Daily Mashriq


میاں صاحب! خیال رکھئے

میاں صاحب! خیال رکھئے

اپنی جانب لوگوں کو متوجہ رکھنے کی خواہش میں میاں نواز شریف حد سے ہی آگے نکل گئے یا شاید لٹ جانے کا احساس اتنا ہے کہ اب وہ چوراہے پر آکر خود بیٹھ گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سیاسی کیرئیر کیساتھ جو دشمنی میاں صاحب کر رہے ہیں وہ شاید کوئی باہر سے موثر انداز سے نہ کر سکتا۔ مسلم لیگ ن کو میاں صاحب گھن کی طرح اندر سے ہی کھا رہے ہیں اور کون جانے وہ کب تک اسے پوری طرح نیست ونابود کر نے میں کامیاب ہونگے۔ شاید ان کے انہی ارادوں کو بھانپ کر ان کے بھائی میاں شہباز شریف نے میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے بیانئے کو ایک دوسرے سے جدا قرار دیا تھا۔ میاں صاحب کی حالت اس بچے جیسی ہے جو خود کھیل میں ہارنے لگے تو بورڈ ہی اُلٹا دینا چاہتا ہے تاکہ کوئی اور بھی نہ کھیل سکے۔وہ نہ خود کھیلیں گے نہ دوسروں کو کھیلنے دیں گے کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں ۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے اس قدر بچگانہ سوچ کے مالک لوگوں کے حوالے اس ملک کو کئی بار کیا ہے اور اب جب ان کے احتساب کی باتیں ہونے لگیں انہیں یہ محسوس ہوا کہ چوری پکڑی گئی تو انہوں نے ہر قسم کا شور مچانا شروع کر دیا۔ اس شور شرابے میں انہیں یہ بھی احساس باقی نہیں کہ اس سے ملک کو کیا نقصان ہوسکتا ہے۔ آج کل بھارت کی جانب سے بھی ممبئی حملوں کا کوئی ذکر فضا میں موجود نہ تھا لیکن میاں صاحب کو یہ بات یاد آگئی۔ ڈھٹائی کی حد دیکھئے کہ وہ نہ تو اپنی بات کے حوالے سے یہ کہتے ہیں کہ ان کی بات کا غلط مطلب نکالا گیا، نہ ہی وہ خاموش بیٹھتے ہیں۔ وہ اپنے ان ساتھیوں کا بھی خیال نہیں کر رہے جو میاں صاحب کے اس بیان کے بعد معاملے کو سنبھالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ایک موجودہ وزیراعظم، اپنی وزارت عظمیٰ کی حیثیت کو گواہ بناتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ میاں نواز شریف کے بیان کو غلط رنگ دیا گیا۔ اسی اثنا میں جبکہ قومی سلامتی کمیشن کی جانب سے یہ اعلامیہ جاری کیا گیا کہ میاں صاحب کے بیان میں کوئی حقیقت نہیں اور اس بیان کی وجوہات میں رنجش کا عنصر شامل ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم قومی سلامتی کمیشن کے اعلامیے کا زہر ہلکا کرنے کی کوشش کررہے تھے یا میاں نوازشریف کو اپنی وفاداری کا یقین دلانا چاہتے تھے یا دونوں ہی باتیں تھیں بہرحال صورتحال میں کچھ ٹھہراؤ محسوس ہونے لگا۔ میڈیا پر بھی ایک خاص حد سے زیادہ کسی بھی بات کا ذکر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات خود مسلم لیگی بھی جانتے تھے کہ چند دنوں میں زخم مندمل ہونا شروع ہو جائے گا، جو لوگ میاں صاحب کی حمایت کر رہے ہیں ان کا بھی سادہ سا حساب کتاب ہوگا۔ لوگوں کو باتیں یاد نہیں رہتی اور میڈیا میں ایک ہی بات کا ذکر بار بار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بات پرانی ہو جاتی ہے۔ جب تک لوگوں نے پولنگ سٹیشنوں تک جانا ہے اس وقت تک یہ بات حرف غلط کی طرح مٹ گئی ہوگی سو عوام کی جانب سے اس کا ردعمل آنے کا امکان نہیں اور میاں نواز شریف کو وہ اپنی باتوں سے منا رہے تھے تاکہ پارٹی کے اندر انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن میاں نواز شریف تو باز ہی نہیں آرہے۔ اب وہ ایک نئی بات، ایک نئی سنسنی خیزی کیساتھ میدان میں اُتر آئے، کہتے ہیں کہ وہ دنیا کو وقت آنے پر یہ بھی بتا دینگے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے دھرنوں کے پیچھے اور کونسے بڑے نام تھے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ وہ لوگ جو اندھیرے کمروں میںسحری کر رہے ہیں، جو انتہائی گرمی میں روزے رکھیں گے اور لوڈشیڈنگ بھی برداشت کرینگے، جنہیں احساس نہیں کہ حکمرانوں کی بدعنوانی اور منی لانڈرنگ ایک عام آدمی کی جیب سے پیسہ نکال لیتی ہے جنہیں اپنی زندگی کی مشقتوں میں قطعی اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ میاں نواز شریف کیا بات کرنا چاہتے ہیں اور کس پر الزام دھرتے ہیں۔ ان کے الزام دھرنے سے کسی کا بھی کیا نقصان ہوگا، خود عوام کا کیا نقصان ہوسکتا ہے، لوگوں کو اس وقت اس بات سے کوئی غرض نہیں۔ وہ بس اپنی زندگی میں آسانی چاہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ کوئی یہ نوید سنائے کہ سبزی سستی ہوگئی ہے۔ مرغی کا گوشت خریدنے کی اہلیت اب ایک عام آدمی کی بھی ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ واقعی کم ہے۔ ان کو تھوڑا سا آرام مل گیا ہے۔ انہیں کیا کہ میاں صاحب کے سینے میں کیا راز ہیں اور وہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا کیا کباڑا کر سکتے ہیں۔ فوج کیخلاف میاں صاحب کے دل میں کیا رنجشیں ہیں اور وہ کس طرح پاکستان کی ہی بساط لپیٹ دینا چاہتے ہیں۔ ہاں اگر کوئی عام آدمی کو یہ سمجھائے کہ پاکستان کو خطرہ ہے تو وہ کسی نام اور سیاسی پارٹی کے جھنڈے کا لحاظ کئے بغیر اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کو تیار ہوگا۔ تب وہ کسی کا لحاظ نہیں کرے گا خواہ اس کے سامنے کوئی بھی ہو، کیونکہ پاکستان کی بقاء میں ایک عام آدمی کی بقاء ہے اور میاں صاحب کو اپنے تمام تر غصے اور رنجش میں بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں