مشرقیات

مشرقیات

ابن مبارکؒ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ بن مریمؑ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے آپ کو میرے سامنے غمگین رکھو اور اپنی آخرت کیلئے مجھے ذخیرہ بناؤ۔ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرو۔ میں تمہیں اپنے قریب کر لوں گا، مجھ ہی پر بھروسہ کرو، میں تمہاری کفایت کروں گا۔ میرے علاوہ کسی اور سے دوستی نہ لگانا، ورنہ میں تجھے رسوا کر دوں گا۔ مصیبتوں پر صبر کرتے رہنا، تقدیر پر راضی رہنا، میری چاہت وخوشی کے مطابق بن جانا۔ میری چاہت وخوشی یہ ہے کہ میری اطاعت ہو، نافرمانی نہ ہو، مجھ سے قریب رہو، اپنی زبان کو میرے ذکر سے زندہ رکھو، تیرا دل میری محبت سے لبریز ہو، غفلت کے اوقات میں بھی میرے سامنے ہوشیار رہو، مجھ سے ڈرتے رہو، اُمید لگائے رکھو! اور اپنے دل کو خشیت سے ماردو! میری خوشنودی حاصل کرنے کیلئے راتوں کو بیدار رہو، اس روز کی تیاری کیلئے جس میں، میں جزا سزا دوں گا، دن بھر میرے لئے روزہ رکھو، نیک کاموں میں اپنی استعداد کے مطابق بڑھتے رہو، مخلوق میں میرا عدل قائم رکھو، میری خیرخواہی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے درمیان فیصلہ کرو، میں نے تجھ پر شیطانی امراض اور قلبی وسوسے سے شفا کی چیز اتار دی ہے جو نگاہوں کوجلا بخشتی ہے، تنگی وپریشانی کو دور کرتی ہے اور ایک جگہ بند ہو کر نہ بیٹھو۔ ورنہ تو تمہاری مثال اس شخص کی سی ہوگی جو قبر میں زندہ پڑا ہوا سانس لے رہا ہو۔ میں تجھے کھلی کھلی صاف باتیں بتا رہا ہوں، جو بھی قوم مجھ پر ایمان لائی اس نے میرے سامنے عاجزی اختیار کی اور جس نے میرے سامنے عاجزی وانکساری اختیار کی، وہ میرے اجر وثواب کی اُمیدوار ہوئی۔ میں تجھے گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ایسے لوگ جب تک میرے طریقے میں تغیر کو تبدیل نہ کریں، وہ میرے عتاب وپکڑ سے مامون ہیں۔ میں تیری آنکھوں میں غم وحزن بھروں گا، جب باطل پرست لوگ ہنسی مذاق میں مصروف ہوں تو اس وقت آخر ت کی ہولناکیاں سختیاں اور ان مصائب سے ڈر جو آنے والے ہیں، جس وقت نہ کوئی مال کام آئے گا نہ اہل واولاد۔ دنیا میں اپنے آپ پر اس شخص کی طرح روتے رہو جس کے تمام اہل وعیال ختم ہو چکے ہوں اور دنیا اس سے جاتی رہی ہو اور اس نے خواہشات کو دنیا والوں ہی کیلئے چھوڑ دیا ہو اور اس کی نظریں صرف ان چیزوں پر لگی ہوئی ہوں، جو خدا کے ہاں (اپنے بندوں کیلئے) ہیں اور اجروثواب کی امید لگائے اس پر جمے رہو، صابرین کیلئے میں نے جن چیزوں کا وعدہ کر رکھا ہے، اگر وہ تجھے مل جائیں تو تمہارے لئے بہت بڑی بشارت ہے۔ دنیا میں تو دن بدن اُمیدیں لگائے رکھو اور اس میں قوت لایموت پر راضی رہو، سادگی پر اکتفا کئے رہو اور اسے کم ہی استعمال کرو، جو تم استعمال کر چکے ہو اس کا ذائقہ کہاں باقی رہا اور جو تجھے نہیں ملے گا اس کی لذت کہاں سے حاصل ہوگی۔ اگر تم ان نعمتوں کو دیکھ لو جو میں نے اپنے دوستوں کیلئے تیار کر رکھی ہیں تو ان کے حصول کے شوق اور خوشی میں تمہارا دل پگھل جائے اور تمہاری جان نکل جائے۔ (کتاب الزہد)

اداریہ