت برائے سرحدی امور (سیفران) لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے ایوان کو بتایا کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے حوالے سے معاملات آئندہ منتخب ہونے والی حکومت کیلئے چھوڑ دئیے گئے ہیں تاہم اس سلسلے میں کوئی قانون سازی نہیں کی جا رہی اور فی الوقت فاٹا کی موجودہ حیثیت ہی برقرار رہے گی۔ اس ضمن میں ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس انضمام کو عملی جامہ پہنا بھی دیا جاتا تو موجودہ حکومت کی مدت 31مئی تک کے پیش نظر یہ فیصلہ خیبرپختونخوا کیلئے پیچیدگیوں کا باعث بن جائیگا کیونکہ پھر محض15دن کے اندر خیبرپختونخوا کی حکومت کو صوبائی اسمبلی میں فاٹا کی سیٹوں کیلئے حلقہ بندیاں کرنی پڑتیں جو اتنے مختصر عرصے میں ناممکن تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کی مد میں فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے100ارب روپے مختص کئے ہیں جبکہ صوبائی حکومت میں فاٹا کو ضم کرنے کیلئے خیبرپختونخوا اسمبلی میں کئی نشستوں میں اضافے کیلئے بھی قانون متعارف کروایا جائے گا۔ خیال رہے کہ اس وقت فاٹا کی قومی اسمبلی میں12نشستیں ہیں جو ملک کی آبادی کے تحت نشستوں کی تعداد کے لحاظ سے مذکورہ علاقے سے دوگنی ہیں۔ اس حوالے سے وزیر مملکت کا مزید کہنا تھا قانون کے تحت خیبر پختونخوا میں فاٹا کی نشستوں پر انتخابات ممکنہ طور پر اگلے سال کرائے جائیں گے۔ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ضم کرنے کا فیصلہ دراصل غیر ملکی ایجنڈا ہے کیونکہ مجھے اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار نے اس حوالے سے بتایا تھا کہ فاٹا اصلاحات اقوام متحدہ کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فاٹا اصلاحات کا یہ معاملہ وزارت سیفران کے تحت آتا ہے لیکن اسے وزارت قانون وانصاف کے حوالے کیا گیا۔ دم رخصت وقت کی کمی اور مختصر مدت میں انضمام کے معاملات کی تکمیل کے عذر کی مخالفت نہیں کی جاسکتی لیکن مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو اس امر کا پوری طرح ذمہ دار گرداننا غلط نہ ہوگا کہ اس نے فاٹا انضمام یا فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں حقیقی کردار اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ہر بار احتجاج اور دبائو آنے پر کسی نہ کسی حوالے سے پیشرفت اور امکانات ظاہر کرنے کا حیلہ تراشا گیا اور دم رخصت وقت کی کمی کا عذر کیا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ(ن) کو دو اتحادی جماعتوں کا مفاد اور خوشنودی لاکھوں قبائلی عوام کے جذبات اور امنگوں سے زیادہ عزیز ہونا افسوسناک امر ہے جس سے قبائلی عوام میں محرومیوں کے احساس میں اضافہ اور موجودہ حکمرانوں اور ان کے اتحادیوں کے حوالے سے اچھے تاثرات نہ رکھنا فطری امر ہوگا۔ جہاں تک قبائلی عوام کی رائے معلوم کرنے کا اور اس کی روشنی میں حتمی فیصلہ کرنے کا سوال ہے اس تجویز کی مخالفت نہیں کی جاسکتی اگر موجودہ حکومت اس تجویز کو تسلیم کرکے اس ضمن میں پیشرفت کرتی تو تاخیری حربے استعمال کرنے کے الزام سے بچ سکتی تھی۔ ویسے اس ضمن میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت اور قیادت کا گزشتہ ریکارڈ کچھ بہتر نہیں۔ صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرکے نیا نام رکھنے کے موقع پر بھی اس وقت کی نواز شریف حکومت سے نیا نام رکھنے اور مجوزہ ناموں میں سے انتخاب کرنے کے معاملے کو عوام کی مرضی اور آراء سے طے کرنے کیلئے ریفرنڈم کی تجویز دی گئی مگر نواز شریف نے صوبے کی مخلوط حکمران جماعت کی تجویز پر اکتفا کیا علاوہ ازیں بھی اہم فیصلوں میں مسلم لیگ(ن) کی قیادت کے جمہوری رویوں کی پاسداری کا ریکارڈ کچھ زیادہ بہتر نہیں۔ بہرحال فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی تجویز کے حوالے سے خیال ہے کہ اس تجویزکو فاٹا کے عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے لیکن کچھ نہ کرنے اور اتحادی کا مان رکھنے کیلئے اس حوالے سے کسی قسم کی پیشرفت نہ کرکے مسلم لیگ(ن) کی حکومت اس اہم معاملے کو حل کرنے کی سعادت سے محروم رہی۔ جہاں تک فاٹا کی آبادی اور اس کی مناسبت سے قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد کا سوال ہے اس حوالے سے حلقہ بندی اور تعداد کے بارے میں مروج قوانین ہی کی پابندی ہونی چاہئے جس طرح صوبہ پنجاب کی قومی اسمبلی کی سات نشستیں کم ہوئیں اور خیبر پختونخوا کی نشستوں میں اضافہ ہوا اسی طرح فاٹا کی نشستوں میں کمی ہونے پر قبائلی عوام کو اعتراض نہ ہوگا جبکہ صوبائی اسمبلی کیلئے حلقہ بندیوں کے بعد ایک سال کے اندر شاید ہی فاٹا میں انتخابات کی نوبت آئے گی جس کا تاثر دیا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ فاٹا کے حوالے سے جملہ معاملات اب آمدہ عام انتخابات میں نہیں اس سے اگلے یعنی 2023ء کے انتخابات تک فاٹا کے عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی مل سکے گی۔ فاٹا میں عدالتی عملداری کی توسیع کے معاملے پر بھی اب تک عملی طور پر کوئی اقدامات نظر نہیں آتے۔ اس کا صرف موجودہ دور میں اعلان ہی کیا گیا اور آئندہ چند دنوں میں اگر اس حوالے سے عملی اقدامات کا آغاز بھی ہو تب بھی اس عمل کی تکمیل آئندہ حکومت ہی کے حصے میں آئے گی۔

اداریہ