Daily Mashriq


یہاں تو بغض اُگتا ہے محبت کی زمینوں میں

یہاں تو بغض اُگتا ہے محبت کی زمینوں میں

تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں کا کام حالات وواقعات کا تجزیہ کرکے ملکی سیاسی صورتحال کے بارے میں اپنے معزز قارئین کو باخبر رکھنا ہوتا ہے۔ اس میں قطعاً شک نہیں کہ بعض تجزیوں اور کالموں سے جانبداری کی بو آتی ہے۔ تاہم ملکی سطح پر غیرجانبدار لکھنے والوں کی آراء کو بہت پذیرائی بھی ملتی ہے۔ خود ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے نوک قلم سے کوئی ایسا فقرہ یاجملہ نہ سرزد ہو جس پر جانبداری کا گمان گزرے۔ یہ ضرور ہے کہ ہم کوئی لگی لپٹی نہ رکھتے ہوئے جہاں جہاں کمزوری محسوس ہو اس پر بے لاگ تبصرہ ضرور کریں کیونکہ کسی بھی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے اچھے کو اچھا اور برائی کو برائی کہنے میں (خواہ اس سے کسی بھی پارٹی یا گروہ کی اصلیت ظاہر ہو) ہمیں کوئی باک نہیں ہوتا۔ معاف کیجئے اتنی لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت اسلئے پیش آئی کہ اخبار میں اس کالم کے چھپنے کے بعد ہم اسے عموماً فیس بک اور ٹویٹر پر بھی ڈال دیتے ہیں۔ فیس بک پر تو ہمارے بے شمار کرم فرما ان کالموں پر تبصرہ کرکے ہمیں اپنی آراء سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ان میں تعریفی اور توصیفی کلمات بھی ہوتے ہیں تو کہیں کہیں اپنے مشوروں سے بھی ہمیں نوازا جاتا ہے۔ 14مئی کو شائع ہونے والے ہمارے کالم ’’سودن۔ ایک نیا پنڈورہ باکس‘‘ پر جہاں عمومی تبصروں میں کالم کی پذیرائی شامل ہے وہیں کسی صاحب نے جن کا تعلق غالباً بہاولپور سے ہے ایک ای میل میں ہماری سخت سرزنش کی ہے اور ہمیں کہا گیا ہے کہ ہم اپنا بیانیہ ان پر تھوپنے سے احتراز کریں بصورت دیگر ہمیں مغلظات سے بھی نوازا جا سکتا ہے۔ موصوف کا اعتراض یہ ہے کہ بقول ان کے بہاولپور کے لوگ اپنی زبان کو سرائیکی کہتے ہیں نہ کہ ریاستی۔ تاہم معترض نے اصل سوال کی چبھن کو صرف ’’ریاستی زبان‘‘ کے جملے میں چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے ہم پر دھمکی آمیز تیروں کی بوچھاڑ کردی جبکہ حقیقت اتنی ہے کہ بہاولپور کے عوام کا اپنی زبان کو سرائیکی کی بجائے ریاستی زبان کہنے کا بیانیہ ہمارا نہیں بلکہ ملک کے ایک سینئر صحافی اور تجزیہ کار افتخار احمد کے کالم ’’عوام کی عدالت‘‘ سے ماخوذ تھا جب وہ اسی موضوع پر یوں رقمطراز ہیں۔ ’’ مجھے یاد ہے 1970ء کے انتخابات میں بھی بہاولپور صوبہ بحالی موومنٹ نے اس وقت کافی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ صوبہ بحالی کا مطالبہ اس قدر مقبول تھا کہ اس کے سامنے پیپلز پارٹی کا روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ بھی بے بس نظر آیا۔ بہاولپور صوبہ بحالی والوں نے ماضی میں چلنے والی سرائیکی صوبے کی تحریکوں سے خود کو الگ رکھا ہے بلکہ بہت سے بہاولپور کے رہنما تو اپنی زبان کو سرائیکی کی بجائے ریاستی کہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی لئے ماضی میں انہوں نے سرائیکی زبان کی بنیاد پر نئے صوبے کی تشکیل کی کبھی سپورٹ نہیں کی۔‘‘ اب اس صورتحال پر منیر نیازی سے رجوع کرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ

ادب کی بات ہے ورنہ منیرؔ سوچو تو

جو شخص سنتا ہے وہ بول بھی تو سکتا ہے

پہلے افتخار احمد کی بات کی تھوڑی سی مزید وضاحت کرتے ہوئے اگر عرض کریں تو شاید یہ بات بے جا نہیں ہوگی کہ ون یونٹ کے قیام کے وقت بہاولپور (جو دراصل قیام پاکستان سے پہلے ایک خودمختار ریاست تھی) کے عوام سے ریاست بہاولپور کے بطور علیحدہ صوبہ کچھ وعدے وعید کئے گئے تھے کیونکہ اس وقت سابق مشرقی پاکستان کی عددی اکثریت کو پیریٹی کے تحت ایک یونٹ قرار دلوانا تھا تاکہ برابری کی بنیاد پر مشرقی اور مغربی پاکستان کو وسائل کی تقسیم میں یکساں حقوق دئیے جائیں تاہم سقوط ڈھاکہ سے پہلے یحییٰ خان نے جب سابقہ صوبے بحال کئے تو بہاولپور کی علیحدہ صوبے کی حیثیت سے صرف نظر کرتے ہوئے صدارتی حکمنامے کے ذریعے اسے پنجاب میں ضم کر دیا گیا۔ تب سے وہاں علیحدہ صوبے کیلئے آوازیں بلند ہونا شروع ہوئی تھیں اور 1970ء کے الیکشن میں یہ ایک مقبول نعرہ تھا۔ بہرحال جب پنجاب کے جنوبی اضلاع میں سرائیکی صوبے کے مطالبات شروع ہوئے تو ساتھ ہی بہاولپور صوبے کی بازگشت بھی سنائی دینے لگی اور اصولی طور پر بھی جب لسانیت کی بنیاد پر پنجاب میں نئے صوبے کے مطالبات اٹھتے رہے تو بہاولپور والوں کو علیحدہ صوبے کے مطالبات میں سے سرائیکی زبان کو علیحدہ کئے بناء دوسرا چارہ نہیں رہا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ افتخار احمد کو سرائیکی اور ریاستی زبانوں کی نشاندہی پر مجبور ہونا پڑا ہے اور اگر اس بارے میں اپنے کالم میں حقائق کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے استدلال سے ہم نے بھی استفادہ کیا تو اصولی طور پر اس کی ذمہ داری ہم پر عائد کرکے ہمیں مغلظات سے نوازنے کی دھمکی کسی بھی طور قبول نہیں کی جاسکتی۔ بدقسمتی مگر یہ ہے کہ آج سیاسی سطح پر بعض کم ظرف رہنمائوں نے شائستگی کی بجائے گالم گلوچ‘ تنگ نظری اور تھڑ دلی جیسے عناصر سیاست میں متعارف کرا دئیے ہیں اور جس طرف نگاہ ڈالیں مخالف سیاسی جماعتوں کے اراکین نہ صرف ایک دوسرے کے رہنمائوں کیخلاف غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں بلکہ جہاں موقع ملتا ہے تصادم سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ صورتحال آگے چل کر کسی بھی وقت (خدانخواستہ) خانہ جنگی میں ڈھل سکتی ہے۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی قائدین نہ صرف اپنی زبانوں کو قابو میں رکھیں بلکہ اپنے ورکروں کو بھی تصادم سے گریز کی تلقین کریں تاکہ ملک میں حقیقی جمہوریت پنپ سکے۔

کہاں تو ڈھونڈنے آیا گل اخلاص کی خوشبو

یہاں تو بغض اُگتا ہے محبت کی زمینوں میں

متعلقہ خبریں