Daily Mashriq


ثقافت کے زندہ امین

ثقافت کے زندہ امین

ان دنوں کی بات ہے جب ہم زندہ تھے اور ہماری زندگی کی سانسوں کے عوض ہمیں پی ٹی آئی حکومت کے کلچر ڈیپارٹمنٹ نے ضابطے کی جملہ کارروائیاں کرنے کے بعد قرار دے دیا تھا ثقافت کا زندہ امین۔ کم وبیش آٹھ مہینے تک ہمیں ملتے رہے تیس ہزار روپے ضرب پاکستانی جس کا نصف ہوتا ہے 15ہزار روپے اور یوں ہمارے آٹھ مہینے تک زندہ رہنے کا جواز بنتا رہا۔ اتنا ہی زور تھا پی ٹی آئی کی حکومت اور اس کے کلچر ڈیپارٹمنٹ میں ہمیں زندہ رکھنے کا۔ جیسے ہی آٹھ مہینے پورے ہوئے انہوں نے ’’ بس بہت جی لئے‘‘ کہہ کر ہمارا وظیفہ بند کر دیا، تب سے اب تک ہم ثقافت کے زندہ امیں نہیں رہے۔ شاید مردہ امین کہلانے لگے ہوں۔ لیکن سچ پوچھئے تو ہم اپنے آپ کو نہ زندوں میں شمار کرتے ہیں نہ مردوں میں ’’جرم ضعیفی کی سزا ہے مرگ مفاجات‘‘ اور بھگت رہے ہیں، یہ سزا جیسے تیسے۔ چچا غالب کے بقول

دم رہا جب تک دم دم رہا

دم کے جانے کا نہایت غم رہا

گزر ہی رہی تھی جب ہم ثقافت کے زندہ امین نہ تھے اور گزرتی ہی رہی جب ہم ثقافت کے زندہ امین بنے۔ بھلا ہو اس نظر التفات کا جس کے طفیل ملنے لگی تھیں کچھ پھوٹی کوڑیاں۔ بڑے ستم ڈھائے اس آسمان نے ہم پر اور ہم چیخ چیخ کر پکار اُٹھے کہ

تہمت چند اپنے ذمہ دھر چلے

کس لئے آئے کیا کر چلے

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

ایک زمانہ وہ بھی تھا جب ہم سے کسی نے اکیڈمی آف لیٹر کے چیئرمین کا نام پوچھا تھا اور ہم نے جواب دیا تھا ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے ادیبوں اور شاعروں کی روزی روٹی کا انتظام کرنے والے اداروں کے چیئرمینوں کے نام یاد رکھنے کی، ہم نے کوئی وظیفہ تھوڑا مانگنا ہے ان سے جاکر۔ شاید میرے اس بڑے بول سے نام پوچھنے والے کا دل ٹوٹ گیا ہو اور یا بڑے بول کو پسند نہ کرنے والا اللہ اکبر کو اچھی نہ لگی ہو میری یہ بات، اسلئے آسمان کے بدلتے رنگوں نے مجھ پر ایسی افتاد ڈالی کہ بھگتنے لگا ابتلا کے پر آزمائش دنوں کے شب وروز۔ منشیات کا عادی ہوگیا میرا لاڈوں پالا۔ چھوڑ گئی اس کی بیوی، اپنے بچوں کو لیکر اور ہمارا وہ آبائی گھر جس میں وہ اپنی بیوی بچوں کیساتھ رہ رہا تھا ہڑپ کر گیا اس مکان کو وہ کسی کے پاس گروی رکھواکر۔ میرا قصور یہ تھا کہ میں باپ تھا اس کا، جانے ایسے کتنے بدنصیب ماں باپ ہونگے جن کے جگر گوشے منشیات کے عادی بن کر ان کیلئے سوہان روح بن گئے ہونگے۔ کتنی خوشیاں منائی ہونگی جب وہ پھول بن کر کھلے ہونگے ان کے گھر آنگن میں اور کتنے دکھ اُٹھائے ہونگے انہوں نے جب وہ منشیات کی دلدل میں پھنس کر ان کے لہو کا ایک ایک قطرہ نچوڑنے لگے ہونگے، معلوم نہیں یہ کن کرموں کا ثواب تھا کہ مجھ پر جو افتاد پڑی تو آسمان سے فرشتے اترنے لگے میری مدد کو، اکیڈمی آف لیٹر والے خودبخود مہربان ہوگئے مجھ پر۔ کڑے وقتوں میں دوست اور دشمنوں کی پہچان ہوجاتی ہے۔یاد کروں تو دوستوں کی اک طولانی فہرست بن جاتی ہے اپنے محسنوں کی اور وہ فہرست بھی مختصر نہیں جن کے بارے میں خاطر غزنوی نے کہا تھا

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

پر اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

کچھ لوگ میرے زخموں پر نمک چھڑک کر اپنے بھیانک چہروں کی پہچان کرانے لگے، لیکن صد شکر کہ دست خضروی بڑھا کر مجھے ڈوبنے سے بچانے والوں کی کبھی بھی کمی نہیں رہی اپنے ان بہی خواہوں کی موجودگی میں کیا پڑی تھی مجھے ایک بار پھر ثقافت کے زندہ امین بننے کی، سو اب کی بار میں نے لنڈورا ہی رہنا پسند کیا اور جو دے اس کا بھلا اور جو نہ دے اس کا بھی بھلا کی صدائیں لگاتا کلچر ڈیپارٹمنٹ کے درنعمت پر دستک دئیے بغیر آگے بڑھ گیا لیکن اس واویلا پر کان دھرے بنا نہ رہ سکا، جو ثقافت کے زندہ امین بننے کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں نے برپا کر رکھی ہے۔ فنکاروں کیلئے مختص فنڈز کی تقسیم اقرباء پروری کا شکار ہوگئی، مستحق فنکاروں کو نظرانداز کرکے من پسند افراد میں رقوم تقسیم کی گئیں، فنڈز کی تقسیم کیلئے قائم کمیٹی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا جس پر فنکاروں کی تنظیموں نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا کر اپنے غم اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ وہ اس فنڈز کی تقسیم کا ازخود نوٹس لیں۔ مانا کہ قاضی کو شہر بھر کا اندیشہ ہوتا ہے، لیکن کس کس کے آنسو پونچھیں گے جناب چیف جسٹس، بقول کسے یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، اگر ملک کی قیادت اپنے خویشوں رشتہ داروں کی تجوریاں بھر کر یا ان کو بڑے بڑے عہدوں اور وزارتوں سے نواز کر 22کروڑ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈال سکتی ہے تو کونسی قیامت آگئی، اگر صوبائی حکومت کے کلچر ڈیپارٹمنٹ والوں نے اپنے رشتہ داروں کو ثقافت کا زندہ امین بنا کر ان کی جیبیں گرم کر لیں تو، کیا آپ نے ہندکو کی یہ مہتل نہیں سنی کہ ’’انا ونڈے ریوڑھیاں تے مڑ مڑ اپڑے ول‘‘ جب اندھا ریوڑھیاں بانٹتا ہے تو پہلے اپنا خیال رکھتا ہے اور رکھے بھی کیوں نہ اندھا جو ٹھہرا، اور آپ نے یہ بات کیوں نہیں سنی کہ اول خویش بعد درویش۔ کیا قیامت آگئی فنکار دوستو، کرلی اقربا پروری اگر کسی نے۔آہ کہ

اب ہم بھی سوچتے ہیں کہ بازار گرم ہے

اپنا ضمیر بیچ کے دنیا خرید لیں

متعلقہ خبریں