Daily Mashriq

ایم ٹی آئی ایکٹ پر نظر ثانی کی ضرورت

ایم ٹی آئی ایکٹ پر نظر ثانی کی ضرورت

حکومت اور ڈاکٹروں کے درمیان حالیہ تنازعہ، افسوسناک واقعے اور احتجاج کا پس منظر اگر تلاش کیا جائے تو اس صورتحال کی پیدائش کی کوکھ ایم ٹی آئی ہی قرار پائے گی۔صوبے کے تدریسی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کو ابتداء ہی سے ہسپتالوں کی خود مختاری پر تحفظات تھے ڈاکٹر برادری ایم ٹی آئی ایکٹ کو ایک عاجلانہ دستاویز قرار دیتی رہی ہے جس میں پیشہ وارانہ امور کی تکنیکی باریکیوںاوربڑے ہسپتالوں کو چلانے کیلئے ضروری امور کا خیال نہیں رکھا گیا یہ پشاور کے بڑے ہسپتالوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی ایک ایسی کوشش تھی جس کے اثرات اب سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔سینئر ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تدریسی ہسپتالوں کو خود مختاری دینے اور بورڈ آف گورنرز کے ماتحت کرنے کے بعد اگر میرٹ پر تقرریاں ہوتیں تو صورتحال خراب نہ ہوتی۔ ان ہسپتالوں میںتقرریوں کا معیار بورڈ آف گورنر کے منظور نظر ہونا ہی معیار رہا۔ بورڈ آف گورنرز میں پیشہ وارانہ مہارت رکھنے والے افراد کی بجائے اشرافیہ کے نمائندے شامل کئے گئے جن کا شعبہ طب سے دور دور کا بھی واسطہ نہ تھا ہسپتال کا انتظام چند نا تجربہ کار ایم بی اے افراد کے حوالے کیا گیا جس کے باعث ہسپتال کا داخلی ومعالجاتی نظام بگڑتا گیا اور نوبت آپریشن تھیٹرز کی بندش تک آگئی۔ اس وقت صورتحال یہ ہوگئی ہے کہتنخواہوں کی ادائیگی مشکل ہوگئی ہے دیگر ہسپتالوں میں بھی صورتحال اچھی نہیں محکمہ خزانہ کی جانب سے ایم ٹی آئی ہسپتالوں کو رواں مالی سال کے بجٹ کی آخری قسط تاحال ادانہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے ہسپتالوں کو اپنے امور چلانے میں شدید نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے فنڈز کی کمی کے باعث گزشتہ ماہ خلیفہ گل نواز میڈیکل کمپلیکس اور اس کیساتھ منسلک میڈیکل کالج اور وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال میں مالی بحران کے پیش نظر تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا پہلے ہی سے تھا لیکن اب خیبر گرلز میڈیکل کالج سمیت تقریباً تمام ایم ٹی آئی ہسپتالوں اور انکے ساتھ منسلک اداروں کو بھی چوتھی قسط کے جاری نہ ہونے کے باعث تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات کی شکایات ہیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو بھی کم ازکم4ارب روپے درکار ہیں۔ تشویش کی بات صرف یہی نہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاکٹروں کو اس سے بھی زیادہ مشکلات کا سامنا ہے خیبرمیڈیکل کالج کی خاتون پروفیسر کو2017میں ریٹائرمنٹ کے باوجود تاحال پنشن ادانہ کرنے پر عدالت سے رجوع کرلی ہے ان کا موقف ہے کہ وہ گریڈ 20میں خیبرمیڈیکل کالج سے2017میں ریٹائرڈ ہوئیں تاہم ایم ٹی آئی ایکٹ کی وجہ سے تاحال انہیں پنشن ادا نہیں کی جارہی اوردردرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے وہ جس دفتر میں بھی جاتی ہیں انہیں ایم ٹی آئی کے پاس بھجوادیاجاتاہے جبکہ ایم ٹی آئی کا موقف ہے کہ پنشن دینا ان کا کام نہیں۔ڈاکٹروں کو اس امر پر تحفظات ہیں کہ حکومت ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت ریجنل ہیلتھ اتھارٹی اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے ذریعے ڈاکٹروں کو تنگ کر رہی ہے۔ہسپتالوں کی نجکاری کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھنے سے یہی بات سامنے آئی ہے کہ نہ صرف ایم ٹی آئی ایکٹ میں خامیاں ہیں بلکہ اس میں پنشن اور مالیاتی امور جیسے اہم کام کا تعین ہی نہیں بورڈ آف گورنرز میں اگر پیشہ وارانہ ماہرین شامل ہوئے تو سامنے آنے والے مسائل پر پیشگی غور یا پھر موقع پر اس حوالے سے راہ نکالنے اور حکومت سے معاملات کے حل کیلئے رجوع کر لیتے ایسا نہ ہونے کے نتائج جہاں مختلف صورتوں میں سامنے آنے لگے ہیں وہاں ہسپتالوں کا نظام بگڑ رہا ہے۔ہسپتالوں میں طبی وتدریسی تقرریوں میں جونئیر ڈاکٹروں کو سینئرز پر خلاف میرٹ ترجیح کے بعد سینئرڈاکٹروں کو ملازمت سے دلچسپی نہیں رہی جس کے باعث ہسپتالوں میںعلاج معالجہ کا نظام متاثر ہونا فطری امر ہے یہ ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز اور ڈاکٹروں کے درمیان بعد اور عدم ہم آہنگی ہی کا سبب ہے جو ایک بڑے تنازے کی صورت میں حکومت اور عوام دونوں کیلئے سخت مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے فی الوقت احتجاج کے پہلے مرحلے میں ڈاکٹر بظاہر احتجاج اور ہڑتال پر ہونے کے باوجود بھی کسی نہ کسی طرح داخل مریضوں کے علاج کی صورت نکال لیتے ہیں اوپی ڈیز بند ہونے کے باعث مزید مریضوں کا معائنہ علاج اور داخلے کاسلسلہ رک چکا ہے احتجاج کا سلسلہ پھیل رہا ہے اور نجی کلینک اور ہسپتالیں بھی بند کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیںیہ صورت خطرناک ہوگی۔ حکومت کو بنیادی عوامل اور وجوہات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جو بڑھتے بڑھتے آتش فشان کا روپ دھار گئے اور اچانک ایک واقعے سے لاوا ابل پڑا۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ حکومت ایم ٹی آئی ایکٹ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لے گی اور نہ صرف قانونی سقم دور کیا جائے گا بلکہ ڈاکٹروں کے تحفظات بھی دور ہوں گے۔ خلاف میرٹ تقرریوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کیلئے ڈاکٹروں کو احتجاج اور عدالت سے رجوع کرنے کی نوبت نہ آئے گی۔عوام علاج معالجے کی بہتر صورت اسی وقت ہی میسر آسکے گی جب ہسپتالوں کا نظام مربوط ہوگا اور ڈاکٹربرادری مطمئن

متعلقہ خبریں