Daily Mashriq


ڈوبتی معیشت کے دو سہارے

ڈوبتی معیشت کے دو سہارے

اس ہفتے ایک مرتبہ پھر ہم نے انہی دو اجزائے ترکیبی سے اپنی ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کا فیصلہ کیا ہے جو تقریباً ایک دہائی سے ہماری معاشی مینجمنٹ کا کل سہارا رہے ہیں۔ اس وقت بھی ہم نے معیشت کو جن دو ناتواں ٹانگوں پر کھڑا کرنے کی سعی کی ہے ان میں سے ایک ایف بی آر کے نئے سربراہ کی حمایت یافتہ ایمنسٹی اسکیم ہے اور دوسرا وہ آ ئی ایم ایف پیکج ہے جسے ہمارے نئے وزیر خزانہ نے آتے ساتھ ہی حتمی شکل دی ہے۔دوسری جانب قومی اداروں کو بیرونی مفادات کی حامل طاقتوں کو سونپنے کی بھی مکمل تیاری دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس کا آغاز بھی رواں ہفتے پاکستان کے مرکزی بینک کو اس کے بین الاقوامی ساہوکاروں کے نمائندے اور ایف بی آر کو ایک بڑے اور طاقتور کاروباری کے حوالے کرکے کر دیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے نئے سربراہ کے طور پر آنے والے شبر زیدی کا پورا کیریئر ہی بڑے بڑے کاروباری افراد کوٹیکس قوانین سے بچانے اور قومی اداروں کی پکڑ سے محفوظ رکھنے پر محیط ہے۔گو کہ اس عہدے کا ماضی میں نہایت ناجائز فائدہ اُٹھایا جاتا رہا ہے مگر اب سوال یہ ہے کہ شبر زیدی صاحب کے ذہن میں ایسا کیا لائحہ عمل ہے جس سے وہ اس ملک کی اشرفیہ کو ٹیکس نیٹ میں آنے پر قائل کریں گے؟ وہ ایک ٹیکس ایمنسٹی اسکیم لے کر آر ہے ہیں جو کم و بیش اسی طرز پر تشکیل دی گئی ہے جیسی کہ پچھلے برس گرمیوں میں لاگو کی گئی تھی۔شاید ان کے نزدیک یہ ایک مؤثر ترکیب ہو۔مگر حیرت انگیز طور پر پچھلی اسکیم کو بھی رائج کراوانے میں شبر زیدی کا ایک کلیدی کردار تھا ۔بلکہ ماضی میں بھی جب جب ایسے کوئی بھی ایمنسٹی اسکیم ملک میں رائج ہوئی، اس کے حمایتیوںمیں ایف بی آر کے موجودہ سربراہ سر فہرست رہے ہیں۔ ایمنسٹی اسکیم کے شور و غوغے سے متاثر ہونے کی بجائے یہاں ایک غلط فہمی درست کر لینا ضروری ہے کہ اس کا اصل مقصد غیر دستاویزی دولت کو ریکارڈ کا حصہ بنانا نہیں بلکہ قومی خزانے میں صرف کچھ روپے جمع کرنا ہے۔ہمارے ہاں ماضی میں بھی رائج اسکیموں کا اصل مقصد یہی تھا کہ دگر گوں معیشت کو کچھ سہارا دینے کی خاطر چند ارب اکٹھے کر لیے جائیں۔ تازہ سکیم کو بھی متعارف کراتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے اس سے تین سو ارب اکٹھے ہونے کی اُمید ظاہر کی تھی۔ حکومت چاہتی ہے کہ اس سکیم سے کم از کم اتنی رقم اکٹھی ہوجائے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پہلے سال کے لیے عائد کردہ حکومتی آمدنی کا ہدف حاصل کیا جا سکے گا۔اس ضمن میں دوسری اہم بات یہ کہ آئی ایم ایف کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ اعلامیے میں چند نہایت دلچسپ اور غور طلب نکات موجود ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان اگلے مالی سال کے اختتام سے پہلے جی۔ڈی۔پی کے بنیادی خسارے میں 0.6 فیصد کمی لے کر آئے گی۔ اس شرط سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمیں قرض دینے والے ہم سے کس قسم کے اقدامات کی توقع کیے بیٹھے ہیں۔ گزشتہ برس یہخسارہ تقریباً 2.2 فیصد تھا اور رواں سال کا تخمینہ لگانا ابھی ناممکن ہے۔ اس کے بغیر ابھی ہم ٹھیک طرح سے یہ معلوم نہیں کر سکتے کہ حکومت ہم پر کتنے مزید ٹیکس عائد کرنے جا ری ہے۔ البتہ آئی ایم ایف کی جانب سے ایک طے شدہ عدد کا دیا جانا کافی معنی خیز ہے۔ اس کے علاوہ اعلامیے میں یہ بھی درج ہے کہ حکومت پاکستان نے معیشت کی بحالی کے لیے چند مشکل مگر ناگزیر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے جس کا سیدھا سیدھا مطلب یہی ہے کہ ابھی عوام کو مزید مشکل حالات کاسامناکرنا پڑے گا۔ اعلامیے کے مطابق اس پروگرام کی تکمیل کا دارومدار اس کے بین الاقوامی پارٹنرز اور ان کے مابین طے شدہ شرائط اور اقدامات کے پورا ہونے پر منحصر قرار دیا گیاہے جبکہ اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ بین الاقوامی پارٹنر کون ہیں اوروہ کون سی شرائط ہیں جن سے اس پروگرام کو نتھی کیا جا رہا ہے۔ گوکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان شرائط اور اقدمات کا اشارہ بجٹ میں لیے جانے والے سخت فیصلوں کی طرف ہے جس میں پیسے اکھٹے کرنے اور اپنے خرچے کم کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ممکنہ طور پر مذکورہ بین الاقوامی پارٹنرز سے مرادعالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے دوست ممالک چین اور سعودی عرب ہمارے مالی ذخائر کو برقرا ر کھنے کے لیے دیے جانے والے قرضے کی میعاد میں سال 2020 تک کی توسیع کرنے کی تحریری یقین دہانی کرائیں گے۔ مزید بر آں اس قرض کی ایک اور شرط یہ ہے کہ پاکستان توانائی کے شعبے میں ہونے والے خسارے کو کم کرے گا اور اپنے تمام واجبات کی وصولی یقینی بنائے گا وگرنہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ خسارہ تمام صارفین کے بلوں پر تقسیم کر کے پورا کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف نے صوبوں کے بارے میں واضح کیا ہے کہ وہ ’عہد‘ کرتے ہیں کہ وہ اپنے معاشی اہداف اور پالیسیوں کی وفاق کے واضح کردہ اہداف سے مطابقت یقینی بنائیں گے ۔ مزید بر آں آئندہ سال کے این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بھی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ موجودہ ضوابط پر نظر ثانی کرے گی۔ اعلامیے میں استعمال کی گئی زبان کا لہجہ یہ واضح کر رہا ہے کہ حکومت پاکستان کو اس پیکچ کے حصول کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہی پڑیں گے ۔ اور آئی ایم ایف کی خواہش ہے کہ صوبوں کے این ایف سی ایوارڈ بھی واپس لینے پر غور کیا جائے۔گوکہ صوبائی حکومتیں اس معاہدے کی دستخطی نہیں ہیں اور اس لیے وہ کسی بھی طرح ان شرائط کو ماننے کی پابند نہیں مگر دلچسپ امر یہ ہے کہ اس معاہدے کے طے ہونے کے اگلے ہی روز مشرف دور میںشہرت پانے والے ڈاکٹر سلمان شاہ کی وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر خاص کے طور پر تقرری خاص معنی خیز معلوم ہوتی ہے۔

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں