Daily Mashriq


بے وقت کا راگ

بے وقت کا راگ

پاکستان کے سیاسی اُفق پر حالات وواقعات کی سلائیڈ جس تیزی کیساتھ بدل رہی ہے اس سے عوام کے ذہن یہ کہہ رہے ہیں کہ انتخابات میں بہت الجھیڑا پڑے گا کیونکہ کسی جانب سے سیاسی اخلاقیات کا ناتا نظر ہی نہیں آرہا ہے۔ اس فضاء میں نوازشریف کا رویہ بتا رہا ہے کہ انہوں نے نااہلی کے فیصلے کے بعد کسی قسم کی مفاہمت کے امکان کے دامن کو تار تار کر دینے کی ٹھان لی ہے اور 1970ء کے انتخابات سے یہ سبق سیکھا ہے کہ کسی بھی حالت میں دفاعی پوزیشن اختیار نہیں کرنی ہے۔ ستر کی دہائی میں کیا ہوا تھا کہ اس زمانے میں پاکستان کے مغربی حصہ میں نظریاتی کشمکش کو جنم دیا گیا تھا یوں دین اور لادینی کا ٹکراؤ پیدا کیا گیا تھا۔ اس موقعہ پر غربت وافلاس کے ناسور سے پی پی کے بانی نے فائدہ اُٹھا کر اسلامی سوشلزم کا شوشا چھوڑا جس کو جماعت اسلامی نے سختی سے رد کر دیا چنانچہ سیاسی میدان جنگ میں پی پی نے جماعت اسلامی کو ٹارگٹ کیا۔ اس وقت کے پابند میڈیا نے پی پی کا بھرپور ساتھ دیا جس طرح ان دنوں میڈیا پی ٹی آئی کیساتھ لگ کھڑا ہے چنانچہ جماعت اسلامی دفاعی پوزیشن اختیار کر گئی اور اس طرح وہ یہ انتخابی جنگ ہار بیٹھی۔ جماعت اسلامی کیساتھ مشرقی پاکستان میں بھی ایسا ہی ہوا، وہاں انتخابی سیاست کا نظریہ مجیب کے چھ نکات تھے جس کی جماعت نے مخالفت اسلئے کی تھی کہ وہ یہ سمجھتی تھی کہ یہ نکات خودمختاری کیلئے نہیں بلکہ ملک کا شیرازہ بکھیر دینے کیلئے ہے۔ بہرحال یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی بھی قوت جب دفاعی لائن پر آجاتی ہے تو اس کی کامیابی کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔میاں نواز شریف سیاست کی اس گلگلی سے واقف نظر آرہے ہیں اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ خلائی مخلوق ان کو لائن لگانے اور اپنے لاڈلے کو لانے کیلئے دفاعی پوزیشن پر لے جانا چاہتی ہے چنانچہ وہ کچھ بھی کہہ دیں اس پر کھڑ ے نظر آرہے ہیں اور ان کا جارحانہ رویہ روز بہ روز دہکتا جا رہا ہے۔ میاں نوازشریف کا حالیہ بیانیہ جو انہوں نے دہشتگردی کے حوالے سے جاری کیا، وہ اب ایک سیاسی جنگ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو سیاسی میدان میں مسلم لیگ ن تنہا کھڑی ہے اور جو لوٹے اقتدار کے مزے لوٹا کرتے ہیں وہ بھی مسلم لیگ کو تنہا کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ میاں نواز شریف نے ایک نئی سیاسی اصطلاح خلائی مخلوق استعمال کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ انہوں نے ہتھیار نہیں ڈالنا ہے۔ یہ رویہ یقیناً ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا کیونکہ میاں صاحب نے غیر ریاستی محرکین جن کو نان سٹیٹ ایکٹر بھی کہا جاتا ہے کا ذکر کرنے سے پہلے کہہ دیا تھا کہ وہ بہت سے رازوں کے امین ہیں اور ان کا انکشاف کریں گے۔ پھر انہوں نے ڈان لیکس کے بارے میں بھی زبان کھول دی، گویا ٹکراؤ کو جلا بخشی جا رہی ہے حالانکہ سیاستدان سمیت سبھی جانتے ہیں کہ چاہے سیاسی ادارے ہوں یا قومی ادارے ہوں ان کے ٹکراؤ میں ملک کیلئے ضرر تو ہے بھلائی نہیں ہے۔ تاہم یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ٹکراؤ کی کیفیت یک طرفہ نہیں ہوتی ٹکراؤ کی گونج اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب دو برتن ٹکراؤ کی صورت گر جاتے ہیں چنانچہ یہ بات سیاستدانوں تک محدود نہیں کہ وہ ٹکراؤ کی طرف جارہے ہیں، قومی اداروںکو بھی احساس ہونا چاہئے کہ جہاں یہ ذمہ داری سیاستدانوں کی ہے کہ وہ ٹکراؤ سے دور رہیں ویسی ہی ذمہ داری ملک کے ادارو ں کی ہے کہ وہ بھی دامن بچائے رکھیں۔ عمو ماً اداروں میں ٹکراؤ کی کیفیت اسی لمحہ پیدا ہوا کرتی ہے جب ادارے اپنے اختیارات سے تجاوز کریں اور ایک دوسرے کے اختیار میں مدخل ہوں۔ نواز شریف نے پنجہ آزمائی کو اپنا منشور بنا لیا ہے اور اب ان کی جانب سے احتساب بیورو کے ادارے سے بھی ٹکراؤ کی بو پھیل گئی ہے۔ نیب کے سربراہ کا رویہ یقینی طور پر اُلجھا ہوا سا محسوس کیا گیا، کیونکہ نیب کے طریقہ کار کے بارے میں پشاور میں کچھ برس پہلے صحافیوں کو ادارے کے سربراہ نے جو ایک ریٹائرڈ بریگیڈئر تھے تفصیلات سے آگاہ کیا تھا کہ ان کا ادارہ کسی سنی سنائی بات پر فوری متحرک نہیں ہوتا نہ فوری طور پر کسی تحریری شکایت پر پیش قدمی کرتا ہے۔ پہلے ابتدائی اطلاع پر اچھی طرح اپنے طور پر تحقیق کرتا ہے، ثبوت حاصل کرتا ہے پھر تفتیش کی طرف قدم بڑھاتا ہے چنانچہ ایک خبر پر فوری تفتیش اور اس کو سرعام اُچھالنے پر عوام کو حیرت ہوئی تھی، اس اقدام سے عوام میں تاثر بھی اچھا نہیں پڑا تھا کیونکہ جو وقت ان اقدام کیلئے چنا گیا وہ نامناسب تھا اور یہ سمجھا گیاکہ ایک ہی شخص کے گرد ہی احتساب کا پہیہ گھمایا جارہا ہے۔ بہرحال چیئرمین نیب سے وضاحت کیلئے ان کو پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے طلب کیا تھا، وہ خود تو تشریف نہیںلائے مگر انہوں نے اپنی جگہ نیب راولپنڈی کے ڈائریکڑ جنرل عرفان منگی کو بھیجا جنہوں نے بتایا کہ پہلے سے طے شدہ مصروفیا ت کی بنا پر چیئرمین نہیں آسکے ان کو بھیجا ہے کہ نئی تاریخ دے دی جائے چنانچہ 22مئی نئی تاریخ مقرر کر دی گئی۔ اس عمل کو بھی بعض عناصر نے بتنگڑا بنا رکھا ہے کہ چیئرمین نیب پیش نہیں ہوں گے، پارلیمنٹ ملک کا سپریم ادارہ ہے اور ملک کی توقیر ہے۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ نئی تاریخ کا مطالبہ اسلئے کیا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک موجودہ اسمبلی تحلیل ہو جا ئے گی اور قصہ ازخود خلاص ہو جائے گا مگر اسمبلی کی تحلیل سے پہلے کی تاریخ مقرر ہے نہ جانے اپنے طور پر نقاد بنے لوگ کیا دلوں کا حال بھی جانتے ہیں کہ یہ یوں ہوا یوں نہیں ہوا، اسلئے ہوا اسلئے نہیں ہوا وغیرہ، تاہم یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ کسی بھی سطح پر ٹکراؤ ملک کے مفاد میں نہیں ہے اس کی سزا قوم پہلے بھگت چکی ہے اس سے اجتناب برتنا کسی ایک کی ذمہ داری نہیں سب کی بنتی ہے اور سب کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ملک کے حالات سازگار وپرامن رہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ٹکراؤ سے اغماض برتنے والے ہی ذمہ دار قرار پائیں گے۔

متعلقہ خبریں