بیانات معاملہ، منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت

بیانات معاملہ، منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت

چیئرمین نیب کی مصروفیات کا کہہ کر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں عدم پیشی سے آئینی ادارے کی بالادستی کے حوالے سے سوال ممکن تھا لیکن بہرحال اب بائیس مئی کو ان کی دوبارہ طلبی کی گئی ہے، جس میں ان کی متوقع پیشی سے محولہ تاثر کا ازالہ ممکن ہوگا۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کی حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) اور دیگر جماعتوں کیساتھ ساتھ پیپلز پارٹی خاص طور پر پارلیمان کے مقتدر رہنے بارے حساس جماعت ہے مگر چیئرمین نیب کی طلبی پر اس کے ارکان کا قائمہ کمیٹی سے استعفیٰ برعکس معاملہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چیئرمین نیب کی طلبی اور ان کی پیشی کا معاملہ تنازعات کا باعث معاملہ نہیں بلکہ سوال جواب کی ایک نشست کے بعد غلط فہمی کا ازالہ اور وضاحت ممکن ہے۔ اگر پی پی پی کو یہ بھی منظور نہیں تو پھر ان کی پارلیمان کی بالادستی کا موقف بھی حقیقی نہیں۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیان پر بیانات کی حد تک آسمان سر پر اٹھا لینے کی کیفیت ہے مگر خود ان کی جانب سے کمیشن کے قیام کی پیشکش کے باوجود اس تجویز کو قبولیت نہ ملنا سوالیہ نشان ہے۔ قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کو ان کو بھی طلب کرلینا چاہئے جبکہ ان کیخلاف عدالتوں سے عام شہریوں کی سطح سے ذرا اوپر کے درجے کسی ادارے یا حکومت کا ان پر مقدمہ قائم کرنے کے مطالبات کی ضرورت ہے۔ بہرحال طریقہ کار جو بھی اختیار کیا جائے چیئرمین نیب اور نواز شریف دونوں ہی کو کسی مجاز فورم میں پیش کرکے ان سے ان کے بیانات کی وضاحت طلبی ہونی چاہئے اور ضروری ہوا تو قانون کے مطابق کارروائی بھی ہونی چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چیئرمین نیب نے اپنے بیان کے حوالے سے جو معاملا ت نیب کے اجلاس میں بیان کئے وہی قائمہ کمیٹی میں آکر کہیں تو کافی سمجھا جائے گا۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اور انصاف نے نیب کے چیئرمین کو کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر وضاحت دینے کی ہدایت کی تھی، انہوں نے کن بنیادوں پر سابق وزیراعظم نواز شریف کیخلاف مبینہ طور پر4 ارب90کروڑ ڈالر بھارت بھیجنے کی تحقیقات کا حکم دیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو لفظی مطعون کرنے کی بجائے ان کو بھی کسی فورم کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس دینے کی ضرورت ہے۔ جہاں نہ صرف ان کے بیان کی وضاحت ہوسکے گی بلکہ ان کیخلاف ضروری کارروائی بھی ممکن ہوگی۔
دنیا بھر میں ایک ہی دن ماہ صیام کا آغاز‘ صد شکر
دنیا بھر میں ماہ صیام کا ایک ہی دن آغاز نہایت خوش آئند اور بابرکت امر ہے جس سے یہ توقع وابستہ کرنا بے جا نہ ہوگا کہ اس کی برکات سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں اخوت اور یگانگت کے جذبات میں اضافہ ہوگا اور یہ عالم اسلام کے اتحاد کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ خیبر پختونخوا کے باسیوں کیلئے متفقہ طور پر رویت کا اعلان اور پورے ملک اور پوری دنیا کے مسلمانوں کیساتھ ایک ہی دن روزہ رکھنا اسلئے بھی خاص طور پر خوشی ومسرت کا باعث امر ہے کہ یہاں کبھی کبھار ہی رویت پر اتفاق کی نوبت آتی ہے۔ رمضان المبارک کی ان پُرنور ساعتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کی سعی ہر مسلمان کی خواہش تو ضرور رہتی ہے مگر اس ضمن میں تساہل بھی برتا جاتا ہے۔ ہمارے تئیں رمضان المبارک کا اہم ترین مقصد اور عبادت دوسروں کی حتی المقدور دستگیری اور ان کا خیال رکھنا ہے۔ اخوت اور ایثار کے تقاضوں کو سمجھنے اور ان پر عملدرآمد میں جس قدر ممکن ہوسکے متوجہ ہونے اور اپنے بچوں کو عملی طور پر اس کی تربیت دینے پر توجہ کی ضرورت ہے تاکہ رمضان المبارک میں تزکیہ نفس اور زیادہ سے زیادہ برکات سمیٹنے کے مواقع سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جاسکے۔

اداریہ