Daily Mashriq

ملک احتجاج کا متحمل نہیں ہوسکتا

ملک احتجاج کا متحمل نہیں ہوسکتا

کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف نے ڈالر کی قیمت میں روز افزوں اضافہ اور مہنگائی کے خلاف عیدالفطر کے بعد مسلم لیگ(ن) کو احتجاج کی ہدایت کر دی ہے ۔ سابق صدر اور نیب کی پیشیاں بھگتنے والے شریک چیئرمین پی پی پی آصف علی زرداری نے بھی پیشی بھگت کر واپسی کے وقت میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت کیخلاف احتجاج کا عندیہ دے دیا ہے۔ ملک کی دو بڑی جماعتوں کی طرف سے احتجاج کا عندیہ ایک ایسے وقت میں دیا جارہا ہے جب ملکی معیشت کی صورتحال دگرگوں ہے بنا بریں ان جماعتوں کے قائدین کو یقین ہوگا کہ عوام ان کی کال پر سڑکوں پر نکلیں گے۔ جے یو آئی(ف) جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی اور قومی وطن پارٹی سمیت دیگر وہ سیاسی جماعتیں جو حکومت میں شامل نہیں ان کا بھی اس اقدام کی حمایت کا امکان اس لئے ہے کہ میڈیا پر ان کی جانب سے بھی تندوتیز بیانات سامنے آرہے ہیں پنجاب میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے معاملے پر حکمران اتحادی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی نہیں رہی یہ تمام صورتحال لوہا گرم ہے کے مصداق تو ضرور ہے لیکن کیا ان عناصر نے اس امر کا بھی کبھی سوچا ہے کہ ان کے احتجاج سے ڈوبتی معیشت پر مزید کتنا برا اثر پڑے گا اور خدانخواستہ رہی سہی کسر بھی پوری ہوگی ہم سمجھتے ہیں کہ پرامن احتجاج حزب اختلاف کی جماعتوں کا حق ہے اس حق کا استعمال کرنے پر ملک وقوم کو جو نقصان ہوگا اس ممکنہ احتجاج سے سٹاک مارکیٹ خدانخواستہ مزیدکریش کرنے ڈالر کی قیمت میں اور اضافے اور مہنگائی مزید بڑھنے کے جو خدشات ہیں وہ تقریباً یقینی ہیں ان حالات میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین کو خود سوچنا چاہیئے کہ وہ حکومت پر دبائو ڈالنے اور سیاسی مخالفت میں ملک وقوم کے کس قدر نقصان کا باعث بنیں گے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ قومی طور پر یکجہتی کے ساتھ اور سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کو اس سنگین صورتحال سے نکالنے کی جدوجہد کی ضرورت ہے نہ کہ باہم مخاصمتیںبڑھا کر صورتحال کو اور گھمبیربنادیا جائے۔

تجاوزات کے خلاف بھر پور مہم کی ضرورت

اندرون شہرسمیت مختلف علاقوںمیں غیرقانونی تعمیرات کاسلسلہ بدستوری جاری ہے۔ ضلع ناظم بلڈنگ کنٹرول ایجنسی کو غیرقانونی تعمیرات کرنے والوںکیخلاف سخت کارروائی کرنے کے احکامات جاری کرتے ہیں لیکن ان کے احکامات پرکوئی عملدر آمدنہیں ہوتاجسکی وجہ سے شہرمیں غیرقانونی تعمیرات میں اضافہ ہورہاہے۔ تجاوزات قائم کرنے والے ملی بھگت سیاسی اثرورسوخ رشوت وسفارش جیسے سہاروں کے ذریعے جب ایک مرتبہ تجاوزات قائم کر لیتے ہیں تو ان کو ہٹانا اور ان کے خلاف کارروائی کافی مشکل ہوجاتی ہے ماضی میں خود ضلع وٹائون ناظمین پر تجاوزات کرنے والوں کی سر پرستی کاالزام رہا ہے شہر میں تجاوزات نہ صرف موجود ہیں بلکہ اس میں اضافہ بھی ہورہا ہے لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ کم از کم ضلع ناظم اپنے پنشنروں کی طرح ان تجاوزات کی سرپرستی نہیں کرتے اور وہ ان کو ہٹانے کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایات بھی جاری کرتے ہیں جن پر عملدرآمد کا مسئلہ ہے ضلع ناظم کو اس حکم عدولی پر نہ صرف متعلقہ حکام کی خود سرزنش کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اس ضمن میں وزیراعلیٰ اور وزیر بلدیات کے علم میں لا کر متعلقہ عناصر کے خلاف تا دیبی کارروائی کی سفارش بھی کرنی چاہیئے۔شہر کو تجاوزات سے پاک کرنا یقیناً جوئے شیر لانے کے مترادف ہے جس کیلئے گورنر فضل حق مرحوم،گورنر افتخار حسین شاہ اور ملک سعد جیسے باعزم ایڈمنسٹریٹر کی ضرورت ہے حکومت چاہے تو کوئی وجہ نہیں کہ شہر سے تجاوزات کا خاتمہ نہ کیا جاسکے۔اس امر کو بھی تسلیم نہ کرنا حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا کہ تحریک انصاف کے گزشتہ دور حکومت میں تجاوزات کے خلاف سنجیدہ اقدامات کئے گئے مگر اس کا تسلسل جاری نہ رکھنے سے تجاوزات دوبارہ قائم کردیئے گئے شہری بجا طور پر توقع رکھتے ہیں کہ شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے کیلئے عیدالفطر کے بعد نظر آنے والے اقدامات کئے جائیں گے۔

مرض بڑھتا گیا جوں جوںدواکی

سات سے زائد مرتبہ پولیو کے حفاظتی قطرے پینے کے باوجود شمالی وزیرستان میں تین سالہ بچی پولیو وائرس کا شکارہونا تشویشناک امر ہے جس سے پولیو کے قطروں کے غیر موثر ہونے اور ویکسین کے ممکنہ طور پر زائدالمیعاد یا غیر محفوظ طور پر رکھنے کا گمان ہوتا ہے جوں جوں پولیو کے خلاف مہم تیز اور پانچ سال سے زائد عمر کے بچوں کو بھی پولیو کے قطرے پلانے کی مہم چلائی گئی اس کے ساتھ آئے روز نئے کیسز کا سامنے آنا پولیو مہم کی ناکامی ہے ماہرین کو اس کی وجوہات کا عرق ریزی سے جائزہ لینے اور اس کی روشنی میں مئوثر اقدامات میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیئے۔

متعلقہ خبریں